اندرونِ سندھ کے لوگوں کو آزاد کراکے نئے اور پرانے پاکستان کا فرق بتانا ہے، عمران خان

اندرونِ سندھ کے لوگوں کو آزاد کراکے نئے اور پرانے پاکستان کا فرق بتانا ہے، ...
اندرونِ سندھ کے لوگوں کو آزاد کراکے نئے اور پرانے پاکستان کا فرق بتانا ہے، عمران خان

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی الیکشن پولیس کے ذریعے لڑا جارہاہے، اندرونِ سندھ کے لوگوں کو آزاد کرانا ہے ۔ لوگوں کو بتانا ہے کہ نئے اور پاکستان میں کیا فرق ہے ۔ بلدیاتی انتخابات کے دوران سیاسی مخالفین کے خلاف ایف آئی آرز درج کی جارہی ہیں ، سپیکر کا انتخاب متنازعہ ہے۔

کراچی آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں مخالفین کے خلاف ایف آئی آرز کاٹی گئیں۔ سندھ میں تبدیلی کی خاص طورپر ضرورت ہے بلدیاتی انتخابات میں مقدمات درج کیے جارہے ہیں آج اور کل سندھ کا دورہ کروں گا۔ سندھ میں پولیس کے ذریعے بلدیاتی الیکشن لڑا جارہا ہے اندرون سندھ کے لوگوں کو آزاد کرانا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سندھ میں لوگ مارے گئے 2 دن سندھ کے دورے کے بعد دوبارہ کراچی آو¿ں گا اور یہاں کے لوگوں کو نئے پاکستان کیلئے تیار کروں گا۔

کراچی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کو کراچی کے میئر کا پہلے کیسے پتا چل گیا؟ انہوں نے کہا کہ جب لاءاینڈ آرڈر ٹھیک نہیں ہوگا تو لوگوں کوروزگار کیسے ملے گا۔ پاکستان میں امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا امیر ترین شہر ہونے کے باوجود کراچی میں پانی نہیں ہے اور ٹرانسپورٹ کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔

نئے پاکستان کے خدوخال واضح کرتے ہوئے عمران خان نے بتایا کہ گورننس بہتر کرنے کا مطالبہ پورے پاکستان کا ہے کے پی کے میں سٹیٹس کو کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ لوگوں کو بتانا ہے کہ نئے اورپرانے پاکستان میں کیا فرق ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ نئے پاکستان میں مزید ہسپتال بنائے جائیں گے جہاں کسی کی مداخلت نہیں ہوگی۔ نئے پاکستان میں سکول بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت ہونگے۔ نئے پاکستان کی پولیس غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہوگی۔ نئے پاکستان کا بلدیاتی نظام کے پی کے جیسا ہوگا جہاں ہرکام میرٹ پر ہوگا۔

این اے 122 سے سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق کے انتخاب کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ این اے 122 میں ہونے والا الیکشن اب بھی متنازعہ ہے ساڑھے 4 ہزار ووٹ حلقے سے باہر گئے جبکہ 21 ہزار دوسرے حلقوں کے ووٹ این اے 122 میں منتقل ہوئے جن کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں پتا کہ یہ سب کیسے ہوگیا۔

مزید :

قومی -Headlines -