آئی ایس پی آر کا بیان۔ چائے کی پیالی میں طوفان

آئی ایس پی آر کا بیان۔ چائے کی پیالی میں طوفان

  

یہ کیسا طوفان ہے حقیقی ہے یا مصنوعی یہ طوفان چائے کی پیالی جیسا ہے یا کسی سونامی جیسا؟ سارا دن حیران اور پر یشا ن رہا۔ کہ آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز پر اتنا طوفان کیوں۔ یہ جو گرج برس رہے ہیں یہ حکومت کے دوست ہیں یا دشمن۔ آخر کیا کہہ دیا ہے کہ اتنے غصہ والی بات ہے۔ وہی پرانی باتیں۔میرے نزدیک پریشانی اور حیرانی کی بات تب تھی جب یہ سب باتیں آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں نہ کی جاتیں۔

حکومت تو آئی ایس پی آر کے بیان پر خاموش ہی رہی۔ اسے خاموش ہی رہنا چاہئے تھا۔ اسی میں بہتری ہے۔ وہ وقت گیا جب ایک بیان پر جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لے لیا گیا تھا۔ اب نہ تو کوئی استعفیٰ دیتا ہے اور نہ ہی کوئی کسی سے استعفیٰ لے سکتا ہے۔ یہ اصول بلا تفریق سب کے لئے ہے۔ کنٹینر والے روز مانگتے رہے لیکن وزیر اعظم نے بھی استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ اور باقی کسی میں ہمت نہیں کہ کسی سے بھی استعفیٰ مانگ لے۔

آئی ایس پی آر کے بیان پر سب سے پہلے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ گرجے ۔ یہ ان کی طرف سے ایک ا چھی چال تھی کہ انہوں نے آئی ایس پی آر کے بیان کا رخ وفاقی حکومت کی طرف موڑ دیا۔ حالانکہ یہ بیان ان کی جماعت کی سند ھ حکومت کے لئے دیا گیا تھا۔ کون نہیں جا نتا کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کوگورننس کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ کراچی ٓاپریشن سمیت سندھ میں کرپشن کی بے پناہ داستانیں ہیں۔ اسی وجہ سے آصف زرداری خود ساختہ جلا وطنی پر مجبور ہیں۔ شرجیل میمن جیسے مضبوط وزیر بھی بھاگ گئے ہیں۔ اس لئے خورشید شاہ کی جانب سے یہ ا چھی چال تھی کہ اس سے پہلے کہ آئی ایس پی آر کے بیان کوسندھ حکومت کے تناظر میں سمجھا جائے ۔ اسے وفاقی حکومت کی جانب موڑ دیا جائے۔ انہوں نے بیان کی کوئی خاص مذمت نہیں کی۔ بس کہا کہ وفاقی وزراء کو گورننس بہتر کرنی چاہئے۔ کاش وہ یہ مشورہ سندھ کی پیپلزپارٹی کی حکومت کو بھی دیتے۔ جہاں کل ہی ریلوے کی زمین پر ناجائز بلڈنگ کا سکینڈل سامنے آیا ہے۔

محمود خان اچکزئی بھی خوب گرجے ہیں۔ لیکن انہوں نے ایک اچھی بات کی ہے کہ اگر دونوں شریف ایک پیج پر ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ اس لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو انہیں پیغام دینا چاہئے کہ تما م شریف ایک پیج پر ہیں۔ اور بدمعاش دوسری طرف ہیں۔

تحریک انصاف خاموش ہے۔ انہیں بھی پتہ ہے کہ آئی ایس پی آر کا اشارہ ان کی طرف بھی ہے۔ ان کی خیبر پختونخوا کی حکومت کی بھی نیشنل ایکشن پلان کے حوالہ سے کارکردگی کوئی خاص متاثر کن نہیں ہے۔ بلکہ ان کے زیر انتظام علاقہ سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہے۔ اور اس ضمن میں ان کی کارکردگی پر سب سے زیادہ سوالیہ نشان ہیں۔

سیاست میں بیان کا جواب بیان سے ہی دیا جاتا ہے۔ اسے بیان بازی کی سیاست کہتے ہیں۔ میاں نواز شریف نے اپنی حکومت کی گڈ گورننس بیان کر دی ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ بڑے بڑے منصوبوں میں نہ کوئی کمیشن مانگ رہا ہے اور نہ ہی کوئی کک بیک ہے۔ یقیناًیہ بھی گڈ گورننس کا ایک معیار ہے کہ بڑے بڑے منصوبوں میں کمیشن اور کک بیک نہیں لیا جا رہا۔ شاید اسی لئے حکومت کی طرف سے کسی نے بھی آئی ایس پی آر کے بیان کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا کیونکہ وزیر اعظم ایک روز قبل اس کا اپنی حکومت کی حد تک واضح جواب دے چکے تھے۔

پاکستان میں فوج نے ایک لمبے عرصہ تک اقتدار پر قبضہ کئے رکھا ہے ۔ ٹھیک ہے کہ پاک فوج کو میانمر جیسا اقتدار نہیں ملا۔ لیکن یہ کسی بھی طرح میانمر سے کم بھی نہیں تھا۔ ہمیں پاک فوج کو دنیا کی روایتی فوج کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہئے۔ پاک فوج ایک غیر روایتی فوج ہے۔ اور ہمیں اس کے غیر روایتی ہونے پر فخر ہے۔ اس لئے غیر روایتی فوج غیر روایتی بیان تو جاری کرے گی۔ پریشان ہو نے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی کا مشورہ بھی کوئی قابل قدر نہیں ہے کہ اس پرپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا لیا جائے۔ یہ پیپلزپارٹی کی خواہش تو ہو سکتی ہے کہ سندھ پر ان پر جس قدر دباؤ ہے اسے مرکز میں شفٹ میں کر دیا جائے ۔ تا کہ سندھ میں سکون ہو جائے۔ لیکن شاید میاں نواز شریف اتنے بھولے نہیں ہیں۔ کہ پیپلزپارٹی کی اس چال کا شکار ہو جائیں۔ پیپلزپارٹی کو تو اندازہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات جیتنے کے بعد بھی یہ ان کی سندھ میں آخری اننگ ہے۔ اگر پیپلزپارٹی کی آخری اننگ نہیں تو پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کی یہ آخری اننگ ہے کیونکہ اگلی اننگ بلاول کی ہو گی۔ جس میں ان انکلز کی کوئی جگہ نہیں ہو گی۔

اس لئے آئی ایس پی آر کا بیان فی الحال چائے کی پیالی میں طوفان سے زیادہ کچھ نہیں۔ نہ ہی اس بیان پر شور شرابے سے آئی ایس پی آر کو کوئی فرق پڑے گا ۔ اور نہ ہی حکومت اس سے کوئی خاص پریشان ہے۔ جو پریشان ہیں۔ وہ بول رہے ہیں۔ جہاں تک آرمی چیف کے دورہ امریکہ کا تعلق ہے تو جو اس دورہ کے حوالہ سے پریشان ہیں انہیں شاید پتہ نہیں کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورہ سے قبل ڈی جی آئی ایس آئی نے امریکہ کا چار روز کا دورہ کیا تھا۔ پاک فوج امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہے۔ یہ رابطہ آج کا نہیں ہے۔ امریکہ نے پاکستان میں جب بھی کچھ کرنا ہو تا ہے وہ فوج سے ہی بات کرتا ہے۔ اس میں بھی کوئی پریشانی والی بات نہیں۔ جو گفتگو ڈی جی آئی ایس آئی سے ہوئی تھی وہی میاں نواز شریف سے ہوئی۔ جو میاں نواز شریف سے ہوئی وہی جنر ل راحیل شریف سے ہوگی۔ باقی جس سے سب کو خطرہ ہے۔ اس کے لئے جانا ضروری نہیں۔ وہ کام دورہ کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔

مزید :

کالم -