جس کمیشن کا نام ہی جوڈیشل کمیشن ہے اس میں کسی دوسرے ادارے کے لوگ کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟

جس کمیشن کا نام ہی جوڈیشل کمیشن ہے اس میں کسی دوسرے ادارے کے لوگ کیسے شامل ہو ...
جس کمیشن کا نام ہی جوڈیشل کمیشن ہے اس میں کسی دوسرے ادارے کے لوگ کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟

  

تجزیہ:- قدرت اللہ چودھری

           

اب جس کمیشن کا نام ہی جوڈیشل کمیشن ہے اس میں ”ایکسٹرا جوڈیشل“ حضرات کیسے شامل کئے جا سکتے ہیں؟ لیکن کپتان تو کپتان ہوتا ہے اسے یہ مطالبہ کرنے سے تو نہیں روکا جا سکتا تھا کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن میں آرمی انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کو بھی نمائندگی دی جائے۔ ویسے تو اچھا ہوا حکومت نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا، مطالبہ ماننے کی صورت میں کم از کم کمیشن کا نام تبدیل کرنا پڑتا اور مناسب نام ہوتا ”جوڈیشل اینڈ انٹیلی جنس کمیشن “ یہ تجویز سامنے آنے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، تحریک انصاف کی خاتون رہنما شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ یہ تجویز تو (تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے دوران) حکومت نے پیش کی تھی، خود عمران خان کا کہنا ہے حکومت کے ساتھ جوڈیشل کمیشن بنانے اور ایجنسیوں(آرمی انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی) سے معاونت کا طے ہوا تھا، دھاندلی کی تحقیقات ڈیڑھ ماہ تک مکمل کرنے کا بھی فیصلہ ہوا تھا ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ یو ٹرن لیا، اس بات سے قطع نظر کہ ان کی اپنی جماعت کے ایم این اے عارف علوی کا کہنا ہے کہ ایم آئی، آئی ایس آئی کو شامل کرنے کے لئے معاہدہ نہیں ہوا تھا، اب اس الگ الگ خبر پر کیا رائے زنی کی جائے؟ عمران خان کہتے ہیں معاہدہ ہو گیا تھا، عارف علوی کہتے ہیں کہ معاہدہ نہیں ہوا تھا، چلئے کپتان کی بات مان لیتے ہیں اگر معاہدہ ہو گیا تھا فریقین نے اس پر دستخط کیوں نہ کر دیئے تاکہ دونوں ان سب باتوں کے پابند ہو جاتے جو طے ہو گئی تھیں، لیکن یہاں تو معاملہ یہ تھا کہ چند روز تک بات چیت ہوتی، پھر یہ سلسلہ ٹو ٹ جاتا، تعطل کا ایک وقفہ آتا دوبارہ مذاکرات شروع ہوتے پھر کسی نہ کسی بات پر ٹوٹ جاتے، یہ مذاکرات کئی بار ٹوٹے اور کئی بار جڑے، ایک طرف مذاکرات ہو رہے ہوتے اور دوسری طرف کپتان کنٹینر سے اعلان کر رہے ہوتے کہ مذاکرات ہوتے رہیں ”میںوزیر اعظم کا استعفا لئے بغیر یہاں سے نہیں ہٹوں گا“ اب کوئی بتلائے کہ ایسے مذاکرات کی کیا اہمیت اور حیثیت تھی جن کا مضحکہ روز اڑایا جا رہا تھا اور ان میں طے شدہ باتوں کو کوئی کیا نام دے؟ اگر طے شدہ باتیں کوئی وزن رکھتی تھیں تو پھر معاہدے میں کیا رکاوٹ تھی، لگتا تو یہ تھا کہ بات ہیر پھیر کر استعفے کے نکتے پر آ کر اٹک جاتی ہے، یو ٹرن تو کپتان نے اب کہیں جا کر رحیم یار خان میں لیا ہے جہاں انہوں نے کہا کہ جو ڈیشل کمیشن تحقیقات کرے، اس وقت تک وزیر اعظم مستعفی ہوں نہ ہم دھرنا ختم کریں گے، لیکن اگر دھاندلی ثابت ہو جائے تو پھر وزیر اعظم کو استعفا دینا ہو گا۔قبل ازیں وہ استعفا تحقیقات سے پہلے مانگتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے منصفانہ تحقیقات ہو ہی نہیں سکتیں۔ سوال ہے کہ کیا اب ہو جائیں گی؟ یا ان کی ماہیت قلب ہو گئی ہے۔

جہاں تک جوڈیشل کمیشن کا تعلق ہے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کو ایک خط وزیر اعظم نواز شریف نے 12اگست کو ہی لکھ دیا تھا۔ لیکن ابھی تک کمیشن تشکیل نہیں ہوا۔ غالباً اس کی راہ میں بھی قانونی رکاوٹیں ہوں گی۔ سوال یہ بھی پیدا ہو گا کہ آئین کے آرٹیکل 225میں انتخابی دھاندلی کے خلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کا جو راستہ ہے اس کا کیا بنے گا، آئین کے اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ”کسی ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی کے انتخاب پر اعتراض نہیں کیا جائیگا ماسوائے ایک انتخابی عذر داری کے ذریعے جو کسی ایسے ٹربیونل کے روبرو اور اس طریقہ سے پیش کی گئی ہو جسے (مجلس شوریٰ ، پارلیمنٹ) کے قانون کے ذریعے متعین کیا جا سکتا ہو۔“

اب سوال یہ ہے کہ کیا آئین کے اس آرٹیکل کے ہوتے ہوئے جس کے الفاظ ”کسی ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی کے انتخاب پر اعتراض نہیں کیا جائیگا ماسوائے ایک انتخابی عذر داری کے ذریعے “واضح ہیں کیا کوئی جوڈیشل کمیشن تشکیل پا سکتا ہے۔ اس بارے میں بہرحال سپریم کورٹ کی رائے حتمی ہو گی۔

تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان جو معاملات طے ہو گئے تھے وہ اگر حتمی شکل پا گئے ہوتے تو فریقین ان کے پابند ہو سکتے تھے۔ لیکن جب مذاکرات تڑک کر کے ٹوٹ گئے تو طے شدہ باتوں کی بھی ٹوٹے ہوئے پیمانوں سے زیادہ اہمیت نہیں رہ جاتی اب تو دوبارہ مذاکرات کر کے کسی نتیجے پر پہنچنا ہو گا ورنہ معاملہ اسی طرح لٹکا رہے گا۔ پھر جو باتیں معاہدے میں طے ہونا تھیں ان کی توثیق بھی پارلیمنٹ سے ضروری تھی، انتخابی اصلاحات کی جو کمیٹی بنی ہوئی ہے اس میں تحریک انصاف کے بھی تین ارکان تھے۔ لیکن وہ ان میں شریک نہیں ہو رہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین نے بعض دلچسپ باتیں بھی کی ہیں ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی ان سے رابطہ کر رہے ہیں کس لئے ؟ یہ انہوں نے نہیں بتایا، ویسے سوال یہ ہے کہ انہوں نے خود تو قومی اسمبلی سے استعفے دے رکھے ہیں ، وہ اسمبلی کو جعلی اور سپیکر کو بھی جعلی قرار دیتے ہیں،ایسی صورت میں جب وہ اسمبلی کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے نواز شریف کی پارٹی کے ارکان ان کے کس کام کے؟اسمبلی میں ہوں تو کسی کام بھی آئیں۔

جوڈیشل کمیشن

مزید :

تجزیہ -