سانحہ کوٹ رادھا کشن، حقائق کو مسخ کر کے غلط رنگ دیا جا رہا ہے،بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن

سانحہ کوٹ رادھا کشن، حقائق کو مسخ کر کے غلط رنگ دیا جا رہا ہے،بھٹہ مالکان ...

  

لاہور(کامرس رپورٹر) آل پاکستان بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ سانحہ کوٹ رادھا کشن کے حقائق کو مسخ کر کے معاملے کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے،بھٹہ مالک کا بد قسمت جوڑے سے پیشگی اجرت پر کوئی تنازعہ نہیں تھا، مخصوص عناصر حساس معاملے کو مذہب کا رنگ دے کر دوکان چمکانا چاہتے ہیں، افسوسناک واقعہ پولیس کی روایتی نا اہلی اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے،شر پسند دیہاتیوں نے بے بنیاد اشتعال پھیلاکر 2 معصوم جانیں لے لیں، بھٹہ مالک ، چوکیدار اور منشی کیخلاف مقدمہ نا انصافی ہے، واقعہ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے اور بے گناہ افراد کو با عزت بری کرنے کیلئے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔ گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکرٹری مہر عبدالحق اور سیکرٹری پنجاب عید محمد بٹ نے کہا کہ بے گناہ میاں بیوی کا بیہمانہ قتل پولیس کی کی نا اہلی، لا قانونیت اور جہالت کا نتیجہ ہے۔آئین کے مطابق پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے پیرو کار پاکستانی شہری کے طور پر برابر کے حقو ق رکھتے ہیں اور بھٹہ انڈسٹری اس المناک واقعے کی پر زور مذمت کرتی ہے تاہم اس واقعے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مخصوص عناصر این جی اوز کی مد د سے تصویر کا صرف ایک رخ دکھاتے ہوئے مذہب اور پیشگی اجرت کو جواز بنا کر پوری دنیا میں پاکستان کی بد نامی کا باعث بن رہے ہیں ۔ بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن سمیت پوری قوم اس واقعے پر غمزدہ ہے اور قاتلوں کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں پولیس مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئی ہے متعلقہ پولیس چوکی انچارج محمد علی ، ایک اے ایس آئی اور تین اہلکار مسیحی میاں بیوی کی زندگیاں بچانے میں بری طرح ناکام رہے۔ واقع کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے مہر عبدالحق اور عید محمد بٹ کا کہنا تھا کہ مقتول سجاد مسیح کا والد ناظر مسیح چند روز قبل وفات پا گیا تھا جس کی بہو مقتولہ شمع اپنے سسر کا چھوڑا ہوا صندوق بھٹہ پر لے گئی اور کچھ کاغذات کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے آگ لگا دی ۔بد قسمتی سے ایک سائیکل سوار خوانچہ فروش نے کاغذات کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا کہ شاید قرآنی اوراق کو آگ لگائی گئی ہے اس بد بخت شخص نے بھٹہ سے ملحقہ گاﺅں چک59,60 میں واویلا مچا دیا کہ یوسف گجر کے بھٹہ پر کسی نے قرآنی آیات جلا کر ان کی بے حرمتی کی ہے۔وقوعہ کے روز گاﺅں کے افراد نے مسجدوں میں اشتعال انگیز اعلانات کروا دیئے اور مشتعل افراد بھاری تعداد میں بھٹہ پر پہنچ گئے جنہیں روکنا بھٹہ انتظامیہ کیلئے ممکن نہ رہا اور اندوہناک واقعہ پیش آ گیا۔ بھٹہ مالک اور اس کے عملہ نے مسیحی میاں بیوی کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن مذہب کے نام پر بے قابو ہجوم نے قانون شکنی کی۔ بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن معاملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ ، گناہ گاروں کو سزا اور بے گناہوں کو باعزت بری کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -