موسماتی تبدیلی سے زراعت تباہ ہوئی ، حکومت کا اعتراف

موسماتی تبدیلی سے زراعت تباہ ہوئی ، حکومت کا اعتراف
موسماتی تبدیلی سے زراعت تباہ ہوئی ، حکومت کا اعتراف

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سینٹ میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کی زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہم ملینئیم ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکے ‘ چیئرمین رضا ربانی کی زیر صدارت اجلاس میں شیری رحمان نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے تحریک التواءپیش کرتے ہوئے کہا کہ پیرس میں کوپ 21 کانفرنس ہورہی ہے۔ پاکستان نے اپنی موسمیاتی تبدیلی پر کوئی پالیسی بنائی نہ ہی ان کا وزیر بنایا ہمارا ملک دنیا کے تین سب سے زیادہ آلودہ ملکوں میں شامل ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی 21 ویں صدی کا فرنٹ لائن ایشو ہے، ماحولیاتی دباﺅ کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوگا۔ ویزاعظم اگر جارہے ہیں تو پیپلز پارٹی کی بنائی ہوئی پالیسی لے جائیں۔ عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان کو ملینئیم ترقی کے اہداف میں کامیابی نہیں ملی۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان اور بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ کریم خواجہ نے کہا کہ چالیس سال بعد کراچی اور ٹھٹھہ کے ڈوبنے کا اشارہ ہے مگر حکومت نے 2015 ءکے اہداف میں اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ نعمان وزیر نے کہا ہے ہمارا ابھی تک وزیر موسمیاتی تبدیلی ہی نہیں اور اس پر واضح پالیسی تک نہیں بنائی گئی۔ طاہر مشہدی نے کہا کہ ملینئیم ڈویلپمنٹ اہداف اور پائیدار ترقی کے اہداف میں حکومت نے کام ہی نہیں کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ مسئلے سے جنگی بنیادوں پر نمٹا جائے ۔ چیئرمین رضا ربانی نے قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کو خصوصی کمیٹی میں تبدیل کرتے ہوئے مزید چار اراکین مشاہد اللہ خان ، شیری رحمن عثمان سیف اللہ اور عبدالقیوم ملک کو بھی ممبر بنا دیا۔ انہوں نے سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کی گیلر ی میں عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا ،اجلاس کے دوران مشاہد حسین نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین کا عہدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کا ممبر منتخب نہ ہو سکا اور پاکستان کو عرب ممالک نے ووٹ نہیں دیا۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ناکامی کا ثبوت ہے۔

مزید :

اسلام آباد -