میرا نام سردار ذوالفقار علی کھوسہ ہے

میرا نام سردار ذوالفقار علی کھوسہ ہے

 بزرگ مسلم لیگی سیاست دان ذوالفقار کھوسہ سے ہماری زیادہ ملاقات نہیں ہے، یاد اللہ کا دعویٰ تو بہت دور کی بات ہے شاید ذوالفقار کھوسہ ہمارے نام کام سے بھی واقف نہ ہوں، یہ تمہید اس لئے باندھی ہے کہ تین چار سال پہلے90 شاہراہ قائداعظم پر ذوالفقار کھوسہ کی پریس کانفرنس کی کوریج کا موقعہ ملا، سوال و جواب شروع ہوئے تو ایک صحافی نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے جب کہا کہ کھوسہ صاحب ، یہ بتائیے۔۔۔سوال بیچ میں ہی رہ گیا اور ذوالفقار کھوسہ صاحب نے صحافی کو وہیں ٹوکا اور واشگاف انداز میں کہاکہ میرا نام سردار ذوالفقار علی کھوسہ ہے ، میرا پورا نام لیجئے، ان کی اس انوکھی خواہش کو سن کر بہت سے صحافیوں کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ دوڑ گئی اور متذکرہ صحافی صاحب کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ان کا پورا نام سردار ذوالفقار علی کھوسہ ادا کرکے سوال کرے! یہ واقعہ اس لئے یاد آیا کہ کھوسہ صاحب (اگر انہیں محسوس ہو کہ ان کا پورا نام نہیں لیا گیا توپیشگی معذرت ) ان دنوں مختلف ٹی وی چینلوں پر بیٹھے فرما رہے ہیں کہ پہلے تو میاں نواز شریف کی گردن میں سریا تھا ، اب گاڈر ہے اور پھر اس کے بعد شکایات کا ایک دفتر کھل جاتا ہے اور کہنا بیٹی کو اور سمجھانا بہو کے مصداق وہ ٹی وی چینلوں کے اینکر پرسنوں سے یوں گلہ کرتے نظر آتے ہیں جیسے ان کے سامنے میاں نواز شریف کی فیملی کا کوئی ترجمان بیٹھا ہوا ہے! سوال یہ ہے کہ جن کو میاں نواز شریف کی گردن کا سریا گاڈر بنتا دکھائی دے رہا ہے انہیں اپنی گردن میں پڑا لینٹر کیوں نظر نہیں آرہا ،جواتنی سی بات پر گرمی کھا جاتے ہیں کہ ان کے نام سے ساتھ سردار کا سابقہ کیوں استعمال نہیں کیا گیا، یقین جانئے اس پریس کانفرنس کے بعد ہمارا تاثر یہ تھا کہ ہم مغلیہ دور میں کسی ریاست کے والی کے دربار سے ہو کر آرہے ہیں جہاں آپ جناب ،عالی مرتبت اور حضور سرکار کہے بغیر بات نہیں ہو سکتی!۔۔۔تو جناب کھوسہ صاحب میاں صاحب کی گردن کا سریا یا گاڈر ناپنے سے پہلے اپنی گردن کے لینٹر کو بھی سہلا کر دیکھ لیجئے کہ تعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میں یہ تصویریں ہیں تری جنھیں سمجھا ہے برا تونے لیکن کیا کیجئے میڈیا کے کمنٹری باکسوں میں بیٹھے سیاست کے کھلاڑیوں کا جو اپنی ادھوری خواہش کو بھی پوری خبر بنانے میں جتے رہتے ہیں کہ انہوں نے سردار کھوسہ صاحب کی انٹی نواز گفتگو کو پہاڑ بنالیا اور لگے فارورڈ بلاک کی تکرار کرنے کہ شاید اِسی طرح کنٹینر پارٹی کی گرتی ہو ئی ساکھ کو سنبھالا دے سکیں ! اس سے پہلے بھی ہم نے دیکھا تھا کہ میڈیا کمنٹری باکسوں میں بیٹھے ان کمنٹیٹروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر عمران خان کی فرمائش پر فخرو بھائی کو چیف الیکشن کمیشن تعینات کروایا تھا لیکن بعد میں انہی نے عمران خان کے ساتھ مل کر فخرو بھائی کی وہ گت بنائی کہ بیچارے اسپتال پہنچ گئے ، اب انہی فنکاروں نے کھوسہ صاحب کو کندھوں پر اٹھا لیا ہے اور ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) اب ٹوٹی کہ اب ٹوٹی ، گویا کہ کھوسہ صاحب نہ ہوئے مسلم لیگ ( ن)کی کمر ہوگئے کہ ٹوٹ گئے تو پارٹی ٹوٹ جائے گی! یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی قیادت میاں نواز شریف سے مل رہی ہے جبکہ خود نون لیگ کا حال یہ ہے کہ اس کے ممبران قومی اسمبلی کھوسہ صاحب سے مل رہے ہیں کہ فارورڈ بلاک بناؤ تاکہ میاں صاحب ان کو بھی ملیں، ان کی بھی سنیں، یہ بودی دلیل کسی طوروزن نہیں رکھتی ! بوری بند ٹی وی اینکروں اور کھوسہ صاحب کو ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ میاں صاحب نے حالات سے کچھ سیکھا نہیں ہے ، لیکن کوئی بھی یہ بات کرنے کو تیار نہیں ہے کہ میاں صاحب نے حالات بنانے والوں کو کیا کچھ سکھایا ہے ، ہر کسی کو بس ایک ہی فکر ہے کہ میاں صاحب کچھ نہ کچھ سیکھ ضرور لیں، حالانکہ اگر ٹی وی اینکر پرسنز کھوسہ صاحب سے سنجیدہ ہوں تو ان کو مشورہ ضرور دیں کہ وہ اپنے دونوں بیٹوں یعنی دوست محمد کھوسہ اور سیف الدین کھوسہ کی نون لیگ سے بغاوت کی کوشش سے ضرور کوئی سبق سیکھیں وگرنہ لوگ یہ بات کہنے پر مجبور ہوں گے کہ باپ پر پوت ، پتا پر گھوڑا، بہتا نہیں پر تھوڑا تھوڑا!

مزید : کالم


loading...