سادہ دِل بندے کدھر جائیں

سادہ دِل بندے کدھر جائیں

  

پاکستان میں جن دِنوں اسلام اور سوشلزم کی بحث عروج پر تھی، معروف قانون دان اے کے بروہی نے کہا مسئلہ یہ نہیں کہ روٹی نہیں مل رہی، اصل مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ مل رہی ہے۔اشتراکیوں نے ان کے اس بیان کا غور کئے بغیر ٹھٹھا اڑایا کہ یہ غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے حالانکہ بروہی مرحوم کے بیان کا مفہوم یہ تھا کہ غربت اور امارت کے درمیان فاصلہ وہ لوگ بڑھا رہے ہیں، جن کے ہاتھوں میں رزق کے وسائل بہت زیادہ آ گئے ہیں۔ ان کی خواہشات دراز سے دراز تر ہوتی جا رہی ہیں اور کم وسائل والے لوگوں کا عزت و آبرو کے ساتھ جینا مشکل ہو گیا ہے۔اسلام جس معاشی نظام کا حامی ہے اس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں کو قناعت کا درس دیا گیا ہے۔ ایک دفعہ حضور نبی کریمؐ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ کھجوریں تناول فرما رہے تھے۔ کچھ لوگوں کو آپؐ نے دیکھا کہ وہ ایک لقمہ میں اکٹھی دودو کھجوریں اُٹھا لیتے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا، ایک لقمہ میں صرف ایک کھجور اٹھاؤ اور صبر کے ساتھ کھاؤ۔ مقصد یہ تھا کہ اس طرح سے ایک تو دوسروں کی حق تلفی نہیں ہو گی، دوسرے کھانے کی مقدار متوازن رہے گی، بدنی صحت بھی ٹھیک رہے گی۔ تیسرے قناعت پسندی کی عادت پڑ جائے گی اور شُکر کا رویہ پیدا ہو گا۔

قرآن مجید میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ ایک موقع پر قوم نے حضرت سموئیل سے مطالبہ کیا کہ ہم جہاد کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت سموئیل نے طالوت کو ان کا کمانڈر مقرر کیا اور ساتھ بھوک اور پیاس کی سختی برداشت کرنے کی تلقین فرمائی۔ کہا: راستے میں ندی آئے گی، اول تو پیاس پر قابو رکھنا اور اگر پیاس زیادہ مجبور کرے تو صرف چلو بھر پانی پر اکتفا کرنا۔ قرآن مزید تفصیل بتاتا ہے کہ جب راستے میں ندی آئی تواکثر لوگوں نے تھوڑے پر گزارہ نہیں کیا۔ جُوں جُوں پانی پیتے گئے، ویسے ویسے پیاس بھڑکتی چلی گئی حتیٰ کہ ان کے پیٹ پھول گئے اور وہ بے دم ہو کر گرتے چلے گئے۔ جہاد کے لئے صرف وہی لوگ باقی رہ گئے، جویا تو پانی کے نزدیک ہی نہ گئے، اگر گئے تو اتنے پر اکتفا کر لیا جتنے کی پیغمبر نے اجازت دی تھی۔ بالآخر ان مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے دشمن پر فتح و نصرت عطا کر دی۔

پاکستان کی معاشی صورت حال پرغور کیا جائے تو ہر طرف ہا ہا کار مچی نظر آتی ہے۔ ایک طرف ایسے لوگ گروہ درگروہ موجود ہیں، جن کو وسائل زندگی پر اس حد تک اجارہ داری حاصل ہے کہ وہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں مقرر کرتے ہوئے یہ سوچنا گوارہ نہیں کرتے کہ عوام پر کیا گزرے گی۔ وہ مہنگائی کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ مَیں یہاں صرف چائے کا ذکر کروں گا، جس کا ہماری روزہ مرہ کی زندگی میں استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔ کوئی تین چار ماہ پیشتر190گرام وزن کی پتی کا ڈبا135روپے کے عوض دستیاب تھا، اس کی قیمت بڑھا کر165 کر دی ، دو تین ہفتے بعد ہی 168 ہو گئی، اب180 تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ ہماری حکومت پرچون فروشوں کی پکڑ دھکڑ کرتی ہے کہ انہوں نے دکانوں پر پرائس لسٹیں آویزاں کیوں نہیں کیں، مگر ان بڑے اجارہ داروں پر گرفت نہیں کرتی، جو من مانی قیمتیں متعین کرتے ہیں۔ کبھی سننے اور پڑھنے میں نہیں آتا کہ کسی اجارہ دار کو بے تحاشا قیمتیں بڑھانے کے عوض جیل بھیجا گیا ہے۔

پاکستانی اجارہ داروں کو دولت کی ہوس اتنا اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے کہ وہ اس طرف دھیان دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے سے معاشرتی زندگی کتنی بے سکون اور دُکھی ہو جاتی ہے۔ہمارے ملک کی کثیر آبادی ایسی ہے جس کے وسائل محدود ہیں۔ یہ لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے اس نسبت سے اپنے وسائل بڑھا نہیں سکتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کم وسائل رکھنے والے گھرانوں میں ذہنی اور جسمانی بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ جذباتی زندگی مستقل طور ہیجان کا شکار رہتی ہیں اور چاقو چھری چلنے کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ جب واسطہ پولیس اور کچہریوں سے پڑتا ہے تو تباہی اور بربادی کا دائرہ مزید پھیل جاتا ہے۔

تھوڑا بہت سیاسی شعوررکھنے والے لوگ مذہبی اور سیاسی جماعتوں میں شامل ہوتے ہیں یا ان کی ووٹ کی صورت میں حمایت کرتے ہیں تاکہ اجتماعی سطح پر کوئی بنیادی تبدیلی آسکے۔اُدھر جماعتی لیڈر مہنگائی اور کرپشن کے خاتمے کے اعلانات تو زور شور سے کرتے ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اجارہ داریوں کے نظام کو تبدیل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ وہ کروڑوں کے فنڈ عوام کی بہبود کے نام پر خود وصول کرتے ہیں، لیکن چند گلیاں، سڑکیں مرمت کروانے اور ان پر اپنے نام کی تختیاں لگوانے تک اپنی سرگرمیاں رکھتے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ انہوں نے بہبود فنڈ سے کتنا عوام پر خرچ کیا اور کتنا خود کھا پی لیا۔ غرضیکہ وہ اسمبلی ممبران اور وزیر مشیر خود استحصالی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی اب عوام کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ان مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو الیکشن فنڈ یہی اجارہ دار اور استحصالی گروہ ہی تو فراہم کرتے ہیں۔ اس کے بعد تبدیلی کے بارے میں سوچا ہی نہیں جا سکتا۔ تبدیلی آئے تو کیسے آئے، علامہ اقبالؒ نے اسی تلخ حقیقت کو اس شعر کی صورت میں بیان کیا ہے:

خدا وندایہ ترے سادہ دل بندے کدھر جائیں

کہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری

مزید :

کالم -