صوبائی دارالحکومت میں ڈکیتی، قتل اور گاڑی چھیننے کے واقعات میں ہو شربا اضافہ

صوبائی دارالحکومت میں ڈکیتی، قتل اور گاڑی چھیننے کے واقعات میں ہو شربا اضافہ

  

لا ہور(رپو رٹ ،محمدیو نس با ٹھ) پنجا ب با لخصوص صو با ئی دا را لحکو مت میں رواں سا ل کے دورا ن ڈکیتی ،قتل اور گا ڑی چھیننے کے وا قعا ت میں ہو شر با اضا فہ ہو نے سے لا کھو ں شہر ی عد م تحفظ کا شکا ر ہیں ۔شہر کا ایک بھی علا قہ ایسا نہیں جہا ں لو گ ا پنے آپ کو محفو ظ تصور کر تے ہوں۔دن را ت کے کسی بھی پہر مسلح ڈا کوآپ پر اسلحہ تا ن کر آپ کو لو ٹ سکتے ہیں ۔گھر محفو ط ہیں نہ گلیاں سڑ کیں تجا ر تی مرا کز بھی ڈا کو چورو ں کی دسترس سے دور نہیں۔دوسر ی جا نب پو لیس محض مقد ما ت کے اندراج ا ور متا ثر ین کو جھو ٹی تسلیاں دینے پر اکتفا کر رہی ہے ۔وزا ر ت دا خلہ کی رپو رٹ کے مطا بق ملک بھر میں چو ر ی اور را ہز نی کی وارداتیں پنجاب میں سب سے زیا دہ ہو ئی ہیں۔قو می اسمبلی میں گزشتہ 5 سالو ں کے اعدادو شما ر کے مطا بق ملک بھر میں چو ر ی کے 3 لا کھ74ہزارمقد ما ت میں سے3لا کھ 10ہزار صر ف پنجا ب میں درج ہو ئے ہیں جبکہ را ہز نی کے 1 لا کھ20 ہزار واردا تو ں میں سے93ہزار پنجا ب میں مقد ما ت درج ہیں۔ وازارت داخلہ کی رپو رٹ کے مطا بق د ہشت گر دی کے خلا ف جنگ میں پا کستا ن کو اب تک 118 ار ب روپے کا نقصا ن ہو ا ہے ۔ اس وقت جبکہ ملک بھر میں دہشتگردی‘ قتل و غارت اور دوسری سنگین وارداتیں ایک چیلنج بنی ہوئی ہیں‘ اشتہاریوں کی تعداد میں اضافہ پنجاب پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ایک کھلا چیلنج ہے۔ جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی انتہائی سنگین ہے۔اگر چہ پولیس نے اس تشویشناک اضافے کو نئے مقدمات کا اندراج قرار دیا ہے تا ہم ماضی میں اتنا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ذرا ئع کے مطا بق اس وقت پنجاب پولیس کے تمام افسروں سمیت ماتحت ملازمین تک کل تعداد2 لاکھ9ہزار450کے قریب ہے جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اشتہاری مجرموں کی تعداد ایک لاکھ53ہزار200سے زائد بیان کی گئی ہے۔با خبرذرائع نے دعو ی کیا ہے کہ پولیس شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام دکھا ئی دیتی ہے۔، شہر میں روزا نہ در جنو ں شہر یو ں کو لو ٹ لیا جا تا ہے اگر یہ کہا جا ئے کہ ہر گھنٹے میں متعدد شہر ی ڈا کو ؤں کا شکا ر ہو جا تے ہیں تو بے جا نہ ہو گا سر کا ر ی اعدادو شما ر کے مطا بق لا ہو ر شہر میں یکم جنوری 2015سے 31اکتوبر 2015تک 70ہزار 865کل مقد ما ت کا اندرا ج ہوا ہے ۔ 10ماہ کے دوران لاہور میں ڈکیتی ، راہزنی ، چوری ، گاڑی و موٹر سائیکل چھینے، چوری کئے جانے اور چوری کی دیگر متفرق کرائم کے 64 ہزا88 مقد ما ت رجسٹر ہو ئے ہیں۔ان مقد ما ت میں قتل کے 359 اقدام قتل کے 452 ڈکیتی کے51راہبر ی کے 2133 اور ویکل چور ی کے 3782مقد ما ت کا اندراج کیا گیا ہے ۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق پنجاب پولیس کو انتہائی مطلوب سر کی قیمت والے240اشتہاریوں کی نئی لسٹ بھی جاری کر دی گئی ہے جن کے سر کی قیمت کروڑوں روپے مقرر ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق لا ہور شہر میں گزشتہ دو سال تک اشتہاریوں‘ عدالتی مفروروں کی تعداد27ہزار کے قریب تھی جو رواں سال بڑھ کر35ہزار جبکہ پنجاب میں یہ تعدادایک لاکھ 5ہزار سے بڑھ کر ڈیڈھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ایک سرکاری ادارے کی طرف سے تقریباً3سال قبل پولیس کے اعلیٰ افسران کو ایک رپورٹ بھجوائی گئی تھی جس کے مطابق لا ہور شہر اور اس کے گردونواح10سے14اشتہاریوں پر مشتمل ایک اشتہاریوں کے ایک خطرناک گروہ نے درجنوں سنگین وارداتیں کی ہیں اس گروہ کو گرفتار کیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -