قومی زبان کے نفاذ کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے، مبین اختر

قومی زبان کے نفاذ کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے، مبین اختر

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)عدالت عظمیٰ کے دو ٹوک نفاذ فیصلے کے باوجود حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ اور منافقانہ محسوس ہوتا ہے۔ حکومت فیصلے پر عملدرآمد کے بجائے منفی کردار ادا کر رہی ہے ۔پاکستان تحریک نفاذ اردو و صوبائی زبان کے زیر اہتمام شام اردو کی ایک سو اٹھائیسویں نشست بطور محفل مذاکرہ بعنوان ’’ نفاذ اردو کی راہ مین حائل رکاوٹیں اور ان کا سد باب‘‘ میں صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار بزرگ دانشور ڈاکٹر سید مبین اختر نے کیا ۔آپ نے کہا کہ عدالت عظمی کے فیصلے کے بعد قومی زبان کے نفاذ کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے ۔ محفل مذاکرہ سے معروف قانون دان خلیل احمد خلیل ایڈووکیٹ ، سید نسیم احمد شاہ ایڈووکیٹ ، بزرگ دانشور ادیب محمود عالم، ڈاکٹر حسیب احمد اور جہانگیر خان نے خطاب کیا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل کا مقالہ نجیب عمر خان نے پیش کیا ۔ محفل مذاکرہ میں مقررین کے اظہار خیال کا خلاصہ یہ تھا کہ حکومت لیت و لعل اور منفی ہتھکنڈوں سے کام لے رہی ہے جس کی وجہ سے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ لاحاصل ہو رہا ہے ۔ یہ صورتحال سرا سر توہین عدالت کے مترادف ہے ۔ جس پر عدالت عظمیٰ کو حکومت کی سرزنش کرنی چاہیے ۔ مقررین نے متعدد تجاویز بھی پیش کیں اور کہا کہ عدالت عظمیٰ اپنے فیصلے پر عملد رآمد کے لیے خاص نظام تشکیل دے ملک بھی میں اشتہاری بورڈز اردو میں آویزاں کیے جائیں۔ حکومت تین بورڈ اردو کے لگانے پر ٹیکس چھوٹ کی رعایت دے جبکہ انگریزی زبان کے اشتہاری بورڈز پر شرع ٹیکس بڑھا دی جائے ۔ ملک بھر کا تعلیمی نظام قومی اور صوبائی زبانوں سے مربوط کیا جائے ۔ استاتذہ کرام کی تربیت کے لیے تربیتی نشستوں کا احتمام کیا جائے ۔ عوام اپنی سطح پر اردو کوجس طرح نافذ کر سکتے ہیں وہ کریں۔ عوام کو چاہیے کہ اپنی تقریبات کا دعوت نامہ اردو میں جاری کریں ۔ دستخط اردو میں کریں۔ جن تقاریب کا دعوت نامہ انہیں انگریزی میں موصول ہو ان تقریبات کا بائیکات کریں ۔ تقریب میں ممتاز افسانہ نگار نسیم انجم ، معروف سماجی رہنما فرح اختر اور ممتاز صحافی جلیس سلاسل نے بطور خاص شرکت کی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -