ریلوے اراضی پر فلیٹوں کی تعمیر؟

ریلوے اراضی پر فلیٹوں کی تعمیر؟

  

کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر ریلوے کی زمین پر قبضہ کرکے بنائے گئے فلیٹ چوبیس گھنٹے کے اندر خالی کرانے کا حکم دیاگیا اور یہ بھی ہدایت کی کہ ٹھیکیدار کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے کہ وہ فرار نہ ہو جائے۔ ریلوے کی بہت سی اراضی پر قبضہ کرنے کے بعد اس پر باقاعدہ کمپلیکس کی صورت میں فلیٹ بنا کر بیچ دیے گئے، لوگوں نے اپنی جمع پونجی اور عمر بھر کی کمائی خرچ کر کے رہائش کے لئے یہ فلیٹ خریدے اور اب ان سے خالی کرا لئے گئے۔ پولیس کی بھاری جمعیت نے سامان باہر نکلوا کر فلیٹوں کو تالے لگوائے، سندھ ہائی کورٹ سے یہ حکم باقاعدہ سماعت کے بعد جاری ہوا، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ سے بھی رپورٹ منگوائی گئی تھی۔عدالت کے فیصلے پر تبصرہ یا تنقید نہیں کی جانا چاہئے کہ فیصلہ ریکارڈ کے مطابق دیا گیا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قبضہ مافیا نے زمین پر قبضہ کر کے فلیٹوں کے کمپلیکس بنائے تو اس وقت متعلقہ محکمہ (ریلوے) اور دوسرے ذمہ دار کہاں تھے؟ اتنے بہت سے فلیٹ اتنی سازی زمین پر ایک روز میں تو نہیں بن گئے، ان کی تعمیر اور پھر فروخت میں وقت لگتا ہے، اتنے عرصہ میں جو ذمہ دار افسر ہیں وہ کہاں تھے؟ اگر قبضہ گروپ طاقتور بھی تھا تو پھر محکمہ کی طرف سے اشتہار کے ذریعے عوام کو خبردار تو کیا جا سکتا تھا کہ وہ یہ فلیٹ نہ خریدیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ اب ان لوگوں پر بپتا پڑی ہے جو خریدار تھے، اور جنہوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کر دی،اب ان کا پُرسان حال کون ہو گا، توقع کرنا چاہئے کہ عدالت عالیہ سندھ اس بارے میں بھی اپنی رائے دے گی۔ بہرحال اب یہ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت پر لازم آتا ہے کہ جو اہلکار اور افسر قبضہ مافیا کی کارروائی میں تعاون کرتے رہے یا جنہوں نے اس صورت حال کو نظر انداز کیا، ان کے خلاف بھی موثر کارروائی کی جائے اور جن لوگوں نے قبضہ کر کے یہ تعمیرات کیں اور کروڑوں روپے کما کر الگ ہو گئے ان کو بھی گرفتار کر کے نہ صرف ان کو سزا دلائی جائے، بلکہ ان سے رقوم بھی وصول کی جائیں، جن شہریوں نے یہ فلیٹ خریدے اور ان کے پاس ادائیگی کے ثبوت بھی ہیں، ان کی داد رسی بھی ہونی چاہئے۔ اگر محکمہ ریلوے اس اراضی پر نئے فلیٹ رکھ سکتا ہے، تو پھر یہ انہی لوگوں کو الاٹ کئے جائیں جو خریدار ہیں اور جو ذمہ دار ہیں ان سے رقوم بھی وصول کی جائیں۔ اگر ریلوے کو یہ اراضی درکار ہے اور فلیٹ گرائے جانا ہیں تو پھر لوگوں کو معاوضہ دلانے کا طریقہ وضع کیا جائے کہ یہ غریب لوگ بے قصور ہیں۔

مزید :

اداریہ -