چائلڈ لیبر قوانین پر عمل درآمد کے سلسلے میں درخواست پرکارروائی کا آغاز 16جنوری کو ہوگا

چائلڈ لیبر قوانین پر عمل درآمد کے سلسلے میں درخواست پرکارروائی کا آغاز ...

  

لاہور(لیڈی رپورٹر)چائلڈ لیبر قوانین پر عمل درآمد کے سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست پر 16جنوری 2016کو دوبارہ کاروائی کا آغاز ہو گا جس میں سرکاری محکمے چائلڈ لیبر کے حوالے سے اعداد و شمار اور حکو متی کاروائیوں کی رپورٹ پیش کریں گے ،ہیومن سیفٹی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے چلڈرن ایکٹ 1991پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کرانے کیلئے جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ اس ضمن میں سرکاری محکموں کی طرف سے ہونے والی غفلت کا نوٹس لیا جائے ،درخواست میں ہیومن سیفٹی کمیشن کے چیئرمین پیر محمد علی گیلانی نے مطالبہ کیا تھا چلڈرن ایکٹ کی دفعہ 14کے تحت سزاؤں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ،حکومت کے پاس بچوں کی جبری مشقت کے حوالے سے درست اعداد و شمار بھی موجود نہیں اور نہ ہی چائلڈ لیبر نہ کرنے والے بچوں کے والدین کو قانون کے مطابق معاشی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جس پر عدالت نے محکمہ شماریات کو چائلڈ لیبر کے حوالے سے تازہ سروے کرانے کی ہدائیت کی تھی اور محکمہ لیبر سمیت متعلقہ اداروں سے تفصیلی جواب طلب کیا تھا ۔ہیومن سیفٹی کمیشن کے چئیرمین پیر محمد علی گیلانی نے اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی جبری اور رضا مندانہ مشقت کے حوالے سے پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے علاوہ نئے قوانین کی بھی ضرورت ہے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -