سپیکر ایاز صادق کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوگی، تحریک انصاف

سپیکر ایاز صادق کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوگی، تحریک انصاف

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین:

سپیکر ایاز صادق لاہور کے حلقہ این اے 122سے دوبارہ منتخب ہو کر پھر سے قومی اسمبلی کے سپیکر بن گئے ہیں لیکن تحریک انصاف ان کا پیچھا چھوڑنے پر تیار نہیں، اب پی ٹی آئی پھر سے قانونی جنگ شروع کرنے والی ہے۔ پنجاب کے آرگنائزر چودھری محمد سرور اور تحریک انصاف کے متعلقہ حلقے سے امیدوار عبدالعلیم خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ پہلے 103 اے اے کے تحت الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے والے ہیں کہ دھوکا دہی ہوئی ہے اس لئے یہ انتخاب کالعدم قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق اس عمل کے بعد ہی اگلا دروازہ کھٹکھٹانے کی نوبت آئے گی گزشتہ روز ان حضرات نے میڈیا کے حضرات کو جن میں ایڈیٹرز، کالم نگار اور اینکر بھی شامل تھے ایک تفصیلی بریفنگ دی جس کے مطابق بڑی محنت سے تیاری کی گئی اور کھوج لگایا گیا جو ثبوت اور اعدادوشمار بتائے گئے ان کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا کہ تقریباً 8ہزار ووٹر تو ایسے ہیں جن کے ووٹ عمر اور تبادلے کی درخواستوں کے باعث تسلیم کئے جا سکتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود قریباً ستائیس ہزار ووٹر دوسرے حلقوں سے متعلق ہیں جن کے نام حلقہ این اے 122کی انتخابی فہرست میں شامل کئے گئے اور ان کا کوئی ریکارڈ اور ثبوت بھی کوئی نہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ رائے دہندگان لاہور سے منتخب ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے دوسرے اراکین قومی اسمبلی سے مستعار لئے گئے اور فہرست میں ان کا اندراج ہوا، ان کے فارم اے اور الیکشن کمیشن میں کوئی ریکارڈ نہیں، اب ہم قانونی کارروائی کریں گے تو پتہ چلے گا کہ یہ کیسے، کیوں اور کہاں سے ہوا؟ جو ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف جعلسازی کا مقدمہ درج کرایا جائے گا۔

تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے جس نے انتخابات میں مقابلہ کیا، نہ صرف لاہور بلکہ اوکاڑہ سے بھی ہاری، اوکاڑہ کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کی جا رہی سارا زور حلقہ این اے 122لاہور کا ہے جہاں سے ایاز صادق رکن ہیں، ایسا احساس دلایا جا رہا ہے کہ یہ حلقہ انا اور ضد کا بن گیا ہے، اس کے باوجود یہ جماعت اور شکست خوردہ امیدوار کا حق ہے کہ اگر اس کے پاس قانونی چارہ جوئی کی کوئی گنجائش ہو تو وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اب اگر وہ اس طرف عملی طور پر قدم بڑھاتے ہیں تو اس کا انجام بھی آ جائے گا۔

اس سلسلے میں تحریک انصاف کا حق تسلیم کرتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جماعت نے 2013ء کے انتخابات میں جو نشستیں حاصل کیں اور حلف اٹھایا، استعفے دیئے اور پھر واپسی بھی ہو گئی کیا ان حضرات نے ایوان میں وہ فرائض ادا کئے جو ان پر اعتماد کرنے والے عوام نے ووٹ دے کر ان کو تفویض کئے کہ انہی کے ووٹوں سے منتخب ہو کر یہ ایوان میں پہنچے ہیں، پورے دو سال کے بعد ان حضرات نے صرف ایک پارلیمانی عمل کیا جو سپیکر کے انتخاب میں حصہ لینے کا ہے، اس کے علاوہ ان حضرات نے تو ان کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کی جن میں ان کو شامل کیا گیا۔ ایک 33رکنی کمیٹی پارلیمنٹ کی ہے جس میں ان کے تین ممبر ہیں، یہ کمیٹی انتخابی اصلاحات پر کام کررہی ہے تاکہ ایک حتمی مسودہ تیار کرکے آئین یا قوانین میں ضروری ترامیم کرالی جائیں جن کے مطابق شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ممکن ہو، بے ضابطگیوں اور دھاندلیوں سے نجات مل جائے۔ ایسی ہی ترامیم سے الیکشن کمیشن خود مختار، بااختیار، غیر جانبدار ادارہ بن سکتا ہے، لیکن تحریک انصاف کی توجہ اس طرف نہیں ہے اور نہ ہی احتساب آرڈی ننس کی تیاری والی کمیٹی میں یہ اپنا کردار ادا کررہی ہے۔

اب فرض کر لیں کہ تحریک انصاف ایک بار پھر ایاز صادق کے خلاف مقدمہ جیت جاتی ہے تو پھر الیکشن ہی ہوگا؟ اور یہ بھی فرض کر لیں کہ یہ نشست اس مرتبہ تحریک انصاف جیت جاتی ہے تو پھر ایوان میں مسلم لیگ ن کی عددی اکثریت پر کیا اثر پڑے گا جو کہیں زیادہ اکثریت کی حامل ہے اور اس کے حلیف بھی موجود ہیں۔ سپیکر قومی کے حالیہ انتخاب میں تو جماعت اسلامی اور شیر پاؤ کی وطن پارٹی بھی تحریک انصاف کو چھوڑ گئی ہے۔ ہماری ایک مرتبہ پھر یہی گزارش ہے کہ تحریک انصاف صحیح جمہوری عمل دہرائے۔ شکایات کے ازالے کے لئے قانونی چارہ جوئی کا حق ضرور استعمال کرے لیکن قومی اسمبلی میں بھی بھرپور کردار ادا کرے، یہ کیسی اپوزیشن ہے جس کا سربراہ قومی اسمبلی میں جاتا نہیں جس کے اراکین ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیتے اور یہ جماعت فیصلہ سڑکوں پر چاہتی ہے یہ عمل درست نہیں، پارلیمنٹ میں اپنے فرائض انجام دے کر کچھ اور کریں۔

مزید :

تجزیہ -