نریندر مودی کے خلاف حکمران جماعت بی جے پی میں بغاوت پھیل گئی

نریندر مودی کے خلاف حکمران جماعت بی جے پی میں بغاوت پھیل گئی

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری:

بہار کی شکست نے بی جے پی کے اندر کچھ نئے مسائل کھڑے کردیئے ہیں تو بعض پرانے دبے ہوئے اختلافات نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے، ایل کے ایڈوانی ایک زمانے میں وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھ رہے تھے، ان کا خیال تھا کہ واجپائی بیمار ہیں، ان کے گھٹنے جواب دے گئے ہیں اس لئے اگر پارٹی دوبارہ برسراقتدار آتی ہے تو ان کے وزیراعظم بننے کے امکان روشن ہیں، لیکن 2004ء کے بعد دس سال تک کانگرس کی حکومت رہی، اس کے بعد ہونے والے دونوں انتخابات کانگرس نے جیتے لیکن 2014ء سے پہلے نریندر مودی نے دوطرح کی منصوبہ بندی کی، ایک تو پارٹی کو الیکشن جتوانے کی حکمت عملی تیار کی اور دوسرے یہ اہتمام کیا کہ ایڈوانی جیسی سینئر قیادت سامنے نہ ہو، چنانچہ وہ ایل کے ایڈوانی کو کہنی مار کر آگے بڑھ گئے، اب بہار کے الیکشنوں میں ہونے والی شکست نے ایڈوانی کو بھی موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ بھی مودی کے خلاف بولنے لگے ہیں، ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کا کہنا ہے کہ مودی ہرکامیابی کا کریڈٹ خود لینے کے جنون میں مبتلا ہیں تو اب انہیں شکست کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی جو وہ دوسروں کے سر مڑھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ ساری کامرانیوں کا کریڈٹ تو خود لیں اور شکست سے کنی کترا کر نکل جائیں ، جن دو دوسرے رہنماؤں نے مودی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا ہے ان میں ہما چل پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ شنتاکمار اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا شامل ہیں۔ ان رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ بہار کے انتخابات کی شکست کی تفصیلی انکوائری کرکے رپورٹ تیار کی جائے، اور وہ تمام وجوہ سامنے لائی جائیں جن کی وجہ سے بہار میں پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ امکان یہ ہے کہ مودی کے خلاف پارٹی کے اندر ہونے والی یہ بغاوت سینئر قیادت تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ مودی کی آبائی ریاست گجرات کے بعض ارکان پارلیمنٹ بھی اس مہم میں شامل ہوجائیں گے۔

مودی کے خلاف بیان جاری کرنے والے سینئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بہار کی شکست سے محسوس ہوتا ہے کہ دہلی کے الیکشن نتائج سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا جہاں عام آدمی پارٹی نے دہلی اسمبلی کی ستر میں سے 67نشستیں جیت لی تھیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ دہلی کے وزیراعلیٰ کجری وال نے بھی بہار کے حالیہ انتخابات میں نتیش کمار اور لالو پرشاد اتحاد کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، سینئر رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کہنا کہ ہرکوئی شکست کا ذمے دار ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ کسی کو بھی قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکے گا یہ نکتہ دراصل ارون جیٹلی نے نکالا تھا جن کا کہنا تھا ہار اور جیت پارٹی کی اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ شکست کا ذمہ دار مودی کو نہ ٹھہرایا جائے۔ سینئر سیاست دانوں کی مودی کے خلاف مہم اپنی جگہ لیکن بھارتی میڈیا میں ایک بحث یہ بھی چھڑ گئی ہے کہ مودی منحوس ہیں وہ بیرون ملک جہاں بھی گئے، ان کے میزبان یا تو الیکشن ہار گئے یا پھر انہیں دوسری مشکلات کا سامنا رہا، آج مودی سرکاری دورے پر برطانیہ جارہے ہیں جس کے پارلیمنٹ ہاؤس کی دیوار پر لکھ دیا گیا ہے کہ ہم مودی کا استقبال نہیں کررہے۔ برطانیہ میں مقیم کشمیری اور سکھ ان کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ لیکن انہوں نے برطانیہ کے ایک سٹیڈیم میں بھارتیوں کو بھاشن دینے کے لئے جلسے کا انعقاد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بہار میں ان کے تیس جلسے اگر کوئی رنگ نہیں جماسکے تھے تو برطانیہ کے جلسے سے انہیں کیا حاصل ہوگا۔ مودی منحوس ہیں یا نہیں تنگ نظر، نااہل اور اپنے دشمن آپ ہیں اور جس انداز میں انہیں مزاحمت کا سامنا ہے اس سے لگتا ہے کہ اگلی ٹرم میں ان کی جماعت کا جیتنا مشکل ہوگا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہندو جو دیوالی پر لکشمی دیوی کے چرنوں میں اُلو کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں سیاسی قربان گاہ پرکس اُلو کو قربان کرتے ہیں۔

ہندوؤں نے 11نومبر کو دیوالی کا تہوار منایا۔ سندھ (پاکستان ) کے ہندوؤں نے بھی یہ تہوار منایا، دیوالی کے اس تہوار کے مطابق لکشمی دیوی کے چرنوں میں الووں کا چڑھاوا چڑھایا جاتا ہے اس کی وجہ سے دہلی اور قرب وجوار میں الووں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا، ایک الو کی قیمت 16ہزار سے 2لاکھ تک وصول کی گئی، الو ایسا پرندہ ہے جسے مغرب میں ذہانت کی علامت اور مشرق میں بیوقوفی کا سمبل سمجھا جاتا ہے، لکشمی دیوی پر چڑھاوا چڑھانے کے لئے زبردست طلب کی وجہ سے اس کے پنجوں اور پروں کی الگ الگ قیمت بھی وصول کی گئی، اگرچہ اس پرندے کا شکار ممنوع ہے لیکن دیوالی سے پہلے لوگوں نے زندہ الووں کی ’’ذخیرہ اندوزی‘‘ کرلی تھی۔ اور پھر منہ مانگی قیمت پر فروخت کئے جارہے تھے۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ اگر لکشمی دیوی پراُلو کا چڑھاوا چڑھایا جائے تو دولت کی دیوی مہربان ہو جاتی ہے، اُلو حیرت انگیز پرندہ ہے وہ آپ کو گھور گھور کر دیکھتا ہے تاکہ آپ اسے اُلو نہ بنا سکیں۔ لیکن سیاست میں اُلووں اُلو بننے والوں اور اُلو بنانے والوں کی کمی نہیں ہوتی۔

مزید :

تجزیہ -