فاؤنڈری انڈسٹری میں برآمدات کے فروغ کی وسیع تر گنجائش ہے: سکندمصطفی خان

فاؤنڈری انڈسٹری میں برآمدات کے فروغ کی وسیع تر گنجائش ہے: سکندمصطفی خان

  

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان کی فاؤنڈری انڈسٹری میں برآمدات اور وسائل روزگار کے فروغ کی وسیع تر گنجائش موجود ہے جسے بروئے کار لانے کیلئے فاؤنڈری سروس سنٹر کے قیام جیسے مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔ یہ بات پاکستان فاؤنڈری ایسوسی ایشن کے صدر سکندر مصطفےٰ خان نے یہاں سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ’سمیڈا ‘کے زیر اہتمام فاؤنڈری سروس سنٹر میں ’آئرن کاسٹنگ کے جدید طریقوں کے موضوع پر منعقدہ ایک ٹریننگ ورکشاپ میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کر تے ہوئے کہی۔ورکشاپ کے کلیدی مقرر فاؤنڈری کی صنعت کے معروف عالمی ایکسپرٹ نبیل خان تھے۔ اس موقع پر یونیورسٹی آف انجینئنرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد اور فاؤنڈری سروس سنٹر کے پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید افضل نے بھی خطاب کیا۔ سکندر مصطفےٰ خان نے اپنے خطاب میں فاؤنڈری کے مقامی صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ فاؤنڈری سروس سنٹر کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے معیاری مصنوعات تیار کر نا شرو ع کریں تاکہ عالمی منڈی میں یورپ کی وجہ سے پیدا شدہ خلا سے بھارت اور چین کی طرح پاکستان بھی بھرپور استفادہ کرسکے۔فاؤنڈری کے معروف عالمی ماہر نبیل خان نے شرکاء کو عالمی سطح پر رائج آئرن کاسٹنگ کے جدید طریقوں کے بارے میں سیر حاصل آگاہی دی اور انہیں ان طریقوں عملی مظاہر بھی کر کے دکھایا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ آئرن کاسٹنگ کے جدید طریقوں پر عمل کرکے مقامی صنعتکار اپنی مصنوعات کو نہ صرف اعلیٰ معیار سے ہمکنا کر سکتے ہیں بلکہ اس سے اپن قیمتی وقت اور سرمایہ بھی بچا سکتے ہیں۔اس موقع پر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی ، لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے فاؤنڈری انڈسٹری کیلئے ایک اہم موضوع پر ایک جدید ٹریننگ کا اہمتام کر نے پر سمیڈا، فاؤنڈری سروس سنٹر اور پاکستان ایسوسی ایشن آف فاؤنڈری کو خراج تحسین پیش کیا

مزید :

کامرس -