شاہ رُخ خان اور بہار کے الیکشن

شاہ رُخ خان اور بہار کے الیکشن

  

شاہ رخ خان اپنی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ کر پھنس گئے کہ ان کے خیال میں ہندوستان میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک محب وطن کی حیثیت سے سب سے بڑا جرم اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ سیکولر نہ ہونا ہے۔ انہوں نے یہ جتانے کی ضرورت بھی محسوس کی کہ ان کے والد نے برطانیہ کے خلاف آزادی کی جنگ میں حصہ لیا تھا، اس لئے کوئی ان کی حب الوطنی کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ شاہ رخ نے یہ بیان ہندوستان میں مذہبی تعصب پرستی کی بنا پر پیش آنے والے متعدد واقعات کے پس منظر میں دیا، جس میں نہ صرف یہ کہ کئی ہندو دانشور اس بنا پر قتل کر دیئے گئے کہ وہ بتوں کی پوجا یا ذات پات کے نظام کے خلاف تھے، بلکہ بہت سوں کو ختم کر دیئے جانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ کئی ریاستوں میں گائے کے گوشت پر پابندی لگا دی گئی اور گائے کا گوشت گھر میں رکھنے کے شک میں ایک مسلمان کو مار مار کر ختم کر دیا گیا۔پاکستان کی خورشید محمود قصوری جیسی ممتاز شخصیات کے ساتھ ناروا سلوک اور اعلیٰ پائے کے پاکستانی فنکاروں کے ساتھ ناشائستہ رویوں کے واقعات بھی دنیا بھر کے اخبارات میں چھپے۔ یکے بعد دیگرے یہ واقعات نریندر مودی کے دور حکومت میں پیش آئے، جن کی اس حوالے سے جان بوجھ کر خاموشی انتہا پسند متعصب عناصر کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنی۔ ان حالات نے ہندوستان میں ممتاز دانشوروں، سائنسدانوں اور اساتذہ کی خاموش تحریک کو جنم دیا، جنہوں نے مودی حکومت کی پالیسی کے خلاف سینکڑوں کی تعداد میں ایوارڈ بطور احتجاج واپس کر دیئے۔ اس لحاط سے شاہ رخ کا بیان بھی ایک احتجاجی پہلو لئے ہوئے تھا، جس نے گویا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا۔

ان پر پہلا اور سب سے بڑا حملہ نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کے جنرل سیکرٹری کیلاش کی طرف سے ہوا، جنہوں نے یکے بعد دیگر نے کئی ٹوئٹس میں کہا کہ شاہ رخ خود تو ہندوستان میں رہتے ہیں، لیکن ان کا دل پاکستان میں رہتا ہے۔ وہ یہاں سے کروڑوں کماتے ہیں، لیکن یہاں انہیں برداشت ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اگر یہ غداری نہیں تو پھر کیا ہے؟ ہندوستان سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننے کی کوشش کررہا ہے، لیکن پاکستان سمیت ہر کوئی اسے پٹڑی سے اتارنے پر لگا ہوا ہے۔ ہندوستان میں عدم برداشت کا ڈھنڈورا پیٹنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ شاہ رخ ہندوستان کے دشمنوں بشمول پاکستان کے ساتھ مل کر یہ راگ الاپ رہے ہیں۔ کیلاش کو اپنے اس بیان پر جب شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے دوسرے دن ہی اپنا بیان واپس لے لیا اور نیا بیان یہ جاری کیا کہ ہندوستان میں اگر برداشت نہ ہوتی تو امیتابھ کے بعد شاہ رخ مقبول ترین ہیرو نہ ہوتے۔ کیلاش کے بیان واپس لینے کی کمی ان کی پارٹی سے وابستہ رکن قومی اسمبلی یوگی ادیتا ناتھ نے یہ کہہ کر پوری کر دی کہ شاہ رخ میں اور ان کی نظر میں ممبئی دھماکے کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید میں کوئی فرق نہیں۔ ایسے لوگوں کے پاکستان چلے جانے سے انہیں خوشی ہوگی اور یہ کہ ہندوستان کو بدنام کرنے والوں کو پاکستان جا کر اپنی اوقات معلوم ہو جائے گی۔

ادیتا ناتھ کا یہ بیان یقیناًنریندر مودی کے لئے شرمندگی کا باعث بنا ہوگا، جبھی تو دوسرے دن بھی بی جے پی کے ترجمان نے اس سے قطع تعلق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان وزیراعظم اور بی جے پی کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ شاہ رخ عوام میں مقبول ایک باعزت فنکار ہیں، جن کا تقابل حافظ سعید سے کرنا کسی صورت جائز نہیں۔ اس تمام کتھا کہانی میں سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہوئی کہ بی جے پی کی تشدد پسند شاخ شیوسینا کے لیڈر سنجے راوت نے شاہ رخ کا دفاع کرتے ہوئے کہا : ’’ہندوستان بھی برداشت کا حامل ہے اور مسلمان بھی برداشت کا مادہ رکھتے ہیں اور شاہ رخ کو محض اس لئے تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے کہ وہ مسلمان ہے‘‘۔ وشوا ہندو پریشد کی لیڈر سوہوی پراچی نے جو بابری مسجدگرانے کی تحریک میں پیش پیش تھیں، البتہ کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی اور صاف صاف کہہ دیا کہ شاہ رخ پاکستان کا ایجنٹ ہے، کیونکہ وہ انہی کے نظریات کا پرچار کرتا ہے۔ اِدھر ہندوستان کی پارلیمنٹ کے کرن دگوجایا نے جن کو کانگریس میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ بی جے پی کے سیکرٹری جنرل کیلاش کے بیان کی سخت مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ نریندر مودی شاہ رخ سے معافی مانگیں۔ مودی کے مخالف دہلی کے وزیراعلیٰ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروندکجری وال نے شاہ رخ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے بیان سے ہندوستان میں برداشت بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ان سب سے بازی البتہ ٹی وی پر شاہ رخ کا انٹرویو لینے والی خاتون صحافی برکھادت لے گئیں، جنہوں نے شاہ رخ کے نام اخبار کو بھیجے گئے ایک کھلے خط میں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم لوگ شاہ رخ جیسے عظم انسان کے ساتھ کسی نسبت کے لائق نہیں۔

برکھادت نے شاید شدت جذبات میں آ کر اتنی بڑی بات کر دی، جن کی اہمیت اس لئے بھی کئی گنا ہو جاتی ہے کہ برکھا دت خود بھی ہندوستان کی ایک نامور شخصیت ہیں اور اپنے میدان میں وہی ’’پدما شری ایوارڈ‘‘ حاصل کر چکی ہیں،جو شاہ رخ خان کو ملا تھا۔ ان کے خط پر انتہا پسندوں کی طرف سے کیا ردعمل آئے گا۔ اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا، کیونکہ فی الحال تو وہ اپنا زخم سہلانے پر لگے ہوئے ہیں، جو انہیں بہار کے انتخابات میں لگا ہے۔ بہار کے عوام نے اتنا بڑا طمانچہ مودی سرکار کے مُنہ پر مارا ہے کہ اس کی ساری اکڑ فوں خاک میں مل گئی اور کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق آج کل بی جے پی کے رہنما ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بہار میں بی جے پی کی شکست اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اُس کی طرف سے بہار میں انتخابی مہم اس حد تک ہندوتوا اور پاکستان دشمنی کی بنا پر چلائی گئی تھی کہ گائے کو بطور ماں اُجاگر کرتے ہوئے اشتہار میں استعمال کیا گیا تھا جس پر الیکشن کمیشن کو پابندی لگانا پڑی تھی، لیکن انتخابات کے آخری یوم بی جے پی کے لیڈروں نے عوام الناس کو یہ کہہ کر ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی کہ بی جے پی کی شکست پاکستان کی فتح ہو گی،جس پر پاکستان میں شادیانے بجائے جائیں گے۔

اس کے باوجود بی جے پی کی شرمناک شکست سے یہ مطلب نکالنا بے جا نہ ہو گا کہ جہاں بہار کے عوام نے بی جے پی کی ہندوتوا مہم کے غبارے کی ہوا نکالی وہاں انہوں نے پاکستان کے خلاف جنگجویانہ پالیسی کو بھی مسترد کر دیا جس کا بڑی حد تک کریڈٹ پاکستان میں جمہوری حکومت کی متحمل پالیسی کو جاتا ہے جسے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل ہے۔پاکستان اور ہندوستان کی سیاست کا آپس میں کس قدر گہرا رشتہ ہے اس کا اندازہ شاہ رُخ کے بیان کے ردعمل اور بہار میں بی جے پی کی انتخابی مہم سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے اور جس کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت ہندوستان کے اندرونی معاملات پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ استاد محترم شفقت تنویر مرزا مرحوم کہا کرتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کا سب سے بڑا دفاع جمہوریت ہے جسے بھلے لنگڑی لولی شکل میں بھی دس پندرہ سال چلنے دیا جائے تو ہندوستان کو اپنے اندرونی مسائل کے سبب لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور عین ممکن ہے کہ وہاں موجود علیحدگی پسندی کی چھبیس تحریکیں اِس قدر زور پکڑ لیں کہ ہندوستان خودبخود ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ محض ہوائی بات نہیں، بلکہ اپنے اندر بڑا وزن رکھتی ہے، جس کا اندازہ ہندوستان کے معروف جریدے انڈیا ٹو ڈے کی ایک اشاعت سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں علیحدگی کی تحریکوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی تھی اور اس کے ٹائٹل پر ہندوستان کے نقشے کو مختلف حصوں میں تقسیم شدہ دکھایا گیا تھا۔ اپنے ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہندوستان کے مقابلے میں دفاع کے ساتھ ساتھ جمہوریت ہماری ملکی سلامتی کے لئے بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔

مزید :

کالم -