جماعت اسلامی کی قیادت ہی ملک کو بھنور سے نکال سکتی ہے ،سراج الحق

جماعت اسلامی کی قیادت ہی ملک کو بھنور سے نکال سکتی ہے ،سراج الحق

  

 لاہور)پ ر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم مینار پاکستان سے 21 تا23نومبر ایک نئے سفر اور تحریک تکمیل پاکستان کا آغاز کر رہے ہیں اور اسلامی پاکستان بنانے کی جد وجہد ایک نئے عزم سے شروع کریں گے ۔ ایک اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے ۔اگر عوام نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا تو ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست جماعت اسلامی عوام کو ضرور د ے گی ۔جماعت اسلامی کی قیادت ایک اہل اور دیانت دار قیادت ہے اور یہ قیادت ہی ملک کو بھنور سے نکال سکتی ہے ۔جماعت اسلامی تاجروں کے مسائل سے غافل نہیں ہے ہم تاجروں کے مسائل کے حل اور ان کے مطالبات کی منظوری کے لیے ان کے ساتھ ہیں ۔کراچی میں بجلی ،پانی ،ٹرانسپورٹ اور امن و امان کے مسائل حل کیے جائیں ۔مرکزی میڈیا سیل منصورہ سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں کراچی کی بزنس کمیونٹی اور پاکستان بزنس فورم کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔استقبالیے سے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن،پاکستان بزنس فورم کے چےئر مین میاں تنویر احمد مگوں ،جنرل سیکریٹری عبد الغفار پڈا،اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پرمعروف تاجر و صنعت کار اور بزنس کمیونٹی کی اہم شخصیات بھی موجود تھیں جن میں عارف حبیب ،عقیل کریم ڈھیڈی ،جنید اسلم ،ہارون قاسم ،حاجی عثمان ناگوری ،نجیب اللہ خان خلجی،سمیع خان،محبوب عالم اور دیگر شامل تھے ۔استقبالیے میں نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ ،محمد حسین محنتی اور دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی ۔اس موقع تاجروں اور صنعت کاروں کی طرف سے کل پاکستان اجتماع عام کے سلسلے میں نقد عطیات دینے کا بھی اعلان کیا۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ ملک میں کروڑوں بچے ایسے ہیں جو تعلیم سے محروم ہیں اور گندی کی ڈھیر سے رزق تلاش کرنے پر مجبور ہیں ،بچہ بچہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا مقروض ہے ۔ملک کے اندر مایوسی ،خوف اور بے چینی پھیلی ہوئی ہے حکمران بھی اس کا شکار ہیں اور عوام بھی ۔خوف ایسی چیز ہے جو جہاں طاری ہوجائے وہاں کوئی اور چیز کام نہیں کرتی اور اس کی صلاحیت مفلوج ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ مسائل حل کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل بنایا جائے ۔افسوس اور سینہ کوبی سے مسائل نہیں ہوتے ۔مسائل کے حل کے لیے اُٹھنا ہوگا اور کچھ کر گزرنے کا عزم لے کر گھروں سے نکلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کراچی ایک دیندار شہر ہے ،یہ محبان اسلام کا شہر ہے یہ عالم اسلام کا شہر ہے کوئی لاکھ چاہے کہ اس شہر کا تشخص ختم ہوجائے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے ۔یہ شہر امت کا شہر ہے اور میں اور آپ ایک امتی ہیں اور دشمن ہمارے اس رشتے کو توڑنا چاہتاہے ہمیں دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔جب قیام پاکستان کی تحریک شروع ہوئی تو سب نے ایک اسلامی ملک بنانے کے لیے جدو جہد کی تھی ،پاکستان ایک نظریے کا نام ہے قائد اعظم محمد علی جناح نے طویل جدو جہد کی مگر افسوس کہ قائد اعظم کو صرف ایک سال کی مہلت ملی اور وہ وفات پا گئے ،بد قسمتی سے ان کے بعد آنے والوں نے اس کے قیام کے مقصد کو بھلا دیا اور اس وجہ سے پاکستان کے دو ٹکڑے ہوگئے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ ہم مینار پاکستان سے 21 تا23نومبر سے ہم ایک نئے سفر اور تحریک تکمیل پاکستان کا آغاز کر رہے ہیں اور اسلامی پاکستان بنانے کی جد وجہد ایک نئے عزم سے شروع کریں گے ۔ ایک اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے دیے گئے نظام میں آج بھی تمام مسائل کا حل ہے طاہر القادری کے پاس گیا ۔حکومت کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور اپوزیشن جماعتوں اور دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں سے بار بار ملاقاتیں کیں اور آج بھی میری یہ کوشش ہے کہ مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں اور سب مل کر ایک میز پر بیٹھ جائیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے عوام اور بزنس کمیونٹی بے پناہ مسائل کا شکار ہیں۔بد امنی ،دہشت گردی اور بھتہ خوری سے کوئی طبقہ محفوظ نہیں اور ملک کو سب سے زیادہ ریوینیو دینے والے اس شہر نے بد ترین حالات میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے بد قسمتی سے اس شہر کوہمیشہ نظر انداز کیا گیا ۔جماعت اسلامی کو جب بھی موقع ملا اس نے اس شہر کی بھرپور خدمت کی ہے اور عبد الستار افغانی مرحوم کے دور میں اور پھر سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں شہر میں مثالی تعمیر و ترقی ہوئی اور نعمت اللہ خان نے 4ارب کے بجٹ کو 42ارب روپے تک پہنچا دیا لیکن بد قسمتی سے آج یہ شہر پھر تباہ حال ہے اور تعمیر و ترقی کا سفر پھر سے رک گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ حالات بہتر کرنے کے لیے بڑی جدو جہد کی ضرورت ہے ،تما م مثبت قوتوں کو مل کر اپنا کردار اد ا کرنا ہوگا ۔موجودہ نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ کراچی میں خوشحالی ہوگی تو پورے ملک میں خوشحالی ہوگی ۔تبدیلی کی تحریک میں تاجروں کو بھی اپنا کردار اد اکرنا ہوگا۔ میاں تنویر احمد مگوں نے کہا کہ آج کی تقریب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم امیر جماعت سراج الحق کے اعزاز میں استقبالیہ دیں اور ان کو بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل سے آگاہ کریں اور ان سے مشورہ کر کے رہنمائی حاصل کریں ،ان مسائل میں کراچی کے مخصوص حالات کا ذکربھی بہت ضروری ہے کہ کراچی میں بزنس کمیونٹی کو جن مسائل کا سامنا ہے ان سے کس طرح نمٹا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش اور جدو جہد کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں صالح قیادت کے زیر اثر ایک ایسی حکومت آئے جو عوام کے مسائل حل کرے اور ملک کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی اور خوشحال ملک بنائے

مزید :

صفحہ آخر -