اولاد نہ ہونے پر پولیس اہلکار کو بیوی اور ساس نے زہر دیکر مار ڈالا

اولاد نہ ہونے پر پولیس اہلکار کو بیوی اور ساس نے زہر دیکر مار ڈالا

  

لاہور(کامران مغل )بھابھی کی علیحدہ رہنے کی خواہش پر میرا بھائی کانسٹیبل ذوالفقار علی سسرال میں رہائش پذیر ہوا ،اولاد نہ ہونے کی رنجش پر بیوی اور ساس نے دیگر ساتھیوں سے مل کر اسے پہلے قتل کیا ،بعد میں خود ہی نعش بھی دفنا دی ۔بھائی کے قتل کاانہیں ایک سال بعد پتہ چلاجس پر عدالتی حکم پر قبر کشائی کروائی گئی تومیڈیکل رپورٹ سے معلوم ہوا کہ اسے زہر دے کر قتل کیا گیا ہے۔ عدالت سے انصاف تو ملا نہیں لیکن اگلی تاریخ باقاعدگی سے مل جاتی ہے۔آج 6سال بیت چکے ہیں کیازندگی بھر عدالتوں کے چکر ہی لگاتا رہوں گا ۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے عدالتی سروے کے دوران دوگیج باٹاپور کے رہائشی اذان اشرف نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ اس کا بھائی ذوالفقارعلی پولیس میں ملازم تھا۔ 8سال قبل اس کی شادی مناواں کی رہائشی نازیہ بی بی سے ہوئی تھی ،کچھ عرصہ گھر میں رہنے کے بعد اس کی بھابھی نے اپنے شوہر کو علیحدہ رہائش رکھنے پر اصرار کرنا شروع کردیا، اسی وجہ سے گھر میں لڑائی جھگڑا بھی رہتاتھا،بعدازاں اس کے بھائی نے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا اور وہ اپنے بیوی کے ہمراہ اپنے سسرال میں رہائش پذیر ہوگیا ،جہاں اکثر اوقات اس کا اپنی ساس ثریا بی بی کے ساتھ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑا رہتا تھا۔اسی بات کی رنجش دل میں رکھتے ہوئے 17اگست2008ء کو اس کی ساس ثریا بی بی نے اپنی بیٹی نازیہ بی بی ، محمد یونس اورمحمد اعظم عرف عابی سے مل کر اس کے بھائی ذوالفقار علی کو قتل کردیا اور خود ہی نعش کی تدفین بھی کردی ۔بعدازاں ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے بھائی کو قتل کردیا گیا ہے جس کے بعد عدالتی حکم پرقبر کشائی کروائی گئی تو میڈیکل رپورٹ سے معلوم ہوا کہ ذوالفقار علی کو ذہر دے کر قتل کیا گیا ہے جس کے بعدمیری مدعیت میں 5جون 2009ء کو مذکورہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ،متاثرہ شخص کا کہا تھاکہ اس کی بھابی اور ساس سمیت دیگر نے اس کے بھائی کو اولاد نہ ہونے پرقتل کر کے اس کے گھر کی خوشیاں چھین لی ہیں ،انصاف کا لفظ اب اسے خواب لگتا ہے کیوں اتنا عرصہ بیت چکا اورانصاف نہیں مل سکا ہے ،اس کے باوجود وہ بھائی کے قتل میں ملوث اپنی بھابھی سمیت دیگر کو کیفر کردار تک پہنچانے تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔مذکورہ کیس کے حوالے سے مقدمہ مدعی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ کیس مختلف عدالتوں میں زیرسماعت رہاہے ،اب اس کیس کی ایڈیشنل سیشن جج سہیل شفیق کی عدالت میں سماعت جاری ہے لیکن اب تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ،جس کی اصل وجہ ہے کہ ہر بار مخالف فریق کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اگلی تاریخ لے لیتے ہیں اور مقدمہ التواء کا شکار ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -