المونیم فوائل کے ذریعے گاڑی کو چوری ہونے سے بچانے کا منفرد اور آسان طریقہ

المونیم فوائل کے ذریعے گاڑی کو چوری ہونے سے بچانے کا منفرد اور آسان طریقہ
المونیم فوائل کے ذریعے گاڑی کو چوری ہونے سے بچانے کا منفرد اور آسان طریقہ

  

سٹاک ہوم(نیوزڈیسک)گاڑی کی چوری نہ صرف پاکستان میں ایک مسئلہ بن چکا ہے بلکہ یورپ ممالک میں بھی یہ ایک درد سر ہے۔جیسے جیسے گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ جدید ہورہی ہیں ویسے ہی چور بھی اپنے آپ کو ٹیکنالوجی کے ساتھ اپ گریڈ کررہے ہیں۔

چابی کے بغیر کھلنے اور سٹارٹ ہونے والی گاڑیوں کی چوری بھی ایک انتہائی آسان چیز بن چکی ہے۔لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح کی گاڑی لینے سے چور گاڑی چوری نہیں کرسکیں گے لیکن یہ خیال یکسر غلط ثابت ہوا۔اس طرح کی گاڑیوں کو PKESبھی کہا جاتا ہے اور یہ اس اصول پر کام کرتی ہیں کہ چابی اور گاڑی کے سنسر ہم آہنگ ہوتے ہیں اور جب چابی گاڑی کے سیسنرز کی رینج میں آجاتی ہے تو یہ خودبخود کھل جاتی ہے اور صرف بٹن دبانے پر سٹارٹ بھی ہوجاتی ہے۔

مزید جانئے: ارب پتی حجام، چھوٹی سی دکان سے درجنوں قیمتی گاڑیوں کے مالک تک کا سفر کیسے ممکن ہوا؟ ایسی کہانی کہ عقل کو دنگ کردے

سوئزرلینڈ کی زیورچ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے کچھ ایسے خودکار انٹینے استعمال کئے جن کی مدد سے گاڑی کی رینج کو بڑھا دیا گیا اور جیسے ہی یہ رینج چابی کے پاس پہنچی،گاڑی کھل گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چوروں کے لئے اس طرح کے طریقے آزمانا کوئی مشکل نہیں اوریہ طریقہ 10ہزار روپے سے بھی کم رقم خرچ کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔تحقیق کار جیک نیراڈ کا کہناہے کہ جو لوگPKESوالی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی گای کی چابیوں کو ایلومینیم فوائل میں رکھیں کہ اس طرح گاڑی کا سسٹم چابی کے ساتھ کمیونیکیٹ نہیں کرپائے گا اور گاڑی چوری کرنا ممکن نہ ہوگا۔

مزید جانئے: موٹرسائیکل، کار، ٹرین، بس یا جہاز، سفر کے لئے محفوظ ترین ذریعہ کونسا ہے؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

ایک اور طریقے میں آپ چاہیں تو چابی سے بیٹری کو نکال سکتے ہیں کہ اس طرح پاور نہ ہونے کی وجہ سے چابی اور گاڑی کے درمیان رابطہ نہ ہوسکے گا اور گاڑی نہیں کھلے گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -