کراچی پیکج کے تحت علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی،ناصر شاہ

کراچی پیکج کے تحت علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی،ناصر شاہ

  

کراچی(اکنامک رپورٹر) کورنگی صنعتی علاقے سے ٹیکس اور دیگر مدوں میں جمع ہونے والی رقوم کا 80 فیصد کورنگی صنعتی علاقے کی تعمیر و ترقی پر خرچ کرنے کا فارمولا قبول ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے جلد متعلقہ اداروں سے مل کر لائحہ عمل طے کرلیا جائے گا، ماضی میں کوتاہیاں ہوئیں جنھیں سدھارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ بات صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری( کاٹی) کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے لیے 150ارب روپے کے مجوزہ پیکج کے حوالے سے مزید مشاورت کرکے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر شعبے کو فوکس کیا جائے گا اور اس پیکج میں صنعتی علاقوں کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی، انھوں نے بتایا کہ بلاول بھٹوزرداری جلد اس سلسلے میں کراچی کے صنعتی علاقوں کے نمائندگان اور تاجر و صنعت کار برادری سے براہ راست ملاقات اور مشاورت کا ارادہ رکھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ تمام صنعتی علاقوں کے مسائل حل کریں گے، رواں ماہ میں ’’کلین کراچی‘‘ مہم کا آغاز کردیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ کورنگی کراسنگ پر پُل کی تعمیر کا افتتاح جلد ہی ہوجائے گا جبکہ 2000روڈ کی تعمیر و مرمت کا منصوبہ منظور کیا جاچکا ہے اور اس پر جلد عمل درآمد کا آغاز ہو جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ لیاری ایکسپریس وے کے جن حصوں پر کام رکا ہوا تھا عدالت کی جانب سے حکم امتناع ختم ہونے کے بعد وہاں رفتار کے ساتھ کام شروع ہوچکا ہے۔اس موقع پر انھوں نے کاٹی کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے جام صادق پُل پر بھاری ٹریفک روکنے کے لیے فوری طور پر ہائیٹ بیرئیر لگانے کے احکامات بھی جاری کئے۔ انھوں نے کہا کہ صنعت کار اپنے مسائل کے حوالے سے ترجیحی اعتبار سے ہمیں تجاویز پیش کریں ہم ان تجاویز کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالے سے صنعت کاروں کی شکایات کا جلد ازالہ کردیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے پاس وسائل کی کمی ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ عوامی نمائندے فنڈز اپنے حلقہ انتخاب میں خرچ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے صنعتی علاقے نظرانداز ہوجاتے ہیں ۔ قبل ازیں کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے اس موقع پر کہا کہ تمام صنعتی علاقوں کی نمائندہ تنظمیں ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے حکومت کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں، کراچی ملک کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے مگر بد قسمتی سے انتظامی امور پر توجہ نہ دینے کی باعث یہ ملک کا گند ہ ترین شہر بنتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ میں کراچی کے تاجر اور صنعت کاروں کو سلام پیش کرتا ہوں جنھوں نے مشکل ترین حالات میں پاکستان کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ ایس ایم منیر نے مزید کہا ہے کہ وزیر بلدیات سے توقع ہے کہ وہ صنعتی انفرااسٹرکچر کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں گے، ملکی معیشت اور صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے صنعتوں کے مسائل حل ہونا ناگزیر ہے۔ کاٹی کے صدر زاہد سعید نے اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورنگی انڈسٹریل سے قومی خزانے میں روزانہ ٹیکسوں کی مد میں تیس کروڑ روپے جمع ہوتے ہیں جب کہ 15لاکھ افراد کا روزگار براہ راست اس صنعتی علاقے سے وابستہ ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس کے انفرااسٹرکچر پر توجہ نہیں دی گئی، انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلدیاتی اداروں کے پاس وسائل کی کمی ہے جبکہ بلدیاتی انتخابات کی صورت میں منتخب ہونے والے عوامی نمائندے صنعتی علاقوں کے مقابلے میں اپنے حلقہ انتخاب کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اس لیے ہم نے یہ تجویز سامنے رکھی ہے کہ کورنگی صنعتی علاقے سے ٹیکسز ، بل بورڈز ، ٹریڈ لائسنس اور دیگر مدات میں جمع ہونے والے مالی وسائل کا 80فی صد کورنگی صنعتی ایریا پر خرچ کیا جائے اور 20فی صد حکومتی ادارے استعمال کریں اور اس سلسلے میں وضع کردہ کسی بھی لائحہ عمل میں کاٹی کو نمائندگی دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ شکستہ حال سڑکیں مجرموں کے لیے شکار گاہ ثابت ہوتی ہیں اور کئی مزدور اپنی مہینے بھر کی محنت کی کمائی سے محروم ہوجاتے ہیں اس لیے امن و امان کے قیام کے لیے سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر فوری توجہ دی جائے۔ انھوں نے اس موقعے پر صوبائی وزیر مملکت سے مطالبہ کیا کہ کورنگی صنعتی علاقے کی مرکزی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبے کے لیے حکومت سندھ پچاس کروڑ روپے مختص کرے۔ انھوں نے کہا کراچی اور بالخصوص کورنگی انڈسٹریل ایریا کے تاجر و صنعت کاروں نے مشکل ترین حالات میں استقلال کا مظاہرہ کیا ہے،انھوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت صنعت کاروں کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے تو قومی معیشت کی ترقی میں سندھ کا کردار کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ اس موقع پر کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیاتی امور کے سربراہ زبیر چھایا نے صوبائی وزیر کو کورنگی صنعتی علاقے کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا، انھوں نے بتایا کہ 1960میں کے ڈی اے نے کورنگی صنعتی علاقے کا آغاز کیا، 1976-77 میں برسات کے بعد یہ علاقے بند نہ ہونے کے باعث زیر آب آگیا، اس وقت سے لے کر آج تک شہری انتظامیہ کے اداروں میں سے کوئی بھی اس علاقے کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں، سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ’’تعمیر کراچی‘‘ منصوبے میں یہاں کی مرکزی سڑکوں کی تعمیر ہوئی اس کے بعد بلدیاتی اداروں نے 120کروڑ روپے مالیت سے تیار ہونے والی سڑکوں کی صفائی ، آرائش اور مرمت پر توجہ نہیں دی۔ انھوں نے کہا ڈی ایم سی کورنگی لانڈھی کی ایڈمنسٹریٹر قرۃ العین میمن اس علاقے کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہیں جو قابل تحسین ہیں انھوں نے کہاکہ تاجر و صنعت کاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس علاقے کی تزئین و آرائش اور سبزہ کاری کی اور اب کے ایم سی کی جانب سے 8000روڈ پر پارکنگ فیس لگانے کا عندیہ دیا جارہا ہے جسے ہم پرُزور انداز میں مسترد کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سولڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کا قیام خوش آئند ہے لیکن اس کے حوالے سے صنعت کاروں کو بھی مشاورت اور نگرانی میں شریک کرنا ہوگا۔ انھوں نے اس موقعے پر کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے) نئی صنعتوں کے قیام میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے، جن نقشوں میں کوئی مسئلہ نہیں انھیں بھی منظور نہیں کیا جارہا ہم حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جن نقشوں اور فائلوں میں مسائل نہیں کم از کم ان کی منظوری تو یقنی بنائی جائے کیوں کہ اگر نئی صنعتیں نہیں لگیں گی تو ملکی معیشت کیسے مضبوط ہوگی۔ تقریب میں ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سجاد حسین عباسی، ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ مصباح الدین فرید، ایڈمنسٹریٹر کورنگی قرۃ العین میمن، فیڈریشن کے نائب صدر شاہنواز اشتیاق، سمیت کاٹی کے سینئر نائب صدر سلیم الزماں، نائب صدر سید واجد حسین، خالد تواب، راشد صدیقی، مسعود نقی، نور احمد خان، یحییٰ پولانی ، ندیم خان، اکبر فاروقی ، عمر ریحان و دیگر نے بھی شرکت کی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -