آرمی چیف نے اپنے تحفظات پیر کے اجلاس میں وزیر اعظم کے سامنے بھی رکھے

آرمی چیف نے اپنے تحفظات پیر کے اجلاس میں وزیر اعظم کے سامنے بھی رکھے

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )کور کمانڈرز کے اجلاس کے اعلامیہ کی باز گشت ملکی سیاست میں سنائی دے رہی ہے،ان خبروں کے بعد کہ فوج نیشنل ایکشن پلان پر عملد رآمد کی رفتار سے مطمئن نہیں ،اس حوالے سے بحث جاری ہے۔پیرکے روز قومی سلامتی سے متعلق اجلاس میں آرمی چیف نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے وزیراعظم کی موجودگی میں کھل کر عدم اطمینا ن کا اظہار کیا۔نجی نیوز چینل کے مطا بق اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشت گردوں کو پکڑنے سے لیکران پر مقدمات چلانے تک تمام بوجھ آرمی نے اٹھا رکھا ہے اور سول ادارے کہیں نظر نہیں آرہے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ سول پراسیکیوٹر زکے دہشت گردی کے ملزمان سے ملنے پر رہائی ہو جاتی ہے ،اس لیے دہشت گردی کے مقدمات کی پیروی کے امور پر شدید تحفظات ہیں۔سوات اور آپریشن ضرب عضب میں 100سے زائد اہم دہشت گرد زیر حراست لیے گئے تھے۔انہوں نے نادرا کی جانب سے دہشت گردوں کے شناختی کاڈز بنانے کے معاملے پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔جنرل راحیل شریف نے وفاق ،خیبر پختونخواہ اور سندھ کی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیاجس پر وزیراعظم نے خیبرپختونخوااورسندھ حکومت سے معاملات اٹھانیکی یقین دہانی کرادی۔اس موقع پر وزیر اعظم نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سکیورٹی اداروں کومکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وزیر اعظم نواز شریف نے آرمی چیف کے تحفظات پر متعلقہ اداروں کی سرزنش کی۔

تحفظات

مزید :

صفحہ اول -