ٹیکسٹائل و صنعتوں کی گیس کی چار ماہ معطلی سے250ارب سے زائد کی برآمدات متاثر ہونگی

ٹیکسٹائل و صنعتوں کی گیس کی چار ماہ معطلی سے250ارب سے زائد کی برآمدات متاثر ...

  

                               لاہور(لیاقت کھرل) سوئی گیس کمپنی کی جانب سے ٹیکسٹائل اور صنعتوں کو گیس کی سپلائی چار ماہ کے لے معطل ہونے پر اڑھائی سو ارب روپے سے زائد کی ایکسپورٹ متاثر، جبکہ سی این جی کی بندش پچاس لاکھ سے زائد گاڑیاں سستے فیول سے محروم ہو جائیں گئیں۔ جس میں سی این جی سیکٹر کی بندش سے حکومت کو70ارب سے 75ارب روپے کے ریونیو کے نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ ”پاکستان“ کو گیس کمپنی صنعتی او ر سی این جی سیکٹر سے اس حوالے سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق گیس کی بندش کے باعث 800سے زائد آپریشنل ٹیکسٹائل شدید متاثر اور چار ہزار سے زائد صنعتوں کی بندش سے صنعتی بحران پیدا ہو جائے گا۔جس کی بنا پر صنعتوں اور سی این جی سیکٹر میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں میں سے پونے چار لاکھ سے زائد مزدور کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جہاں ایکسپورٹ کا ہدف پورا نہ ہونے سے اربوں روپے کا نقصان ہو گا۔ اس کے ساتھ سی این جی کی بندش سے 50لاکھ سے زائد گاڑیوں کا پہیہ مستقل طور پر جام ہو کر رہ جائے گا۔ جس میں سی این جی سیکٹر دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا اور سی این جی کی بندش سے جہاں چار ماہ کے دوران 70سے 75ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہو گا وہاں سی این جی سیکٹر میں کام کرنے والے 70سے 80ہزار سے زائد مزدور بے روزگار ہو کر رہ جائیں گے جس پر جہاں ایپٹما نے ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے وہاں سی این جی ایسوسی ایشن نے بھی ملک گیر احتجاجی تحریک کیلئے مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے اس حوالے سے سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی راہنماﺅں غیاث پراچہ کیپٹن(ر) شجاع انور، ماجد انصاری اور دیگر نے کیا ہے کہ حکومت نے گیس کی بندش کا فیصلہ واپس نہ لیا تو ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی جس میں پارلیمنٹ ہاﺅس کا گھیراﺅ بھی کیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -