45 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری قرضہ نہیں روکنے کی سازش نا کام بنائیگے احسن اقبال

45 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری قرضہ نہیں روکنے کی سازش نا کام بنائیگے احسن ...

  

  اسلام آباد(اے این این) منصوبہ بندی وترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ 45 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری قرضہ نہیں ہے، تمام بجلی گھر آئی پی پیز کی طرز پر لگیں گے، ہم صرف ان سے بجلی خریدیں گے ،15 ارب ڈالر سے ساڑھے دس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی، کراچی لاہور موٹروے اور شاہراہ قراقرم پر 6 ارب ڈالر خرچ ہوں گے ، ریلوے ٹریک بھی اپ گریڈ ہوگا، عمرا ن چین کیخلاف پروپیگنڈہ نہ کریں، قادری کی طرح دھرنا ختم کرکے پارلیمنٹ واپس آئیں، وہ 2023 تک وزیراعظم نہیں بن سکتے، چینی سرمایہ کاری روکنے کی سازش ناکام بنا دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی سہ پہر پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ راﺅ تحسین بھی انکے ہمراہ تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ چین کامیاب رہا اور19 سمجھوتوں پر دستخط ہوئے ۔ پاکستان کو ترقی کا یہ موقع پھر نہیں ملے گا۔ چین وسیع سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے۔ پاکستان ابتک جیو سٹرٹیجک تھیٹر کا حصہ رہا ہے اور پرائی جنگیں لڑ چکا ہے اب ہم جیو اکنامک سفر شروع کرنا چاہتے ہیں جس کا نام پاک چین اقتصادی راہداری ہے۔ یہ تاریخی منصوبہ ہے جو ہمیں وسط ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے ملا دے گا۔ے ہم یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے ۔ اب ہم نے ہر حال میں ترقی کرنی ہے اور پاکستان کو خوشحال کرنا ہے۔ اقتصادی راہداری کے تحت 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی ایک سال میں دونوں ملک 14 سنگ میل طے کرچکے ہیں۔ دو طرفہ ورکنگ گروپ کام کررہے ہیں۔ چینی انجینئرز خنجراب سے گوادر تک سفر کرچکے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ دھرنوں سے چینی صدر کا دورہ ملتوی ہونا بری خبر تھی ۔ دھرنے پاکستان کیخلاف سازش ہیں دھرنوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کے سفر میں رخنہ ڈالا۔ ہم خنجراب سے گوادر تک ریل روڈ لنک بنائیں گے۔ توانائی کے بحران کا خاتمہ بھی اس عظیم منصوبے کا حصہ ہے ۔ چین پاکستان میں 16 ہزار 400 میگا واٹ بجلی کے منصوبے لگائے گا جن میں پہلے مرحلے میں 10 ہزار 400 میگا واٹ کے منصوبے لگیں گے جن کی لاگت ساڑھے 15 ارب ڈالر ہوگی۔ جدید ٹرانسمیشن لائن بھی بچھائی جائیگی ۔ قراقرم شاہراہ اور لاہور کراچی موٹروے پر 5 ارب 90 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے اور ان کی لمبائی 832 کلو میٹر ہوگی۔ احسن اقبال نے کہا کہ چین تمام بجلی گھر آئی ڈی پیز کی طرز پر لگائے گا اور یہ قرضہ نہیں ہے ۔ ہم ان سے بجلی خریدیں گے ۔ یہ تاثر درست نہیں کہ چین کو خصوصی رعایت دی جارہی ہے ۔ چین پاکستان میں 1736 کلو میٹر ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کرے گا جس سے کراچی سے پشاور تک ٹرین 120 سے 140 کلو میٹر فی گھنٹہ سفر کرے گی، حویلیاں میں ڈرائی پورٹ بنے گی۔ لاہور میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالر سے اورنج ٹرین سروس چلے گی۔44 ملین ڈالر سے دونوں ملکوں کے درمیان آپٹک فائبر کیبل بچھائی جائیگی۔2018ءتک 9 ہزار میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں آجائیگی۔7560 میگا واٹ بجلی کوئلے سے پیدا ہوگی جسکی قیمت دس سینٹ فی یونٹ ہوگی ۔ یہ بجلی فرنس آئل سے بہت سستی ہوگی 1600 میگا واٹ پن بجلی ہوگی ،1000 میگا واٹ سولر بجلی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیں قرض نہیں دے رہا بلکہ سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ چین مشکل حالات میں ہمارا ہاتھ تھام رہا ہے ۔ چین کیخلاف پروپیگنڈہ افسوسناک ہے یہ تاثر بھی غلط ہے کہ سارے منصوبے صرف پنجاب میں لگے گیں۔ تھر سندھ میں 2 ہزار میگا واٹ کا بجلی گھر لگایا جائے گا ۔ سکھی کناری منصوبہ کے پی کے میں لگے گا۔ گوادر پنجاب کا حصہ نہیں ہے، گوادر پورٹ پر ٰ650 ملین ڈالر خرچ ہوں گے ۔ خیبر پختونخوا میں اقتصادی زون بنائے جائیں گے اس منصوبے کا پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان قوم پر رحم کریں اور پارلیمنٹ میں واپس آئیں استعفے واپس لیں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں آکر بیٹھیں۔ عمران بھی قادری کی طرح سیاسی فراست کا مظاہرہ کریں اور دھرنا ختم کریں ۔ خان صاحب اپنی ہی مذاکراتی ٹیم کو ویٹو کردیتے ہیں۔ انہیں اعتماد نہیں ہے۔

احسن اقبال

مزید :

علاقائی -