خواتین کے پسندیدہ جوتے دراصل مَردوں کےلئے ایجاد کئے گئے

خواتین کے پسندیدہ جوتے دراصل مَردوں کےلئے ایجاد کئے گئے
خواتین کے پسندیدہ جوتے دراصل مَردوں کےلئے ایجاد کئے گئے

  


 لندن ( نیوز ڈیسک ) ذرا تصور کیجیے کہ اگر آپ اپنے کسی مرد دوست کو تحفے کے طور پر اونچی ایڑھی والی جوتی دے دیں تو اس کا رد عمل کیا ہو گا؟یقینا اسے توہین آمیز سمجھا جائے گا لیکن اگر یہی واقعہ 16 ویں یا 17 ویں صدی میں پیش آتا تو آپ کا دوست خوشی سے پھولا نہ سماتا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک حالیہ تحقیق نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین میں بے پناہ مقبولیت رکھنے والا اونچی ایڑی کا فیشن دراصل مردوں کی ایجاد ہے۔

ایک وقت تھا کہ یورپ میں مرد ان کے اتنے ہی شوقین تھے جتنا کہ آج کل کی خواتین انہیں پسند کرتی ہیں۔بی بی سی کا کہنا ہے کہ یورپ میں اونچی ایڑی کا شوق فارس کے بادشاہ شاہ عباس اول کی افواج نے پہنچایا ۔شاہ کے فوجی جنگی گھوڑوں کی رکاب میں پاﺅں کو مضبوطی سے ٹکانے کے لیے اونچی ایڑی والے جوتے پہنتے تھے۔

جب شاہ کا ایک سفارتی مشن 1599 مین روس ، جرمنی ، اور سپین کے دورہ پر گیا تو یورپی نواب اونچی ایڑی والے جوتے دیکھتے ہی ان پر فریفتہ ہو گئے۔تحقیق کار سیمل ہیک کا کہنا ہے کہ اونچی ایڑی یہ پیغام دیتی ہے کہ اسے پہننے والا محنت مزدوری نہیں کر سکتا بلکہ وہ نازک اندام اور ناز و نخرے کی زندگی گزارتا ہے اور محض مزے سے چہل قدمی کر سکتا ہے۔

رفتہ رفتہ اونچی ایڑی خواتین میں مقبول ہونے لگی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان سے زیادہ نرم و نازک مخلوق کونسی ہے، اور یوں مردوں کو یہ شوق چھوڑنا پڑا ۔آج اونچی ایڑی والے جوتے مغرب سے مشرق تک ہر طبقے کی خواتین میں بے پناہ مقبول ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...