سردی کا آغاز ہوتے ہی پرانے کپڑوں کے عارضی سٹالز سج گئے

سردی کا آغاز ہوتے ہی پرانے کپڑوں کے عارضی سٹالز سج گئے

لاہور ( وقائع نگار )صو بائی دارالحکو مت میں سردی کا آغاز ہونے کے ساتھ ہی پرانے کپڑوں کے عارضی سٹالز اور ریڑھیاں سج گئی ہیں ۔جہاں پر ہر طبقہ کے لو گوں نے رخ کر لیا ہے اور سستی و معیاری اشیاءکی خریداری کے لیے وقت کی پرواہ نہ کر تے ہوئے مگن دکھائی دینے لگے ہیں۔تاہم گزشتہ سال کی نسبت لنڈے کے پرانے کپڑوں کی قیمتو ں میںمو سم کے آغاز پر ہی اضافہ نے شہریو ں نے تشو یش کا اظہار کیا ہے ۔واضح رہے کہ لنڈا مارکیٹو ں میں گرم پرانے سو یٹر ، جر سیاں ، جرابیں ، ٹو پیاں، دستانے ،جیکٹس اور دیگر اشیاءکی خریداری کی وجہ ایک تو ریڈی میڈ کپڑو ں سے کئی گنا کم اور معیار بہتر ہونے کی وجہ سے شہری دلچسپی کا مظاہرہ کر تے ہیں جس کے باعث امیر لو گ بھی ایمپورٹڈ پرانے کپڑے خرید تے نظر آتے ہیں۔ لاہور میںپر چو ن کی سطح پر لنڈے کا سب سے بڑا کاروبارنو لکھا بازار و بوہڑ والا چوک ایمپرس روڈ میں ہو رہا ہے ۔جہاں پر واقع سی این جی پمپ کو لنڈے بازار کا روپ دے دیا گیا ہے جبکہ لنڈا فروش ریڑھی بانو ں اور صارفین کا رش اس قدر بڑھ چکا ہے کہ گاڑیو ں کا گزرنا محا ل اور ٹریفک کا اژد ھام ہو نے سے ٹر یفک کا جا م رہنا معمو ل بن چکا ہے ۔

 جس کے لیے ٹریفک وارڈن کو اپنے فرائض بخو بی سر انجام کر نے کی ضرورت ہے ۔شہریو ں کا کہنا ہے کہ مو سم میں تبد یلی کے ساتھ ہی تاجروں نے لنڈے کے کپڑوں کی قیمتیں گزشتہ سال کی نسبت بڑھادی ہیں جس پر چیک رکھنے کی ضرورت ہے ۔انھو ں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر لنڈے کے پرانے کپڑے نہ ہو تے تو مہنگائی کے اس دور میں غریب کے لیے تن ڈھاپنا مشکل ہو جاتا ۔

گرم کپڑے

مزید : علاقائی


loading...