شانگلہ میں زلزلہ سے متاثرہ گھروں کی تعمیر شروع

شانگلہ میں زلزلہ سے متاثرہ گھروں کی تعمیر شروع

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر ) شانگلہ میں، زلزلہ سے تباہ اور خراب ہونے والے گھروں کی دوبارہ تعمیر کا کام شروع،گھروں کی تعمیر کیلئے عمارتی لکڑی کی پالیسی تا حال واضح نہ ہو سکی زلزلہ کے 17دن گزرنے کے باوجود متاثرین بحالی اور گھروں کی دوبارہ تعمیر کا کام شروع کر چکے ہیں لیکن گھروں کی تعمیر کیلئے لکڑی میسر نہیں ہے زلزلہ متاثرین نے حکومت خیبر پختونخوا سے گھروں کی تعمیر کیلئے لکڑیوں کی فراہمی کا مطالبہ کردیا ہے تاکہ لوگ اپنا رہائشی گھر تعمیر کر سکیں۔تفصیلات کے مطابق 26اکتوبر کے تباہ کن زلزلہ میں زسب سے زیادہ متاثرہ ضلع شانگلہ میں امدادی سرگرمیاں جاری ہے،پہلے مرحلے میں جان بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کو چیک جاری کئے گئے جبکہ دوسرے مرحلے میں زلزلہ میں تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو چیک جاری کئے گئے،تیسرے مرحلے میں زلزلہ میں زخمی ہونے والوں اور جزوی خراب ہونے والے گھر مالکان کو چیک جاری کئے گئے،شانگلہ میں اس تباہ کن زلزلے نے اٹھ ہزار سے زائد گھروں کو مکمل طور پر تباہ جبکہ 15ہزار کے لگ بھگ گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے، زلزلہ متاثرین کی دوبارہ ابادکاری گھر بنانے کیلئے لکڑی کی پالیسی تا حال واضح نہ ہو سکی، شانگلہ میں سب سے زیادہ نقصان بالائی پہاڑی علاقوں میں کچے مکانات کے مکینوں کا ہوا،واضح رہے کہ پہاڑی چوٹیوں پر اباد یہ مکانات ،مٹی ،پھتر اور لکڑیوں سے بنائے جاتے ہیں اور اس مکانات میں کوئی سریا اور سیمنٹ استعمال نہیں کیا جاتھا،زلزلہ کے ایک ہفتہ بعد ہونے والے بارشوں اور بالائی علاقوں میں برف باری نے بھی مشکلات میں اضافہ کر دیا ،اور زلزلہ میں کریک مکانات کو بھی گرا دیا ،شانگلہ میں امدادی سرگرمیاں جاری ہے تاہم دور دراز علاقے کے مکین 17دن گزرنے کے بعد بھی مشکلات کے شکار ہیں،شانگلہ میں سردی شروع ہوئی ہے سردی کی شدت میں اضافے سے بھی متاثرین بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں اور بے سروسامان کھلے اسمان تلے رہنے پر مجبوراور شدید مشکلات کا شکار ہیں، ان لوگوں کو معاوضے ادا کئے گئے ہیں،متاثرین نے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، صوبائی وزیر جنگلات،سیکرٹری جنگلات،ڈی سی شانگلہ اور ڈی ایف او شانگلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فلفور متاثرین زلزلہ کو گھر بنانے کیلئے عمارتی کڑیوں کی پالیسی بنائے جائے تاکہ زلزلہ سے تباہ اور خراب ہونے والے گھروں کی دوبارہ تعمیر کا کام مکمل کیا جاسیکں۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -