مہنگے ٹرانسفارمرز خریداری کیس، دیگر ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر عدالت کا اظہار برہمی

مہنگے ٹرانسفارمرز خریداری کیس، دیگر ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر عدالت کا ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے این ٹی ڈی سی ایل کے سابق چیف انجینئر کی ٹرانسفارمز خریداری کے مقدمہ میں ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیب تفتیش میں پک اینڈ چوز کی پالیسی نہ اپنائے، عدالت نے ٹرانسفارمرز کی خریداری کی منظوری دینے والی کمیٹی کے باقی ممبران کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر برہمی کا اظہار بھی کیا ۔مسٹر جسٹس محمود مقبول باجوہ اور مسٹر جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل دو رکنی بنچ کے روبروسابق چیف انجینئر عنایت حسین کی درخواست ضمانت پر سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے دو ستمبر کو تحقیقات کے بہانے بلا کر گرفتار کر لیا ، درخواست گزار کو مثانے کا مرض لاحق ہونے کی وجہ سے خود چل پھر نہیں سکتا، عدالتی حکم کے باوجود اسے ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا، عدالت کومیڈیکل سپرنٹنڈنٹ سروسز ہسپتال اور سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل نے بتایا کہ درخواست گزار کو ہسپتال اس وجہ سے منتقل نہیں کیا جا سکا کہ ماہر یورالوجسٹ ہسپتال میں موجود نہیں جبکہ عنایت حسین کے جسم کا اوپری حصہ تندرست ہے تا ہم وہ چل پھر نہیں سکتا، ایڈیشنل ڈپٹی پراسکیوٹر نیب رانا عارف محمود نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے خلاف تحقیقات تا حال مکمل نہیں ہوئی ہیں اور اسی وجہ سے ریفرنس ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں کیا گیا ، انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ عنایت حسین نے این ٹی ڈی سی ایل میں بطور چیف انجینئر ایک لاکھ چھبیس ہزار ٹرانسفارمرز کی خریداری کے تکنیکی بنیادوں پر تجزیہ کیا اور ان کی قیمت کا تعین مارکیٹ ریٹ سے زیادہ کیا، عدالتی استفسار پر تفتیشی افسر توصیف علی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نیب نے ٹرانسفارمز کی زیادہ قیمت پر خریداری کی تحقیقات کا آغاز سال دو ہزار دس میں کیا ، بنچ کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ آئیسکو اور گیپکو کے چیف ایگزیکٹو نے مہنگے ٹرانسفارمرز کی خریداری کے خلاف اینٹی کرپشن میں درخواست دی جس پر نیب نے معاملہ پر تحقیقات کیں اور یو ای ٹی، پی سی ایس آئی آر، نیسپاک اور لمز سے ٹرانسفارمز کی قیمتوں کے حوالے سے تجزیہ کروایا گیا جس میں یو ای ٹی نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ خریدے گئے ٹرانسفارمرز کی قیمت آئندہ 25برس تک اتنی زیادہ نہیں ہو سکتی جبکہ دیگر اداروں نے قیمت کے حوالے سے اختلاف نہیں کیا، انہو ں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ٹرانسفارمرز کی خریداری سے قبل ایم ڈی پیپکو کی سربراہی میں دس تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو اور درخواست گزار سابق چیف انجینئر عنایت حسین پر مشتمل کمیٹی نے پہلے سے طے کئے گئے نرخوں سے ڈیڑھ فیصد ڈسکاؤنٹ کر کے ان کی خریداری کی منظوری دی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا منظوری دیتے وقت کمیٹی کے ممبران کے کان اور زبانیں بند تھیں ؟ وہ اس وقت اختلافی نوٹ دے سکتے تھے، نیب پک اینڈ چوز کی پالیسی نہ اپنائے، عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو کے بیان ریکارڈ کئے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ مذکورہ چیف ایگزیکٹو ز نے زبانی بیان دیا ہے، جس پر عدالت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور تفتیشی افسر آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ تمام شامل تفتیش افراد کا بیان تحریری طور پر ریکارڈ پر لایا جاتا ہے ، ایک الیکٹریکل انجینئر کو لوگوں کی قسمت کے فیصلے کرنے پر تعینات کردیا گیا ہے کیوں نہ تفتیشی افسر کو اس عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جائے، جس پر نیب کے پراسکیوٹر نے استدعا کی کہ آئندہ تاریخ سماعت پر دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کے بیانات ریکارڈ پر لانے کی مہلت دی جائے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد این ٹی ڈی سی ایل کے سابق چیف انجینئر عنایت حسین کو دس لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید :

صفحہ آخر -