آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبردار، مذاکرات بااختیار افراد سے ہونگے: براہمداغ بگٹی

آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبردار، مذاکرات بااختیار افراد سے ہونگے: ...

  

لندن(آئی این پی)بلوچ رپبلکن پارٹی کے سربراہ اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن کیلئے مذاکرات کیلئے بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے جینوا میں ملاقات کی ہے۔مذاکرات صرف با اختیار افراد سے ہوں گے، پاکستان نہیں جا رہا‘ بلوچ عوام چاہیں تو آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبردار ہونے کو تیار ہوں‘بلوچستان حکومت مذاکرات کا اعلان کر کے وہ خود پھنس گئی ہے‘بلوچوں کیخلاف فوجی آپریشن جاری ہے‘ لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے ‘آئے روزلاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہو تو ان حالات میں مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں‘مجھے نہیں لگتا کہ فوج کو بلوچوں سے مذاکرات میں دلچسپی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں براہمداغ بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے وہ بات کرنے کو تیار ہیں لیکن بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔یاد رہے کہ رواں سال اگست میں بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں براہمداغ بگٹی نے بلوچستان کے مسئلے پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بلوچ عوام چاہتے ہیں تو وہ آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبرداری کے لیے تیار ہیں۔براہمداغ ماضی میں اس معاملے پر مذاکرات کی آپشن کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا موقف رہا ہے کہ ’بلوچستان کی آزادی تک جنگ رہے گی۔‘سوئٹزرلینڈ میں موجود براہمداغ نے کہا کہ ان کے دادا نواب اکبر بگٹی نے بھی مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے ہیں لیکن ’جن کے پاس حالات بہتر کرنے کا اختیار ہے وہ آ کر بات کریں۔‘انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور وفاقی وزیر سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’اگر فوج اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور وہ بلوچستان میں آپریشن روک کر سیاسی طریقے سے مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں تو ہم بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔مجھے نہیں لگتا کہ فوج کو بلوچوں سے مذاکرات میں دلچسپی ہے۔ مذاکرات کا اعلان کر کے وہ خود پھنس گئے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -