ناکامیوں کے دوسفر

ناکامیوں کے دوسفر

  

وزیراعظم نوازشریف کی مسلم لیگ نے ایک اور بہت اہم اور بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ مسلم لیگ (ن) کے جناب سردار ایازصادق ایک بار پھر قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوگئے اور اُنہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوگیا کہ وہ ایک ہی اسمبلی کے دوبار سپیکر منتخب ہوئے۔ سردار ایازصادق کے مقابلے میں تحریکِ انصاف نے جناب شفقت محمود کو میدان میں اُتاراتھا۔قومی اسمبلی کے342ارکان پر مشتمل ایوان میں 300ووٹ کا سٹ ہوئے ان میں سے سردار ایازصادق نے268اور شفقت محمود نے صرف31ووٹ حاصل کئے، ایک ووٹ مسترد ہوا۔ 342کے ایوان میں کئی اراکین کی رُکنیت اثاثے جمع نہ کروانے کے سبب معطل تھی چنانچہ وہ اپناووٹ کاسٹ نہ کرسکے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں ، جماعتِ اسلامی اورآفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی نے (ن) لیگ کو ووٹ دیا۔ سردار ایازصادق بلاشبہ ایک ایماندار اور قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ جن کا حلقہ اُن حلقوں میں آتا تھا جہاں عمران خان دھاندلی کا واویلا مچاتے رہے۔

22اگست کے ٹربیونل فیصلے کو مسلم لیگ(ن) نے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی بجائے ایک بار پھر عوامی عدالت سے رابطہ کرنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا اور 11اکتوبر کو ایازصادق کی جیت نے مئی 2013کے فیصلے کی توثیق کردی۔تحریکِ انصاف کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ اسے 2013کے عام انتخابات کے بعد مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہے، ایک طرف (ن) لیگ کامیابیاں سمیٹ رہی ہے،تو دوسری جانب تحریکِ انصاف شکست کے زخم چاٹ رہی ہے۔ 2013کے انتخابات کے بعد الیکشن ٹربیونلز میں ناکامی،پھر دھرنا سیاست کی ناکامی ، پھرسپریم کورٹ کے جوڈیشل کمیشن کے سامنے دھاندلی کے ثبوت پیش کرنے میں پر ناکامی۔ دھرنا سیاست کے بعد 8سے زائد ضمنی الیکشن ہوئے اور ہرالیکشن میں پی ٹی آئی کو ناکامی کا سامنا ہوا کئی بارتو ضمانت تک ضبط ہوئی اور کہیں 40، 45ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست کاسامنا کرنا پڑا۔ کنٹونمنٹ بورڈز سے لے کر سندھ اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں بد ترین شکست اور سب سے بڑھ کرازدواجی زندگی میں بھی ناکامی۔ ناکامیوں کا یہ سفرسیاسی تنہائی بھی بنتا جارہا ہے اور پارٹی میں بغاوت کی لہر بھی اٹھتی نظر آرہی ہے۔ سپیکر کے انتخاب میں چار ارکان کا ووٹ نہ دینا خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس میں خان صاحب کی طبیعت کا دخل بھی ہے۔ دوسری طرف حکمران جماعت پے در پے کامیابیاں سمیٹ رہی ہے۔پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کامیابی سے مسلم لیگ(ن) کو نئی توانائی ملی ہے۔

نوازشریف ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں ۔ مخالفین کی سیاسی غلطیوں، بلکہ حماقتوں کے باعث وہ مزید مضبوط اور مقبول ہورہے ہیں ، حالانکہ ایک سال قبل مسلم لیگ(ن) واقعی بے چین اور مضطرب تھی ، دھرنا کے دِنوں میں اس پر کافی دباؤ تھا ،لیکن وہ اس میں کامیاب رہی جس میں بنیادی کردار نوازشریف کے مدبرانہ اور جرأت مندانہ مزاج نے ادا کیا۔ نوازشریف اپنے مخالفین کو ان کی زبان میں جواب دینے کی بجائے کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ وزیراعظم اور فوج کے بہادر سپہ سالار جنرل راحیل شریف میں باہمی اعتماد کے ساتھ ضربِ عضب شروع ہوا،جوڈیڑھ سال سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے ، اتنی کامیابیاں افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی نہیں ملیں جتنی ڈیڑھ سال سے کم عرصے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے حصے میں آئیں۔ ادھر کراچی کا کامیاب آپریشن بھی جاری ہے جس سے عروس البلاد کی زندگی اور روشنی لوٹ آئی ہے۔ بلوچستان میں حالات بہترہوتے جارہے ہیں اورصوبہ مجموعی طور پرامن و سکون کی طرف گامزن ہے۔ عوام کا دیرینہ مسئلہ توانائی کا بحران ہے۔ اب اس میں بھی اہم پیش رفت ہورہی ہے۔جہاں پہلے 12سے 18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی اب 4سے6گھنٹے تک آگئی ہے۔ ونڈ، سولر، کوئلے ، ایل این جی اور پَن بجلی کے متعدد منصوبے حکومت شروع کرچکی ہے جن میں سے اکثر2017تک پای�ۂ تکمیل کو پہنچ جائیں گے۔ اس سے نیشنل گرڈ سٹیشن میں12000میگاواٹ بجلی شامل ہوگی۔

بے روزگاری کے خاتمے کے لئے وفاقی حکومت ملکی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی روزگار پروگرام شروع کرنے جارہی ہے جس سے 5سے 8لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ موڈیز ، آئی ایم ایف، اور ورلڈ بینک سمیت دیگر بین الاقوامی مالیاتی اِدارے پاکستان کی معیشت کو مثبت اور بہتری کی جانب گامزن قرار دے رہے ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار زرِ مبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر تک پہنچے۔ تعلیم اور صحت پر بھی حکومت نے بھرپور توجہ دینا شروع کردی ہے جو عوام کا بنیادی حق ہے۔ انفراسٹرکچر سیکٹرکی طرف بھی حکومت ضروری توجہ دے رہی ہے۔ نیشنل ہائی ویز کی اپ گریڈیشن ، لاہور ۔ کراچی موٹروے، ملتان میٹرو، کراچی گرین لائن اور لاہور اورنج لائن پر کام جاری ہے جس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوں گے۔ گوادر پورٹ کا آپریشنل ہونا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ روزگار اور سرمایے کا سیلاب ساآجائے گا۔ امن و امان کی بہترہوتی ہوئی صورتحال، لوڈشیڈنگ پر قابواور انفراسٹرکچر کی ترقی نے پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے پرکشش بنادیا ہے۔ گزشتہ دِنوں لاہور میں دوروزہ بین الاقوامی کاروباری کانفرنس ہوئی جس میں اڑھائی سو سے زیادہ بین الاقوامی مندوبین نے شرکت اور 34ایم او یوز پر دستخط کئے جن میں ہاؤسنگ، انفراسٹرکچر، کان کنی ، تجارت، آئی ٹی، شہری و دیہی منصوبہ بندی اور معدنیات کے شعبے شامل ہیں۔ پاکستان کا مستقبل یقیناتابناک ہے ۔ ترقی پاکستان کا مقدر ہے۔انشاء اللہ۔

مزید :

کالم -