حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہوا تو چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کئی برس تک لٹک سکتی ہے

حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہوا تو چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کئی برس تک ...

                                    لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی ایک نام پر عدم اتفاق کی صورت مےں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کئی برس تک لٹک سکتی ہے۔18ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ معلوم ہواہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے سخت موقف اختیار کئے جانے کے بعد حکومت اور اپوزیشن ان دنوں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے مختلف ناموں پر غور کررہے ہیں۔ سردست جسٹس (ر ) بھکوان داس کے بعد جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی نے بھی اس عہدے کو قبول کرنے سے معذوری کا اظہار کر دیا ہے۔اور جسٹس ( ر) طارق پرویز کا نام زیر غور ہے۔لیکن معلوم ہواہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد ایسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے جس کے تحت حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی ایک نام پر عدم اتفاق کی صورت چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کئی برس تک لٹک سکتی ہے۔کیونکہ آئین کی مذکورہ ترمیم میں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے وقت مقرر نہیں کیا گیا اور نہ ہی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔31جولائی 2013کو جسٹس (ر ) فخرالدین جی ابراہیم کے مستعفی ہونے کے بعد سے لگ بھگ 15ماہ گزر چکے ہیں۔ لیکن حکومت اور اپوزیشن چیف الیکشن کمشز کے لیے کسی ایک نام پر متفق نہیں ہوسکے۔جس کے باعث آئین کے آرٹیکل 217کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان اب تک سپریم کورٹ کے کسی جج کو قائمقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر فائز کرتے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کے بہت سے اہم کیس التوا کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے حکومت کومطلع کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی جلد ہی عمل میں نہ لائی گئی تو سپریم کورٹ اپنے جج کو قائمقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے واپس بلا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل 213کے ذیلی آرٹیکل (2A) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے لیے وزیراعظم ، قائد حزب اختلاف سے مشاورت کرکے تین متفقہ ناموں کی فہرست پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کرینگے۔ذیلی آرٹیکل (2B) کے تحت پارلیمانی کمیٹی کے نصف ارکان حکومت سے جبکہ نصف ارکان حزب اختلاف سے ہونگے۔یہ بھی شق ہے کہ اگر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے مابین مشاورت کے بعد دونوں ہی تین مشترکہ نام چن نہیں پاتے توالگ الگ فہرستیں پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کرینگے۔ یہ بھی شق ہے کہ پارلیمانی کمیٹی 12ممبران پر مشتمل ہوگی۔ جن میں سے ایک تہائی ممبران کا تعلق سینٹ سے ہوگا۔لیکن 18ویں ترمیم اور آئین کا آرٹیکل 213دونوں ہی چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کو ٹائم فریم نہیں دیتے ۔اور خاموش ہیں۔اور وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے تین ناموں پر متفق نہ ہونے کی صورت میںامیدواروں کو الگ الگ فہرستیں پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کی جائینگی ۔ مذکورہ کمیٹی کب تک فیصلہ دیگی۔ اس پر آئین خاموش ہے۔ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی ووٹنگ کے ذریعے کسی بھی امیدوار کا چناﺅ کریگی۔ لیکن کمیٹی کے ممبران کی تعداد 12مقرر کی گئی ہے۔ اور جفت عدد ہونے کی وجہ سے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے چھ چھ ممبران اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو چیف الیکشن کمشنر کا تقرر آئینی بحران پیدا کرسکتا ہے۔اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کئی برس تک لٹک سکتی ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...