مدر امریکہ سوتیلی بھی ہے اور سنگدل بھی!

مدر امریکہ سوتیلی بھی ہے اور سنگدل بھی!
 مدر امریکہ سوتیلی بھی ہے اور سنگدل بھی!

  

اس سے پہلے کہ موضوعِ زیر بحث پر تبصرہ کریں قارئین کی خدمت میں ’’انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز‘‘ کا وہ اداریہ پیش کرنا چاہتا ہوں جو اس امریکی روزنامے کی ادارتی ٹیم نے اپنی 10نومبر 2015ء کی اشاعت میں سپرد قلم کیا ہے:۔۔۔’’اپنے 120نیوکلیئر وارہیڈز کے ساتھ پاکستان صرف ایک عشرے کے اندر اندر، امریکہ اور روس کے بعد ، دنیا کی تیسری بڑی جوہری قوت بن جائے گا یعنی چین، فرانس اور برطانیہ سے بھی آگے نکل جائے گا۔ اس کا جوہری اسلحہ خانہ، کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں، بڑی تیزی سے بڑھ اور پھیل رہا ہے اور دوسرے ممالک کی نسبت کہیں زیادہ مہلک ہو چکا ہے اور اس کے چھوٹے جوہری ہتھیار بھارت کے طول و عرض میں کہیں بھی مار کر سکتے ہیں اور اس کے لمبے فاصلے پر مار کرنے والے جوہری میزائل انڈیا سے بھی آگے نکل کر تباہی مچا سکتے ہیں۔

’’یہ حقائق، پریشان کن ہیں۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان انتہا پسند گروپوں کی ایک بڑی تعداد کا گڑھ ہے۔ ان میں سے ایسے گروپ بھی ہیں جو اس ملک کی سیکیورٹی ایجنسی کے حمائت یافتہ ہیں اور ان کے سر پر بھارت مخالفت کا بھوت سوار ہے۔ اس صورتِ حال نے جنوبی ایشیاء ہی کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

’’اب اوباما ایڈمنسٹریشن نے اس پیچیدہ ایشو کو زیادہ دانش مندی اور ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ٹھان لی ہے۔ تاہم کامیابی کے امکانات بہت کم نظر آ رہے ہیں۔ اوباما ایڈمنسٹریشن کی اس تازہ اپروچ میں جو امر زیادہ ’’تازہ‘‘ ہے، وہ یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ صورتِ حال سے مایوس ہو کر بیٹھ رہا جائے اس کے حل میں ایسے عوامل شامل کئے جائیں اور ایک ایسے معاہدے پر پہنچا جائے جس میں دونوں فریق (امریکہ اور پاکستان) حسبِ خواہش کچھ نہ کچھ لے دے سکیں۔اس ڈیل سے مغرب کو یہ فائدہ ہوگا کہ پاکستان اپنے جوہری ترکش میں اضافے کی دوڑ کو آہستہ کر دے گا، بین الاقوامی قواعد و قوانین کی پاسداری کرے گا اور نیو کلیئرٹیکنالوجی کے ’’پھیلاؤ‘‘ سے ہاتھ کھینچ لے گا ۔اور پاکستان کو یہ فائدہ ہوگا کہ اسے دنیا کی جوہری برادری میں زیادہ بار مل جائے گا اور ٹیکنالوجی تک اس کو رسائی آسان ہو جائے گی۔

’’جہاں تک جوہری شعبے کا تعلق ہے تو ماسوائے چین کے پاکستان ساری دنیا کا راندۂ درگاہ بنا ہوا ہے۔ جب سے اس نے 1998ء میں انڈیا کی پیروی کرنی شروع کی ہے اور اپنے جوہری ہتھیاروں کو ٹیسٹ کرنا شروع کیا ہے، اس کو بین الاقوامی برادری نے سزا بھی دینی شروع کر رکھی ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) پر دستخط کرنے سے انکار کرکے اور جوہری معلومات اور علم و ہنر کو بعض مردود ممالک مثلاً شمالی کوریا کو دے کر اپنے ساتھ کچھ زیادہ انصاف نہیں کیا۔ تاہم اس کے باوجود پاکستان چاہتا ہے کہ مغربی دنیا اس سے وہی سلوک کرے جو اس نے بھارت کے ساتھ کیا ہے۔

’’ماضی میں کئی عشروں تک انڈیا کو بھی جوہری ہتھیاروں کی ڈویلپمنٹ پر سزا دی جاتی رہی۔ لیکن یہ تعزیری رویہ 2008ء میں اس وقت تبدیل ہوا جب امریکہ نے دنیا کے تیز ترین اقتصادی ترقی کرنے والے ملک کے طور پر اسے ایک رعایت دے دی، اور جوہری تعاون کا ایک فیاضانہ معاہدہ کیا جس میں نئی دہلی کو یہ اجازت ملی کہ وہ امریکن نیوکلیئر ٹیکنالوجی خرید سکتا ہے۔

’’تب سے لے کر اب تک پاکستان کی وہ تمام درخواستیں جو اس نے بھارت کے ساتھ برابری کا سلوک روا رکھنے کے لئے کی تھیں، مسترد کی جاتی رہی ہیں۔ اس کا سبب بیشتر یہی تھا کہ پاکستان دنیا کے خطرناک ممالک کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی ایک شرمناک (Disgraceful) تاریخ رکھتا ہے۔ لیکن اب اس کا اپنا نیوکلیئر پروگرام اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ اس کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے نئی راہیں تلاش کرنا ازحد ضروری ہو گیا ہے۔

’’امریکی اہلکار کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو بھارت کی طرح کی پیشکش نہیں کر رہے بلکہ اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ پاکستان اس امریکی سپورٹ کے جواز میں کیا ضمانت دے گا کہ اسے 48ممالک کے ’’نیوکلیئر سپلائرز گروپ‘‘ کا ممبر بنا دیا جائے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق پاکستان کو اپنے جوہری پروگرام کی ڈویلپمنٹ ختم کر دینی پڑے گی اور لانگ رینج میزائلوں کی پیشرفت بھی بند کر دینی ہوگی اور پاکستان کی طرف سے یہ اقدامات پیشگی کئے جانے ہوں گے۔ مزید یہ کہ پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کے ٹیسٹ کرنے پر بھی پابندی لگانے والے معاہدے پر دستخط کرنے پڑیں گے۔ یہ اقدامات پاکستان کے وسیع تر مفادات کے حق میں ہوں گے۔۔۔’’بھارت کے ساتھ، پاکستان کا مقابلہ گویا ایک ہارتی ہوئی بازی ہے اور جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ ، پہلے سے کہیں زیادہ بین الاقوامی توجہ مانگتی ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے یہ اداریہ پڑھا۔حقیقت یہ ہے کہ نیویارک ٹائمز کے اس تازہ اداریئے میں کوئی بات بھی تازہ نہیں ہے۔۔۔ جب پاکستانی وزیراعظم نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا تھا تو یہی موضوع میڈیا پر کئی روز تک ڈسکس کیاجاتا رہا تھا۔ پاکستان نے اپنے چھوٹے جوہری ہتھیاروں سے دستکش ہونے کی تجویز مسترد کر دی تھی اور امریکی انتظامیہ کو بتا دیا تھا کہ اسے ان ہتھیاروں کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔ بھارت نے جو سرجیکل سٹرائیکوں اور کولڈ سٹارٹ/ ہاٹ سٹارٹ ڈاکٹرین وغیرہ کی رٹ لگا رکھی تھی اس پر جنرل راحیل شریف کو علی اعلان کہنا پڑا تھا کہ ہم سرد یا گرم جنگ دونوں کے لئے تیار ہیں۔۔۔ ہمت ہے تو آگے بڑھ کے دیکھ لو۔۔۔ یہ اسی جرات رندانہ کا سبب تھا کہ وزیراعظم کو اپنے ساتھ ایک بھاری بھرکم ٹیم لے کر واشنگٹن سے اس موضوع کی مزید تفصیل لینی اور دینی پڑی تھی۔ اسلام آبادی ٹیم نے واشنگٹنی ٹیم سے پوچھا تھا کہ وہ انڈیا کے اُن ’’ننگے بیانوں‘‘ کا نوٹس کیوں نہیں لیتی اور ہم ہی پر الزام کیوں دھرتی ہے؟ امریکہ کو پہلے بھارت سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کیوں آپے سے باہر نکل رہا ہے:

یہ جو خوباں چاہنے کا ہم پہ رکھتے ہیں گناہ

اُن سے بھی پوچھے کوئی وہ اتنے کیوں پیارے ہوئے؟

قارئین محترم! اس اداریئے میں 2008ء کے بعد امریکی رویئے میں تبدیلی کے جس ’’سبب‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ قابلِ غور ہے۔ یعنی امریکہ نے جب یہ دیکھا کہ بھارت کی اقتصادی صورت حال روز بروز بہتر ہو رہی ہے تو اس نے خود اسے نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اس کا مطلب یہ لیاجا سکتا ہے کہ جب تک پاکستان کی اقتصادی صورت حال بھی، بھارت کے برابر نہیں ہو جاتی تب تک امریکہ پاکستان کو بھارت کے مساوی سٹیٹس دینے کو تیار نہیں ہوگا۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ’’پاک چائنا اکنامک کاریڈار‘‘ کو آگے بڑھانے میں شائد اسی لئے بڑی تیزی کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ مستقبل کے چار پانچ برسوں میں بھارت کو اقتصادی میدان میں پیچھے چھوڑنے کا عزم رکھتی ہے۔ اگر ایسا ہوا (اور انشاء اللہ ضرور ہوگا) تو پاک امریکہ ڈائیلاگ میں ترپ کا پتہ امریکہ نہیں، پاکستان کے ہاتھ میں ہوگا۔ پاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کی کچھ زیادہ جلدی نہیں۔ وہ تو پہلے ہی تاخیروں (Delays) کا مارا ہوا ہے۔ ہمارا کون سا ایسا پراجیکٹ ہے جو ’’مِس تاخیر‘‘ سے ہمکنار نہیں ہوا! ہم پانچ سات سال اور انتظار کر سکتے ہیں لیکن اگر ان 5،7 برسوں میں بقول اداریہ، پاکستان واقعی دنیا کی تیسری بڑی جوہری قوت بن گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟

مثل مشہور ہے کہ جب تک بچہ روتا نہیں، ماں اس کو دودھ نہیں پلاتی۔۔۔ اور پاکستانی بچہ تو ایک عرصے سے رو رہا ہے لیکن ماں چونکہ سوتیلی ہی نہیں، سنگدل بھی ہے اس لئے بچہ دودھ سے محروم ہے۔ یہ ’’ماں‘‘ کون ہے اور سوتیلی اورسنگدل کیوں ہے اس کا پتہ چلانے کے لئے کسی ’’ایدھی ہوم‘‘ میں جانے کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔ یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ یہ بچہ رونے دھونے کے بعد بچپنے سے نکل کر لڑکپن تک آ پہنچا ہے اور اب تو جوانی کی دہلیز اس کے سامنے ہے۔ دوسری طرف ماں ہے کہ بوڑھا ہونے کا نام نہیں لیتی۔ اس لئے ایک وقت آنے والا ہے کہ ماں بیٹے میں ٹھن جائے گی اور ماں کتنی بھی لحیم شحیم اور موٹی تازی سہی اسے اس امر کا خیال رکھنا پڑے گا کہ بیٹا جوان ہو گیا ہے اور ماں کی دوامی جوانی کا سارا راز بھی بیٹے کے علم میں آ چکا ہے اس لئے اسے آج نہیں تو کل اس جوان جہان بیٹے کے سامنے اپنی چھاتیاں کھول دینی ہوں گی تاکہ عہدِ طفلی کی پیاس بجھ سکے۔۔۔آج پاکستان سے چھوٹے (یا بڑے ) جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کو ختم کرنے کا جو مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیا پاکستان اس جھانسے میں آ جائے گا؟۔۔۔ اس سوال کے جواب کے لئے پاکستان کو صبر کرنا اور امریکہ کو بے صبر ہونا پڑے گا!۔۔۔ امریکہ کی بے صبری پاکستان کے لئے صبرشکنی کا باعث بن گئی تو پھر کیا ہوگا۔امریکہ شائد اسی لئے پاکستان سے کچھ کچھ خائف رہنے لگا ہے۔

مزید :

کالم -