موثر اور گڈ گورننس کے لئے آئین کی پیروی لازم

موثر اور گڈ گورننس کے لئے آئین کی پیروی لازم

  

عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور گورننس کے حوالے سے ایک بار پھر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں منگل کو جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں کورکمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی،اس موقع پر آرمی چیف آپریشن ضربِ عضب کے نتائج سے تو مطمئن تھے لیکن انتظامی اقدامات پر بے اطمینانی کا اظہار کیا گیا۔ واضح کیا گیا کہ مُلک میں پائیدار امن اور آپریشن ضربِ عضب اور کراچی کے طویل المدت فوائد حاصل کرنے کے لئے موثر گورننس ہی واحد ذریعہ ہے ۔ کانفرنس میں قومی ایکشن پلان کے بیس نکات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔آرمی چیف نے اس موقع پر قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے، جے آئی ٹیزکے زیر نگرانی ہائی پروفائل کیسوں کی تحقیقات مکمل کرانے اور فاٹا ریفارمز کی طرف ترجیحی بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ، انہوں نے دہشت گردی سے پاک پاکستان کے حصول کی راہ میں ان امور کو بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں کیس ایسے ہیں، جن کی تحقیقات پولیس افسران کی سربراہی میں بننے والی جے آئی ٹیز (مشترکہ تحقیقاتی ٹیم)کر رہی ہیں،لیکن یہ تحقیقات مکمل ہونے میں نہیں آ رہیں، رینجرز نے کراچی میں کئی مشکوک افراد گرفتار کئے،لیکن تحقیقاتی ٹیمیں اپنا کام بروقت مکمل نہیں کر سکیں۔انہوں نے فاٹا میں سیاسی و اقتصادی ریفارمز کے حوالے سے بھی گفتگو کی، ان کا کہنا تھا کہ جو علاقے کلیئر ہو گئے ہیں وہاں پر فوری کام ہونا چاہئے۔آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ گزشتہ برس دسمبر میں سانحہ پشاور نے قومی و عسکری قیادت کو ایک میز پر سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کر دیا تھا، طویل صلاح مشورے کے بعد قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا، بے شک یہ ایک بڑا معرکہ تھا جو ہماری قومی قیادت نے سر کیا، لیکن ہم نے تب بھی ان کالموں میں ذکر کیا تھا کہ ایکشن پلان کے تشکیل دینے سے زیادہ بڑا چیلنج اس کا نفاذ ہو گا اور اب اسی حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ قومی ایکشن پلان پر بالکل بھی عملدرآمد نہیں ہوا، بہت کچھ کیا گیا، آئین میں ترامیم کے ذریعے فوجی عدالتیں بنائی گئیں، موبائل سموں کی تصدیق کا مرحلہ طے ہو ا،کراچی کے حالات میں بہتری آئی ہے،فاٹا میں کامیابی اپنی جگہ، بلوچستان میں بھی کارروائی جاری ہے، دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی ہوئی اور انسداد دہشت گردی فورس بھی بن گئی۔لیکن اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ ابھی بہت کچھ کرناباقی ہے،جس کا احساس مختلف حلقوں کی جانب سے گاہے بگاہے حکومت کو دلایا جاتا ہے۔خود آرمی چیف نے ابھی ایک دن قبل ہی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے ملاقات کے دوران ایکشن پلان اورگورننس کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔پاک فوج کی جانب سے قومی ایکشن پلان کے حوالے سے بے اطمینانی کوئی پہلا موقع نہیں ہے،اس سے پہلے بھی ایسے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہاہے، لیکن ظاہر ہے یہ سب کچھ ایک دن، ایک ماہ یا ایک سال میں نہیں ہو سکتا،اس کے لئے مسلسل بلکہ پیہم کوشش کی ضرورت ہے۔جنرل راحیل شریف نے اس ماہ کے آغاز میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے لئے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تواس وقت بھی شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے دوران دہشت گردوں کی فنڈنگ کا معاملہ اٹھایا تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کالعدم تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی جا سکی اور مدرسہ ریفارمز کا معاملہ بھی تعطل کا شکار ہے،حالانکہ طویل مذاکرات اور بحث مباحثے کے بعد مدرسہ انتظامیہ اور حکومت کے درمیان رجسٹریشن کے لئے بنائے جانے والے فارم پر اتفاق رائے ہو گیا تھا اور کمیٹی بھی بن گئی تھی ۔چند ماہ قبل سپریم کورٹ کے ایک جج نے بھی قومی ایکشن پلان کے سلسلے میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا، ان کا کہنا تھااس سے پہلے ہمارے وزیر دفاع نے بھی بلا ہچکچاہٹ اعتراف کیا تھا کہ جتنی سرعت سے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہو رہا، لیکن ہمارے وزیر داخلہ کے خیالات اس کے برعکس ہیں، وہ ہمیشہ اس بات پر مصررہے کہ ایکشن پلان پرپوری کامیابی سے عمل جاری ہے۔

اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں ہمارا نظام بہت مرمت چاہتا ہے۔پولیس، تفتیشی ادارے، عدالتیں، درس گاہیں سب توجہ طلب ہیں،اور دیر پا تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یہ بات سمجھنا لازم ہے کہ صرف آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے دہشت گردی سے پاک پاکستان کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا اور ’’پوسٹ آپریشن کیئر‘‘ کی طرف توجہ نہ دی گئی تودہشت گردی کے عفریت کے دوبارہ سر اٹھانے کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔ پائیدارامن کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کواپنے مزاج میں تبدیلی لانا ہو گی، بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا۔ تمام محکموں میں نظم و ضبط قائم کرنے کی ضرورت ہے، ایڈہاک ازم کی بنیاد پر نظام نہیں چلا کرتے۔ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت بہتر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر پولیس کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام بھرتیاں سیاسی دباؤ کی بجائے میرٹ پر ہوں۔ہم سب کو یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ موثر گورننس کے لئے ہر حال میںآئین کی پیروی لازم ہے۔ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شعبے میںآئین و قانون کا اطلاق لازمی بنائے۔د ہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے تمام مصلحتوں سے بالا تر ہو کرتیزی سے کام کرنا ہو گا،اس وقت ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ، اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا سستی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مزید :

اداریہ -