تلور کے شکار پر پابندی کے فیصلے کیخلاف متفرق درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

تلور کے شکار پر پابندی کے فیصلے کیخلاف متفرق درخواستوں کی سماعت غیر معینہ ...
تلور کے شکار پر پابندی کے فیصلے کیخلاف متفرق درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پر پابندی کے فیصلے کے خلاف تمام درخواستیں رجسٹر ڈکرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تلور کے شکار پر پابندی کے فیصلے کے خلاف متفرق درخواستوں کی سماعت ہوئی جس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں تضاد ہے کیونکہ اس میں کہا گیا کہ تلور کی نسل ناپید ہے اس لئے پابندی لگائی جا رہی ہے لیکن دراصل تلور کی نسل نایاب ضرور ہے لیکن ناپید نہیں جبکہ درخواست گزار نے بھی عدالت کے سامنے تمام حقائق نہیں رکھے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معاہدوں میں تلور کا شکار منع نہیں کیا گیا تاہم تلور کی نسل کے تحفظ کے اقدامات ضرور تجویز کئے گئے ہیں ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ تلور کے شکار پر پابندی سے خلیجی ممالک سے تعلقات متاثر ہو رہے ہیںجس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے استفسار کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ تلور کے شکار کی کھلی چھٹی دیدی جائے۔ کیا تلور کا شکار صرف پاکستان میں ہی ہو سکتا ہے اور کسی اور ملک میں نہیں ہو سکتا؟ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پاکستان کو ریگستان بنانا چاہتے ہیں، صرف پیسے سے پیٹ نہیں بھرا جا سکتا۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -