سلوان میں فوج اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کرفیو کا نفاذ

سلوان میں فوج اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کرفیو کا نفاذ

  

انقرہ ()اے پی پی )ترکی کے جنوب مشرقی قصبے سلوان میں سرکاری فورسز اور کرد علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد مسلسل دوسرے ہفتے کرفیو نافذ ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق سرکاری فورسز اور کردوں کے درمیان لڑائی کی حالیہ لہر کے بعد جنوب مشرقی قصبے سلوان میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی کرفیو نافذ ہے۔ علاقے کی ویران سڑکوں پر ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں گشت کرہی ہیں اور گولیوں سے چھلنی عمارتوں کی چھتوں پر فوج تعینات کی گئی ہے جبکہ دکانیں بند ہونے سے لوگوں کو خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہے۔سلوان کے علاقے میں ترک حکام اور کرد علیحدگی پسندوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے حالات سنگین صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں۔ترک فورسز کی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کے عسکریت پسندوں سے بعض علاقوں کا قبضہ چھڑانے کی لڑائی کے دوران ایک پولیس اہلکار سمیت 7 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔مقامی صحافی ابراہیم بختیار نے کہا کہ کرفیو کے دوران مضافاتی علاقوں میں کوئی تحفظ نہیں لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے کہیں سے بھی گولی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -