علامہ اقبالؒ ؒ کا مقام اور حسن نثار کا فتویٰ

علامہ اقبالؒ ؒ کا مقام اور حسن نثار کا فتویٰ
 علامہ اقبالؒ ؒ کا مقام اور حسن نثار کا فتویٰ

  

جب سے حکومت نے علامہ اقبال ؒ کے یوم پیدائش پر چھٹی ختم کرنے کا متنازعہ فیصلہ کیا ہے،شاعر مشرق کے بارے میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے بھانڈ بھی سامنے آ گئے ہیں۔ چلیں جی مان لیتے ہیں، ہمیں کام کرنے کی بہت ضرورت ہے، اس لئے چھٹیاں ختم ہونی چاہئیں، مگر یہ جو نئی نسل کو اپنے مشاہیر سے گمراہ کرنے کا مذموم سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، اس کا جواز کیا ہے اور اُن بقراطی و خود ساختہ دانشوروں کے پاس دلیل کیا ہے کہ وہ علامہ اقبال ؒ کو ایک قومی ہیرو اور عظیم شاعر کے طور پر رد کر سکیں؟ جس شاعر کو دُنیا عظیم سمجھتی ہو، مختلف ممالک میں جس کے نام کی شاہراہیں اور یونیورسٹی چیئرز قائم ہوں، اُسے ہمارے نرگسیت کے شکار کچھ لوگ اگر لمحۂ موجود میں غیر متعلق ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اُن کی سوچ اور دانشوری کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

مَیں حسن نثار کو ایک سیلف میڈ انسان سمجھتاہوں۔ اُن کے پاس قلم کی طاقت موجود ہے۔ اُن کے کالم نے پسے ہوئے طبقوں کی نمائندگی کی ہے اور وہ سچ لکھنے کی جرأت رکھتے ہیں، مگر یوں لگتا ہے، جیسے اب وہ اُس فیز میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں انسان خود پسندی کا شکار ہو جاتا ہے اور اُسے اپنے سوا کوئی دوسرا دکھائی ہی نہیں دیتا۔میرا خیال ہے حسن نثار جب لکھتے ہیں تو اُن کا ذہن اُن کی دسترس میں ہوتا ہے، مگر جب بولتے ہیں اور وہ بھی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر تو اُن کے ذہن کی اُڑانیں اُن کے بس میں بھی نہیں رہتیں۔ مَیں ابھی تک حیران ہوں کہ حسن نثار نے علامہ اقبال ؒ کے بارے میں یہ بات کیسے کہہ دی، اتنا بڑا فتویٰ کیسے جاری کر دیا کہ اقبالؒ عہد موجود میں ’’غیر متعلق‘‘IRRELIVANTہو گئے ہیں ۔۔۔لاحول لا ولا قوت۔۔۔ ایک شاعر جسے دُنیا ابھی تک دریافت کر رہی ہے اور ایران کے روحانی پیشوا نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ ہم اپنے عصری مسائل کا حل علامہ اقبال ؒ کے افکار میں تلاش کر رہے ہیں، اُس کے بارے میں اُردو کے چند حرف لکھنے والے یہ فرماتے ہیں کہ وہ موجودہ دور میں غیر متعلق ہو گئے ہیں۔ حسن نثار جب یہ کہہ رہے تھے تو انہوں نے اقبالؒ کے دو مصرعے پڑھ کر اپنی بات کو گویا درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔مصرعے درج ذیل تھے:

دشت تو دشت ، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

۔۔۔۔۔۔

تیغوں کے سائے میں ہم پَل کر جواں ہوئے ہیں

اُس وقت مجھے یوں لگا جیسے مَیں حسن نثار نہیں، شیدے ریڑھی والے کے افکار سُن رہا ہوں۔ کیا علامہ اقبال ؒ کی شاعری انہی دونوں شعروں کے گرد گھومتی ہے؟ ان اشعار میں تو ملت اسلامیہ کی عظیم تاریخ پر روشنی ڈالی گئی،ان اشعار میں اقبال ؒ کا کوئی فلسفہ موجود نہیں، بلکہ یہ دونوں تاریخی حقائق کو سامنے لاتے ہیں۔ دونوں اشعار میں شجاعت و بہادری کے اُن جذبوں کو نمو دی گئی ہے،جو ہمارے اسلاف کا ورثہ تھے۔اس سے زیادہ کوئی احمقانہ بات ہو نہیں سکتی کہ ان اشعار کا حوالہ دے کر علامہ اقبال ؒ کو غیر متعلق ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایسی بڑھک تو شیدا ریڑھی والا بھی مارتے ہوئے دس بار سوچے گا۔ ایک ایسا شاعر جس کی شاعری میں ایک پورا نظام فکر موجود ہے اور جس نے فرد سے لے کر ریاست تک کی ذمہ داریوں کا تاریخی، مذہبی اور اسلامی حوالوں سے تعین کر دیا ہے،جن کے خطبات میں عصر حاضر کے تمام مسائل کا حل موجود ہے، جس کی شاعری آج بھی دِلوں کو ولولۂ تازہ دیتی ہے،اُس کے بارے میں اگر حسن نثار جیسا شخص،جس کے ہزاروں مداح اور قارئین موجود ہیں، غیر متعلقہ بات کرے گا، تو لوگ سوچ میں ضرور پڑ جائیں گے۔

اُردو ادب کے کلاسیکی شاعروں میر تقی میر، اسد اللہ خان غالب،غلام ہمدانی مصحفی اور حیدر علی آتش کو آج تک کسی نے غیر متعلقہ نہیں کہا، کیونکہ اُن کی شاعری دائمی انسانی جذبوں اور انسانی معاملات پر محیط ہے۔ جب اُن شاعروں کو کوئی ذی شعور غیر متعلقہ نہیں کہتا تو علامہ اقبال ؒ جیسے زندہ جاوید شاعر کو غیر متعلقہ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ محسوس تو یہی ہوتا ہے کہ حسن نثار نے علامہ اقبال ؒ کے صرف چند اشعار ہی پڑھے ہیں اور انہی کی بنیاد پر وہ اُن کے غیر متعلقہ ہونے کی بات کر رہے ہیں، اگر انہوں نے اقبالؒ کے تصورِ خودی کو ہی بغور سمجھا ہوتا تو انہیں ایسی غیر متعلق بات کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔۔۔ایک ایسا شاعر غیر منطقی کیسے ہو سکتا ہے، جو صرف شاعر نہ ہو، بلکہ مفکر اور فلسفی بھی ہو، جس شاعر کے ہاں ایک مکمل نظامِ فکر موجود ہو، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ علامہ اقبال ؒ کی شاعری اُن کے ذہنی و فکری ارتقاء کی علامت ہے۔بانگِ درا سے اُن کی شاعری کا جو سفر شروع ہوا تھا، وہ ارمغانِ حجاز، تک آتے آتے فکرو نظر کی کئی منزلیں طے کر گیا۔ایسے میں اُن کے دو چار اشعار سُنا کر اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ زمانۂ حال یا مستقبل کے لئے غیر متعلق ہو گئے ہیں، تو اس سے اُس کی کوتاہ نظری ظاہر ہوتی ہے۔

آج اگر کوئی یہ کہے علامہ اقبالؒ نے تو’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ جیسے خیالات کا اظہار کیا تھا،پھر وہ پاکستان کے خالق کیسے ہو گئے تو اس سے بڑی حماقت اور کیا ہو گی۔ علامہ اقبالؒ ایک انسان تھے، پیغمبر نہیں تھے کہ شروع سے آخر تک ایک ہی بات پر قائم رہتے،اس طرح تو ہم سر سید احمد خان اور حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کو بھی یہ الزام دے سکتے ہیں کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے، پھر انہوں نے دو قومی نظریے کی بات کیوں کی؟ کیوں علیحدہ وطن کو ضروری سمجھا؟۔۔۔سوال یہ ہے کہ اقبالؒ کا تصورِ مردِ مومن کسی بھی دور میں غیر متعلقہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو مسلمان کی معراج ہے اور اگر ہم اس تصور کی نفی کر دیتے ہیں تو اپنی شناخت سے محروم ہو جاتے ہیں۔اگر حسن نثار جیسے دانشور اقبالؒ کے اس تصور میں بھی طالبان جیسے مردِ مومن تلاش کر لیتے ہیں تو یہ ان کی اپنی سوچ ہو گی، وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ مردِ مومن کا فلسفہ اُس عظیم المرتبت انسان کی تشکیل تک لے جاتا ہے جو زمین پر اللہ تعالیٰ کے نائب کی حیثیت سے زندگی گزارتا ہے اور اپنی شخصیت سے زمین پر بسنے والوں کے راحت و اطمینان کا سامان کرتا ہے۔

حسن نثار ویسے تو اپنے کالموں اور پروگراموں میں رشوت، ملاوٹ، دھوکہ دہی، ظلم، ناانصافی، وڈیرا شاہی اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں، مگر ان سب کے خلاف علامہ اقبالؒ کی شاعری سے انہیں کوئی مثال نہیں ملتی،حالانکہ صحیح معنوں میں ترقی پسند سوچ کی بنیادعلامہ اقبالؒ نے ہی رکھی تھی۔ زمین اللہ کی ہے، دہقان اس کا مالک ہے، سرمایہ دارانہ نظام استحصال کی وجہ ہے، مزدوروں کو اپنے حقوق کے لئے جاگنا ہو گا۔ یہ اور اس قسم کے تمام پیغامات علامہ اقبال ؒ کی شاعری میں موجود ہیں۔کوئی بتائے کہ ان سب کے ہوتے ہوئے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال ؒ غیر متعلق ہو گئے۔کیا علامہ اقبال ؒ کایہ نظریہ درست ثابت نہیں ہوا کہ مغرب نے جغرافیائی حد بندیوں کے ذریعے ملتِ اسلامیہ کی اجتماعی طاقت کو تقسیم کر دیاہے۔کیا آج اپنی جغرافیائی حد بندیوں کے باعث مسلم اُمہ کی جو حالت ہے، وہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ مغرب نے ایک سازش کے ذریعے مسلمان کو مسلمان سے لڑا دیا ہے، خود برائے نام جغرافیائی حد بندیوں اور مشترکہ ویزے اور کرنسی کے ذریعے انہوں نے خود کو متحد کر لیا ہے، مگر اسلامی ممالک میں رنگ ونسل، فرقے اور جغرافیے کی بنیاد پر اختلافات کی گہری لکیر ڈال دی ہے۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں جو اسلامی کانفرنس منعقد کی تھی، وہ اقبالؒ کے اس خواب کی تعبیر نہیں تھی اور اس کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو مغربی استعمار نے عبرت کا نشان نہیں بنا دیا تھا۔ کیا آج بھی اقبال ؒ کا یہ تصورِ وطنیت مسلم اُمہ کے تمام مسائل کا حل نہیں؟ بہتر ہے کہ حسن نثار اپنی توپوں کا رُخ سیاست دانوں کی طرف ہی رکھیں، کیونکہ اُن میں وہ تمام خرابیاں موجود ہیں جو انسان میں نفرت اور غم و غصے کو جنم دیتی ہیں، جذبات میں آ کر یا خود پسندی کے زیر اثر حسن نثار ایسے فتوے جاری نہ کریں، جو اُن کے دانشورانہ قد کاٹھ کو پیشہ ور مولویوں کی طرح بے اعتبار کر دیں۔

مزید :

کالم -