سندھ ہائیکورٹ نے مون گارڈن کے مکینوں کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی

سندھ ہائیکورٹ نے مون گارڈن کے مکینوں کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج ...
سندھ ہائیکورٹ نے مون گارڈن کے مکینوں کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بنچ نے پولیس کی جانب سے کراچی کی مون گارڈن سکیم خالی کرائے جانے کے خلاف علاقہ مکینو ں کی درخواست کونا قابل سماعت قرار د ے کر خارج کردیا ۔عدالت نے کہا کہ بلڈرز نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے ۔ مون گارڈن کے مکین چاہیں تو کل اپیل دائر کر سکتے ہیں یا پہلے سے زیر سماعت مقدمے میں فریق بن جائیں۔ شہر قائد میں مون گارڈن کے رہائشیوں کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ عمارت کو خالی کرانے کے حوالے سے پولیس کو دیا جانے والا حکم واپس لیا جائے اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت اپیل کے فیصلے تک مون گارڈن کے فلیٹ خالی نہ کرائے جائیں۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مون گارڈن کے رہائشی قانونی طور پر لیز شدہ فلیٹس میں رہائش پذیر ہیں لہذا فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ دنیا نیوز کے مطابق پراجیکٹ کی بنیاد 1998ءمیں رکھی گئی۔ ماسٹر پلان اور نقشہ 2009ءمیں پاس کرایا گیا۔ دس سال تک بلڈنگ کی تعمیر کی جاتی رہی۔ دستاویزات کے مطابق کے کنٹونمنٹ بورڈ نے پروجیکٹ کے بلاک اے اور بی جبکہ کے بی سی اے نے بلاک سی، ڈی ای اور ایف کے نقشے پاس کئے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس وقت متعلقہ اداروں نے قبضے کی زمین پر تعمیر کی اجازت دی لیکن اب زندگی بھر کی جمع پونچی خرچ کرنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ ریلوے کی چار ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ ان زمینوں پر قبضے کے وقت ریلوے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی؟، اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

مزید :

کراچی -