اسماعیل ضیاء : عجب آزاد مرد تھا!

اسماعیل ضیاء : عجب آزاد مرد تھا!
 اسماعیل ضیاء : عجب آزاد مرد تھا!

  

آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔فین روڈ پر اونچی کوٹھی میں بڑی رونق تھی، اس روز خصوصی طور پر اہتمام کیا گیا تھا کہ پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی آمد آمد تھی۔ ہم بھی کوریج کے لئے گئے۔ یہ اپنے دور کے معروف تر وکیل میاں محمود علی قصوری کی رہائش اور دفتر تھا دور 1970ء کا تھا، میاں محمود علی قصوری کے ساتھ ان کے بعض معتمد ساتھی بھی تھے، ہم وقت سے کچھ پہلے پہنچے اور میاں محمود علی قصوری اور ان کے نوجوان (اس وقت) صاحبزادگان خورشید محمود اور عمر محمود قصوری سے گپ شپ کرتے رہے۔ اخبار نویس متجسّس تھے۔ میاں صاحب اپنے بلند آہنگ سے کہہ رہے تھے ابھی تھوڑا صبر کرلیں۔ سب سامنے آ جائے گا، شیخ رفیق احمد جو ان دنوں میاں محمود علی قصوری کے جونیئر تھے۔ صاحبزادگان کا ہاتھ بھی بٹا رہے تھے اور دوستوں سے باتیں بھی کئے جا رہے تھے۔ لنچ کا اہتمام تھا، ہم نے میاں صاحبان سے اپنی بے تکلفی کا فائدہ اٹھایا اور پوچھا آلو کی کتنی ڈشیں ہیں، جواب ملا، یہ تو ہوگا۔بڑے میاں صاحب کو آلو بہت مرغوب تھے اور ان کی ہر دعوت میں ایک سے زیادہ سالن آلو والے ہوتے تھے۔ پھر غلغلہ بلند ہوا۔ میاں محمود علی قصوری اپنے صاحبزادگان اور ساتھیوں سمیت سرخ اینٹوں والی سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو تشریف لے آئے تھے ان کا انتہائی گرم جوشی سے استقبال کیا گیا اور پھر سب حضرات بڑے ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے۔ یہ الیکٹرونک میڈیا کا دور نہیں تھا۔ پرنٹ میڈیا کے بہت سے دوست آئے ہوئے تھے ہم ان دنوں روزنامہ مساوات سے وابستہ تھے جو خود ذوالفقار علی بھٹو کا اخبار تھا۔

سب آ گئے، نشست جم گئی تو میاں محمود علی قصوری نے لیڈر کی آمد کا خیر مقدم کیا۔ توصیفی الفاظ استعمال کئے اور اعلان کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سمیت آج سے محترم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے ہیں، اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بھی خیر مقدمی کلمات کہے اور پھر ہمارے سوالات کے جواب دیئے ایک اچھی نشست ہو گئی۔۔۔میاں محمود علی قصوری نیشنل عوامی پارٹی چھوڑ کر آئے ان کے ساتھ ہی شیخ رفیق احمد اور گوجرانوالہ کی مردم خیز زمین سے تعلق رکھنے والے اسماعیل ضیاء بھی چلے آئے ان کا تعارف بھٹو مرحوم سے خود میاں قصوری نے کرایا، یوں ہمارے سامنے نوجوان شیخ رفیق احمد اور اسماعیل ضیاء بھی تھے، ان اصحاب کی آمد سے پارٹی کو تقویت ملی پھر 1970ء کا الیکشن آ گیا، پیپلزپارٹی نے ٹکٹیں تقسیم کیں، شیخ رفیق احمد کو لاہور اور اسماعیل ضیاء کو گوجرانوالہ سے یہ اعزاز ملا، جبکہ میاں محمود علی قصوری کو ابتدائی طور پر محفوظ رکھا گیا، خود بھٹو صاحب نے دوسرے حلقوں کے علاوہ لاہور کے این اے 3سے بھی الیکشن لڑا اور جیت گئے پھر یہ نشست خالی کی تومیاں محمود علی قصوری ضمنی انتخاب کے لئے موزوں تر امیدوار قرار پائے اور ان کو ٹکٹ مل گیا۔ یہ الیکشن انہوں نے جیت لیا، شیخ رفیق احمد اور اسماعیل ضیاء بھی صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے منتخب ہو گئے اور یہ صوبائی اسمبلی میں پہنچے۔ یہاں آکر حلف لیا، اس کے بعد اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں کے لئے چناؤ ہوا، اس اسمبلی میں بیگم عابدہ حسین ایک طرحدار، خوبصورت ترین نوجوان لڑکی کی حیثیت سے منتخب ہو کر آئیں اور ان کو اور اسماعیل ضیاء کو فنانس کمیٹی میں رکھا گیا۔ جب چیئرپرسن کے انتخاب کا وقت آیا تو بیگم عابدہ میدان میں آئیں۔ سامنے سے اسماعیل ضیاء (مرحوم) بھی چیئرپرسن کے لئے کھڑے ہو گئے یوں دو ترقی پسندوں کا مقابلہ ہوا اور اس میں سخت مقابلے کے باوجود یہ نشست اسماعیل ضیاء نے جیتی اور کمیٹی کے چیئرمین بنے، وہ ایک بہترین کارکن اور سیاسی میدان میں ان تھک کام کرنے والے تھے۔

شیخ رفیق احمد اور اسماعیل ضیاء پیپلزپارٹی سے وابستہ ہوئے تو یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ جبکہ میاں محمود علی قصوری نے بعدازاں اختلافات کی بناء پر پیپلزپارٹی چھوڑ دی لیکن اسماعیل ضیاء اور شیخ رفیق احمد نے ایسا نہ کیا اور وہ پیپلزپارٹی میں رہے۔ شیخ رفیق احمد کا تذکرہ تو ہوتا رہتا ہے، آج ذکر اسماعیل ضیاء کا ہے، جن کی آج (11نومبر) اٹھارہویں برسی ہے اور ان کی روح کو ایصال ثواب کیا گیا اور خدمات کو بھی سراہا گیا۔ اسماعیل ضیاء بہت مضبوط قوت ارادی کے مالک اور اپنے دور نوجوانی ہی سے ترقی پسند نظریات کی طرف مائل تھے، اس لئے ان کے لئے سیاست کا پہلا میدان آزاد پاکستان پارٹی تھی، یہ میاں افتخار الدین (مرحوم) نے بنائی، کچھ دیر یہاں رہے لیکن چل نہ سکے اور پھر اسماعیل ضیاء مرحوم نیشنل عوامی پارٹی میں آ گئے اور یہاں بھی بہت کام کیا اپنے کام اور محنت کی وجہ سے وہ مشہور بھی ہوئے۔ تاہم 1970ء میں میاں محمود علی قصوری کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی میں چلے آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہے، ہمارے دوست فخر زمان بھی ترقی پسند ہیں اور وہ بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ ابتدائی دور سے وابستہ ہوئے تھے، ان کو پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر بنایا گیا تو اسماعیل ضیاء کو بھی اعزاز دیا گیا وہ نائب صدر بنائے گئے اور تادیر بلکہ اپنی وفات تک اس عہدہ پر رہے۔

اسماعیل ضیاء مرحوم بہت متحرک شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنے دور میں اپنے شہر کے لئے بھی بہت کام کیا، گوجرانوالہ بائی پاس اور گوجرانوالہ اوورہیڈ برج کی تکمیل میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے جبکہ اسلامیہ کالج کی تزئین و مرمت بھی کرائی کہ یہاں سے انہوں نے خود گریجوایشن کی تھی۔ آزاد پاکستان پارٹی کے دور میں جب 1965ء میں ایوب خان نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا مقابلہ کیا تو اسماعیل ضیاء ان کی حمائت کے لئے بہت سرگرم تھے اور گوجرانوالہ میں پولنگ ایجنٹ بھی رہے۔ اسماعیل ضیاء سے جب بھی ہمارا آمنا سامنا ہوا یا بات چیت ہوئی وہ پکے ترقی پسند مسلمان ہی کی حیثیت سے سامنے آئے ان کے نزدیک محروم طبقات کے احساس محرومی کو ختم کرنے کے لئے کام کرنا ہی سیاسی جدوجہد تھی وہ یوں بھی مولانا ابوالکلام آزاد سے متاثر تھے اور دین کے حوالے سے بھی اپنے نظریات پر مضبوط تھے۔ اسماعیل ضیاء اپنے لیڈر اور قائد ذوالفقار علی بھٹو کی بہت تعریف کرتے اور بھٹو مرحوم ان کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے تھے۔یوں وقت گزرا اور 1977ء کا دور آیا جب بھٹو مرحوم نے ملکی انتخابات کا اعلان کیا اور تب پیپلزپارٹی کے مقابلے میں پاکستان قومی اتحاد بن گیا، ان انتخابات میں بھی ان کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا اور وہ بھی کامیاب ہونے والوں میں شامل تھے، تاہم یہ اسمبلی زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جنرل ضیاء الحق نے 4،5جولائی 1977ء کی شب حکومت معزول کرکے مارشل لاء لگایا اور حکومت سنبھال لی تو مرحوم اس کے خلاف مزاحمت کرنے والوں میں شامل تھے۔ اسی پاداش میں ان کو کئی بار مارشل لاء کے دوران گرفتار کیا گیا اور انہوں نے صعوبتیں برداشت کیں جیل بھی گئے۔ مرتے دم تک پیپلزپارٹی سے وابستہ تھے۔ بھٹو مرحوم کے شیدائی اور ان کی حمایت میں ہر حد سے گزر جانے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔1978ء میں اسی پاداش میں ان کو جیل بھی جانا پڑا۔ یہ جیالا 11نومبر 1997ء میں اللہ کو پیارا ہوا اور گزشتہ روز ان کی 18ویں برسی منائی گئی۔

مزید :

کالم -