شیر آ گیا، شیر آ گیا

شیر آ گیا، شیر آ گیا

  

عمران خان ابھی تک دھاندلی کے ’’عذاب‘‘ سے باہر نہیں نکل سکے۔ پشاور میں ایک بار پھر پریس کانفرنس کر ڈالی اور اپنی توپوں کا رخ حلقہ این اے 122لاہو ر کی طرف موڑ دیا۔ جہاں سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ایک بار پھر منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچ چکے ہیں۔ نیا حلف بھی اٹھا لیا ہے اور ایک بار پھر بھاری اکثریت سے سپیکر قومی اسمبلی بھی بن گئے ہیں۔ جمہوری روایات کے مطابق اس انتخاب میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار شفقت محمود نے بھی حِصّہ لیا، لیکن توقع کے مطابق شکست سے دوچار ہوئے۔ انتخاب وہی جیتتا ہے جسے ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو اور ووٹ ملیں۔ برتری چاہے ایک ووٹ کی ہو، اُمیدوار کو جیت حاصل ہو جاتی ہے ، یہی جمہوری روایت ہے اور دستور بھی۔

حلقہ این اے 122میں ایاز صادق کو اگرچہ 2400 ووٹوں کی برتری پی ٹی آئی امیدوار علیم خان کے مقابلے میں حاصل تھی، لیکن پی ٹی آئی والے ایاز صادق کی اس برتری اور جیت کو قبول کرنے کے لئے اب بھی تیار نہیں اور پرانا ڈھونگ رچا رہے ہیں کہ ’’دھاندلی ہوئی ہے، دھاندلی ہوئی ہے‘‘۔ دھاندلی کا یہ شور 2013ء کے جنرل الیکشن کے بعد سے پی ٹی آئی نے مچانا شروع کیا تھا۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں 126دن تک طویل دھرنا بھی دیا۔ عمران خان کی جانب سے کہا گیاکہ چونکہ ن لیگ کی حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے اور دھاندلی کے نتیجے میں برسر اقتدار آئی ہے اس لئے وہ وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ وہ چار مخصوص حلقوں کی بات بھی کرتے رہے کہ قومی اسمبلی کے یہ چاروں حلقے کھول دئیے جائیں تو اُن کا یہ موقف یا الزام درست ثابت ہو جائے گا کہ 2013ء کے الیکشن میں منظم دھاندلی ہوئی ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب ناصر الملک پر اپنے پورے اعتماد اور یقین کا اظہار کیا۔

حکومت نے روزروز کی اس بک بک اور دشنام طرازی سے نجات کے لئے ناصر الملک کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن بھی قائم کر دیا۔ جہاں پی ٹی آئی بھی پیش ہوئی لیکن صرف اپنے وکلاء کے ساتھ۔ عمران خان کو اس سے دور رکھا یا وہ خود اس جوڈیشل کمیشن سے دور رہے اور بیان کے لئے نہ آئے۔ عبدالحفیظ پیرزاہ جیسے سینئر ایڈووکیٹ جو موجودہ 73ء کے آئین کے خالق بھی ہیں، پی ٹی آئی کی جانب سے اس جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔اس کے باوجود پی ٹی آئی کے الزامات کے غبارے سے اُس وقت ہوا نکل گئی جب وہ اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اور واضح ثبوت جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش نہ کر سکے۔

جوڈیشل کمیشن نے طویل سماعت کے بعد جب فیصلہ سنایا تو وہ عمران خان یا پی ٹی آئی کے الزامات کی تائید نہیں کرتا تھا۔ عمران خان یہاں ہارے اور جب الیکشن ٹریبونل کے ایک فیصلے کے بعد حلقہ این اے 122 میں ضمنی الیکشن کا انعقاد ہوا تو پی ٹی آئی کو اس حلقے میں دوبارہ شکست ہوئی۔ اس شکست اور بلدیاتی الیکشن کے نتائج کے بعد پنجاب بھر میں اپنی ’’حالتِ زار‘‘ دیکھ کر عمران خان کو ایک بار پھر تاؤ آ گیا۔ وہ پے در پے کئی ’’سانحات‘‘ سے گزر چکے ہیں۔ پہلا سانحہ ڈی چوک دھرنے کی ناکامی تھا۔دوسرا سانحہ این اے 122کا تھا، جبکہ بلدیاتی الیکشن سے صر ف دو روز پہلے انہیں ریحام خان کی صورت میں تیسرے ’’سانحے‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔ رہی سہی کسر بلدیاتی الیکشن کے نتائج نے پوری کر دی۔۔۔ تاہم عمران خان اب بھی اپنی ہار ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اُن کے ذہن میں سما گیا ہے کہ وہ ’’ہار ہی نہیں سکتے‘‘۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہار کسی کا مقدر نہ بنے۔ یہ قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ کسی کے حصِّے میں جیت آتی ہے اور کسی کے حِصّے میں ہار۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کبھی ’’دھاندلی‘‘ کے چکر یا جنون سے باہر نہیں آ سکیں گے۔ اس جنون یا چکر میں نہ وہ کوئی فیصلہ قبول کرتے ہیں، نہ ہی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔

پرانی کہاوت ہے ایک دیہاتی گاؤں میں بڑا شور مچاتا تھا ’’شیر آ گیا، شیر آ گیا‘‘۔ لوگ حفظ ماتقدم کے طور پر باہر نکل آتے تھے کہ دیہاتی کو بچا لیں اورگاؤں کو بھی، لیکن باہر آ کر انہیں معلوم ہوتا تھا کہ دیہاتی جھوٹ بول رہا ہے۔ دیہاتی نے ایسا کئی بار کیا۔ ہربار ہی جھوٹ بولا ’’شیر آ گیا، شیر آ گیا‘‘۔ اس طرح لوگوں نے دیہاتی پر اعتبار کرنا چھوڑ دیا۔ ایک بار واقعی شیر جنگل سے نکل آیا ۔ دیہاتی نے شور مچانا شروع کر دیا ’’شیر آ گیا، شیر آ گیا‘‘، لیکن دیہاتی چونکہ اپنا اعتبار کھو چکا تھا اس لئے کوئی بھی اپنے گھر سے باہر نہ نکلا۔ دیہاتی راہ دیکھتا رہ گیا جبکہ شیر سچی مچی دیہاتی کو کھا گیا۔عمران خان بھی دھاندلی، دھاندلی کا جو شور مچاتے ہیں کسی فورم پر بھی اسے ثابت نہیں کر پاتے۔ اس لئے لگتا ہے دیہاتی کی طرح عمران خان بھی اب اعتبار کے قابل نہیں رہے۔لگتا یونہی ہے سچی مچی کا شیر آ گیا تو کیا بنے گا؟

مزید :

کالم -