وزیراعظم کی دیوالی میں شرکت ،مودی سرکار کوآئینہ دکھادیا

وزیراعظم کی دیوالی میں شرکت ،مودی سرکار کوآئینہ دکھادیا

  

کراچی :نعیم الدین:

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کراچی کا دورہ اس مرتبہ امن و امان کی صورتحال پر غور کیے بغیر ہوا۔ انہوں نے کراچی میں بحریہ کی جاری مشقوں کا معائنہ کیا جو کہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ہندوؤں کے تہوار ’’دیوالی‘‘ کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور شرکاء کو دیوالی کی مبارکباد دی۔ بلاول بھٹو اور عمران خان بھی آج دیوالی کے تقریبات میں شرکت کریں گے ۔ اس مرتبہ وزیراعظم کی امن و امان کے سلسلے میں عدم توجہ اس بات کی غمازی بھی کررہی ہے کہ شاید وہ سندھ کے امن و امان سے مطمئن ہیں یا پھر وہ چاہتے ہیں کہ امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی اجلاس منعقد ہونا چاہیے۔ اس وجہ سے انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے بھی کوئی تفصیلی تبادلہ خیال نہیں کیا۔ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے موقع پر جو واقعات رونما ہوئے وہ تشویشناک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سندھ کے کچھ اضلاع کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ اور سیکورٹی کے مختلف انتظامات پر غور کیا جارہا ہے۔ دو روز قبل وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے چیمبر میں تاجرو صنعتکاروں سے خطاب جس میں انہوں نے سندھ میں امن و امان کی صورتحال خاص طور سے کراچی کے امن پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اور انہوں نے ہمیشہ کی طرح بعض معاملات پر وفاق کی عدم توجہ کی نشاندہی کی اور اکثر وہ ایسا وزیراعظم کو وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے اگر امن و امان کے حوالے سے کوئی بات بھی کی ہوگی تو وہ موثرثابت نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔ سیاسی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کراچی کے معاملات میں وفاقی کی جانب سے جن ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن حکومت سندھ کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ وفاق نے اعلان نے ضرور کیا ہے، مگر اس سلسلے میں فنڈزفراہم نہیں کیے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ یہ منصوبے اپنے مقررہ وقت پر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ جس میں ٹرانسپورٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ گرین لائن اور اورنج لائن بسوں کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعظم کا کراچی میں دیوالی کے حوالے سے تقریب میں شرکت کو اقلیتی برادری نے انتہائی خوشی کی نظر سے دیکھا ہے۔ کیونکہ اس وقت بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ انتہائی بھونڈا سلوک کیا جارہا ہے۔ جبکہ بھارت عموماً سیکولر ازم کا پرچار کرتا ہے۔ وہاں مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ نچلی ذات کے ہندوؤں کے ساتھ گذشتہ دنوں جو سلوک کیا گیا ہے، اس کی آواز پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ پچھلے دنوں لندن میں سکھوں نے اپنی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا ہے، جس سے بھارت کی رسوائی پوری دنیا میں ہوئی ہے۔

مزید :

تجزیہ -