حکومت اور اپوزیشن میں جسٹس طارق پرویز کو نیا چیف الیکشن کمیشنر بنانے پر اتفاق

حکومت اور اپوزیشن میں جسٹس طارق پرویز کو نیا چیف الیکشن کمیشنر بنانے پر ...

  

             اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) چیف الیکشن کمشنر کے لئے نامزد امیدوار جسٹس (ر)طارق پرویز کا کہنا ہے کہ انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کی کوئی پیش کش نہیں ہوئی۔حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے جسٹس (ر) رانا بھگوان اور سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر بننے سے معذرت کے بعد جسٹس (ر) طارق پرویز اس عہدے کے لئے مضبوط امیدوار بن چکے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایسی کوئی پیش کش نہیں کی اور اگر مستقبل قریب میں ایسی کوئی پیش کش ہوئی تو مشاورت کے بعد فیصلہ کروں گا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 13 نومبر تک حکومت کو مستقل چیف الیکشن کمشنر کے تقررکی ہدایت کی تھی جب کہ اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے اس عہدے کے لئے آنے والے 2 امیدواروں نے عہدہ قبول کرنے سے معذرت کرلی ہے۔

اسلام آباد)خصوصی رپورٹ (حکومت اور اپوزیشن میں جسٹس طارق پرویز کو نیا چیف الیکشن کمشنر بنانے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔پارلیمانی کمیٹی کو ان کا نام بھجوانے سے پہلے ان کی رضامندی معلوم کی جائے گی۔ حکومت اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے مشاورتی عمل جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کو ٹیلے فون کیا اور جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی کی چیف الیکشن کمشنر بننے سے معذرت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر مشاورت کی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے اب پشاور ہائی کورٹ کےسابق چیف جسٹس طارق پرویز کو سب سے موزوں امیدوار خیال کیا گیا ہے تاہم دونوں رہنماﺅں نے اتفاق کیا کہ ان کا نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوانے سے پہلے ان کی رائے معلوم کر لی جائے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے حتمی مشاورت کے لیے رات تک مہلت طلب کی ہے جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے لیے مجوزہ نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائے جانے کا امکان ہے۔ سید خورشید شاہ نے سینیٹر اعتزاز احسن اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کو بھی ٹیلے فون کر کے جسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز کے نام پر مشاورت کی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سے پہلے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت کے بعد جسٹس تصدق حسین جیلانی کے نام پر اتفاق ہوا تھا جبکہ سمری میں ان کےعلاوہ جسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز اور جسٹس ریٹائرڈ اجمل میاں کے نام بھی بھیجے جا رہے تھے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی پر اعتراض کر دیا جس کے بعد انہوں نے بھی یہ عہدہ لینے سے معذرت کر لی تھی۔ ذرائع کے مطابق سمری بھیجے جانے کی صورت میں پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ایک دو روز میں متوقع ہے۔ اس حوالے سے کمیٹی ارکان کو اسلام ا?باد میں ہی رہنے کا کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے حکومت کو 13نومبر تک مہلت دے رکھی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -