ڈبل شاہ(مرحوم) کے ایجنٹوں کی جائیداد نیلام کر کے ایک ماہ میں متاثرین کی ادائیگی کا حکم

ڈبل شاہ(مرحوم) کے ایجنٹوں کی جائیداد نیلام کر کے ایک ماہ میں متاثرین کی ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ڈبل شاہ اور اس کے ایجنٹوں کی جائیدادیں نیلام کر کے شہریوں کو ایک ماہ میں ادائیگیاں کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ مسٹر جسٹس محمود مقبول باجوہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے ڈبل شاہ سکینڈل کے دیگر متاثرین کو رقوم واپس کروا دی ہیں مگر انہیں رقم واپس نہیں دلوائی جا رہی۔ نیب کے ایڈیشنل ڈپٹی پراسکیوٹر رانا عارف محمود نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ نیب نے ریکوری سیل تشکیل دیدیا ہے جس میں متاثرین کو رقوم کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے، ڈبل شاہ عرف سبط الحسن گیلانی کی کل 33مختلف جائیدادیں تھیں جن میں سے 28نیلام کر کے متاثرین کو 28کروڑ روپے کی رقوم واپس کر دی گئی ہیں اور 2012ء میں باقی جائیدادکا تخمینہ لگایا گیا تھا مگر ڈبل شاہ کے عدالتوں سے رجوع کرنے کے بعد ان جائیدادوں کی نیلامی کا عمل روک دیا گیا تھا، ریکوری آفیسر کی جانب سے باقی جائیدادوں کی رپورٹ پیش نہ کرنے پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس والوں کی طرح بھاگنے کی کوشش نہ کریں، عدالت کو تحریری طور پر رپورٹ پیش کریں ، نیب کے وکیل کی استدعا پر عدالت نے نیب کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ڈبل شاہ اور دیگر ایجنٹوں کی جائیدادوں کی نیلامی کر کے متاثرین کو رقوم لوٹائی جائیں ، عدالت نے 16نومبر تک نیلامی اور ادائیگیوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

متاثرین ادائیگی

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے میاں نواز شریف کے سابق دور حکومت میں وزیر اطلاعات اعظم خان ہوتی (مرحوم)کی موٹر وے پراجیکٹ سکینڈل میں سزا کے خلاف اپیل پر ان کے وکیل کونوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16نومبر تک ملتوی کردی ۔مسٹر جسٹس محمود مقبول باجوہ اور مسٹر جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل دو رکنی بنچ کے روبرو اعظم خان ہوتی کی اپیل پر سماعت شروع ہوئی تو اپیل کنندہ کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ نیب عدالت اٹک نے 2003ء میں سابق وزیر اطلاعات اعظم خان ہوتی کو دو سال قید اور ایک کروڑ 50لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ۔

مزید :

صفحہ آخر -