توہین رسالت کا ’’طاقتور‘‘ ملزم، پاکستانی نژاد برطانوی صنعتکار کو مبینہ دباؤ پر میڈٰکل بورڈ نے’’ پاگل‘‘ قرار دیدیا

توہین رسالت کا ’’طاقتور‘‘ ملزم، پاکستانی نژاد برطانوی صنعتکار کو مبینہ ...

  

لاہور(جاوید اقبال) توہین رسالت کے ملزم پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو برطانوی حکومت کے مبینہ دباؤ پر ’’پاگل‘‘ قرار دے دیا گیا ہے توہین رسالت کرنے والے برطانوی شہری اصغر کو محکمہ صحت حکومت پنجاب کی طرف سے تشکیل دیئے گئے 12رکنی اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ نے پاگل ڈیکلیئرکیا ہے ۔جس کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے حکومت کی طرف سے وی وی آئی قرار دیا جانے والا توہین رسالت کاملزم گزشتہ 8ماہ سے لاہور کے بڑے سرکاری ذہنی امراض کے مرکز صحت مینٹل ہسپتال میں رکھا گیا ہے جہاں پورا پرائیویٹ بلاک اس کے لئے مختص کیا گیا ہے اور ملزم کی حفاظت کے لئے تین شفٹوں میں پولیس کے درجنوں اہلکاروں جن میں ایلیٹ فورس کے کمانڈوز بھی شامل ہیں کو مستقل طور پر تعینات کیا گیا ہے جس پرائیویٹ بلاک میں ملزم کو رکھا گیا ہے ۔یہ بلاک 40سے زائد پرائیویٹ کمروں پر مشتمل ہے اور ان کی چھت پر پولیس نے مورچے بنا رکھے ہیں اور سکیورٹی انتظامات اسقدر سخت ہیں کہ جہاں ملزم کو رکھا گیا ہے ۔عام لوگوں اور ہسپتال کے عملے کے نو گو ایریا قرار دیا گیا ہے۔اس بلاک کے گرد چار دیواری کر کے ہسپتال کے دیگر حصوں سے کٹ کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم کا شمار برطانیہ کے بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے ۔برمنگھم اورلندن سمیت برطانیہ کے دیگرشہروں میں اس کے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایک سال قبل اسلام آباد میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری اصغر جو کہ برمنگھم کا رہائشی ہے کو اسلام آباد پولیس نے توہین رسالت کرنے پر گرفتار کر لیا اور توہین رسالت کا مقدمہ درج کر کے ایڈہالہ جیل میں منتقل کر دیا گیا ۔جہاں قاتلانہ حملہ میں ملزم زخمی ہو گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم پر حملے پر برطانوی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کر کے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور ملزم کی سکیورٹی سخت کرنے کا مطالبہ کر دیا جس پر حکومت پاکستان نے ملزم اصغر کو فوری طور پر لاہور منتقل کر دیا اور انہیں ذہنی امراض کے بڑے مرکز صحت مینٹل ہسپتال میں رکھا گیا ہے ۔جہاں انہیں حکومت کی ہدایت پر پورا پرائیویٹ بلاک جو کہ 40کمروں پر مشتمل ہے الاٹ کر دیا گیا اور پولیس کے کمانڈوز ملزم کی حفاظت پر تعینات کر دیئے گئے، ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزم نے خود کو بچانے کے لئے خود کو پاگل ظاہر کر لیا جس کے بارے میں ملزم کے وکلا کی ڈیمانڈ پر حکومت پنجاب نے ملزم کی ذہنی حالت کو چیک کرنے کے لئے پنجاب کے میڈیکل کے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا بورڈ کا چیئرمین محکمہ صحت کے ایک گریڈ21کے آفیسر کو بتایا گیا جس کے ماتحت بورڈ میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ اعصاب کے سابق چیئرمین پروفیسر نعیم قصوری سمیت 11ماہرین کو ممبر بنایا گیا ، ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب کے تشکیل کردہ بورڈ نے توہین رسالت کے اس طاقتور ملزم کو پاگل اور ذہنی مریض قرار دے دیا ہے جس کی بورڈ نے تحریری رپورٹ بھی جاری کر دی ہے جو حکومت پاکستان حکومت پنجاب، محکمہ صحت، متعلقہ عدالت پولیس ا ور حکومت برطانیہ کو بھی ارسال کر دی گئی ہے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت برطانیہ کے دباؤ میں ملزم کو بچانے کے لئے بورڈ سے باقاعدہ طور پر توہین رسالت کے مرتکب ملزم کو بچانے کے لئے پاگل قرار دلایا گیا ہے چونکہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے اور اسی رپورٹ کی بناہ پر ملزم کی بڑی حد تک سزا سے بچنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

مبینہ پاگل

مزید :

صفحہ اول -