قومی اسمبلی، آرمی ایکٹ، مزدور اور غیر ہنر مند کارکنوں کی اجرت کے ترامیمی بل منظور، اپوزیشن سراپا احتجاج

قومی اسمبلی، آرمی ایکٹ، مزدور اور غیر ہنر مند کارکنوں کی اجرت کے ترامیمی بل ...

  

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی مخالفت کے باوجود پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2015 سمیت مزدوروں کی کم از کم اجرت کا ترمیمی بل کم از کم اجرت برائے غیر ہنر مند کارکنان ترمیمی بل 2015 کثرت رائے سے منظور کرلیاگیا، آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے ذریعے حکومت کو اختیار دیا گیا کہ جیلوں میں پہلے سے موجود قیدیوں کو بھی آرمی ایکٹ کے تحت چالان کر سکے گی جبکہ کم از کم اجرت ترمیمی بل کے تحت مزدوروں کی کم از کم اجرت 12ہزار سے بڑھا کر13ہزار مقرر کرنے کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ پی پی پی کی نفیسہ شاہ کی کم از کم اجرت 13ہزار کی بجائے 18ہزار مقرر کرنے کی ترمیم تکنیکی بنیاد پر مسترد کر دی گئی۔ایوان کے اندر اپوزیشن نے شدید مخالفت کی اور بل کو دوبارہ متعلقہ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیا تاہم ڈپٹی سپیکر نے آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کو یکمشت ایوان میں پیش کیا اور بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔ بل پارلیمانی سیکرٹری دفاع چودھری جعفر اقبال نے وزیر دفاع کی طرف سے بل ایوان میں پیش کیا ۔ اپوزیشن نے شدید شور مچایا کہ پارلیمانی روایات کو بلڈوز کر کے ترامیمی بل منظور کرنا غیر قانونی اقدامات ہے حکومت نے کہا کہ بل منظور ہونے سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مزید کامیابیاں ملیں گی اور فوج کے ہاتھ مزید مضبوط ہوں گے ۔ ایم این اے زاہد حامد نے ایوان میں بل کی افادیت اور شق در شق پڑھ کر سنانے کے بعد کہا کہ یہ بل دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ہے اپوزیشن نے ترامیم بل کی آڑ میں عام لوگوں کی گرفتاریاں کا خدشہ ظاہر کیا تاہم حکومت نے ان خدشات کو مسترد کر دیا ۔بل کی مخالفت پاکستان پیپلزپارٹی کے علاوہ پی ٹی آئی نے بھی کی ایم کیو ایم بل کی منظوری کے وقت ایوان میں موجود ہی نہیں تھی ۔حکومت نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد اور نتائج بارے آگاہ کرے ۔نوید قمر نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترامیمی بل سینٹ منظور کر چکی ہے یہ ایکٹ کا نفاذ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں تک محدود کر دیا جائے تو بہتر ہے اگر ملک کے تمام حصوں میں نفاذ کیا گیا تو بنیادی حقوق کا مسئلہ بن جا ئے گا ،یہ ایک تلوار ہے جو ہم پر لٹکتی رہے گی ۔ دہشت گردوں کو پکڑیں لیکن اس نام پر دیگر لوگوں کو پکڑنا اور قید کرنا زیادتی ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری دفاع چودھری جعفر اقبال نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں کا قیام 21 ویں ترمیم کا حصہ ہیں ،فوجی آپریشن سے ملک میں امن قائم ہوا ہے یہ ترامیم وقت کی ضرورت ہے ۔ عارف علوی نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ فوج کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا ہے لیکن اس مقاصد کے حصول بارے تو آگاہ کیا جائے ۔ چودھری جعفر اقبال نے کہا کہ سویلین حکومت اپنا کردار ادا کرے گی اور اس مقاصد کے لئے سول حکومت اپنی ذمہ داری ضرور پورا کرے گی ۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت کیوں پڑی ہے جماعت اسلامی کے طارق اللہ نے کہا کہ نئی ترامیم لانے کا مقصد کیا ہے اس شق کو21 ویں ترامیم میں کیوں شامل نہیں کیا گیا ہے اس نئی ترامیم پر تمام اراکین میں خدشات پائے جا رہے ہیں ،غیر قانونی گرفتاریاں ، حراست اور قید قابل تشویش ہیں اس قانون کا مکمل جائزہ لینا ہو گا اس ترامیم کو جلدی میں منظور نہ کیا جائے اس قانون پر نظرثانی ہونی چاہئے اس کو متعلقہ کمیٹی کو دوبارہ بھیج دیا جائے ۔پارلیمانی سیکرٹری نے دوبارہ کمیٹی کو بھیجنے کی مخالفت کی ہے کیونکہ سینٹ اور قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹیوں میں مکمل بحث ہو چکی ہے اپوزیشن نے آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی منظوری کے وقت اپوزیشن نے شدید شور مچایا اور بل کی شدید مخالفت کی ۔ زاہد حامد نے اپوزیشن کے تمام خدشات کو غیر ضروری قرار دیا اور کہا کہ حکومت اس بل کی آڑ میں کسی پر ناانصافی نہیں ہو گی ۔ قومی اسمبلی نے وزیر مملکت برائے قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا ترمی می بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اس کے علاوہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی مالیاتی کمیشن پر عملدرآمد کی پہلی ششماہی کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی ،علاوہ ازیں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے بیرونی ممالک سے حاصل کئے گئے اربوں ڈالر کے قرضہ کے معاملہ پر مکمل بحث کرائی جائے ۔ حکومت کی طرف سے حاصل کئے گئے قرضے کا بوجھ عوام نے برداشت کرتا ہے ،سید خورشید شاہ نے الزام بھی عائد کیا کہ وزیر خزانہ یورو بونڈ بھاری سود پر قرضے حاصل کئے ہیں اور عالمی ادارہ موڈی کی طرف سے بھی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ پاکستان جس تیزی سے قرضے حاصل کر رہا ہے اس کے نتیجہ میں پاکستان 68 ارب ڈالر کا مقروض ملک بن جائے گا ،پارلیمانی سیکرٹری اقتصادی امور جاوید اخلاص نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنے دور حکومت میں قرضے حاصل کرنے کا ریکارڈ توڑ دیا تھا پاکستان نے گزشتہ 68 سالوں میں جتنا قرضہ حاصل کیا گیا اس سے زیادہ گزشتہ حکومت نے پانچ سالوں میں حاصل کیا ہے پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا افضل نے کہا کہ پیپلزپارٹی دور میں قرضہ کی شرہ 63.2 فیصد تھی لیکن ہمارے دور حکومت میں قرضہ کی 3.2 شرح کم کر کے اسے 60 فیصد پر لے آئی ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -