بھارت کو اس ایک کام سے نہ روکا گیا تو یہ پوری دنیا کا وجود خطرے میں ڈال دے گا، ماہرین نے خبردار کردیا

بھارت کو اس ایک کام سے نہ روکا گیا تو یہ پوری دنیا کا وجود خطرے میں ڈال دے گا، ...
بھارت کو اس ایک کام سے نہ روکا گیا تو یہ پوری دنیا کا وجود خطرے میں ڈال دے گا، ماہرین نے خبردار کردیا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے دوچار ہے اور ان سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر کس رہی ہے۔ ماہرین مسلسل تحقیقاتی رپورٹس کے ذریعے دنیا کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اب ماہرین نے ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ بھارت ماحولیاتی تبدیلی کا باعث بن رہا ہے کیونکہ وہاں صنعتیں اور گاڑیاں دنیا میں سب سے زیادہ مقدار میں کاربن فضاء میں شامل کر رہی ہیں کیونکہ بھارت سرکار نے اس کے انسداد کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رکھے۔ماہرین کی طرف سے یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی برطانیہ کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ دیگر ایشوز کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے معاملے پر بھی حکام سے مذاکرات کریں گے۔

مزید جانئے: مظاہروں کی وجہ سے مودی کو عقبی دروازے سے ٹین ڈاوننگ سٹریٹ لایا گیا، ملاقات کے وقت شیم شیم کے نعرے، میڈیا کے تندہ تیز سوال

توقع کی جا رہی ہے کہ بھارتی وزیراعظم اپنے دورے کے دوران برطانوی حکام سے شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی بنانے کے منصوبوں میں مالی و تکنیکی تعاون کی درخواست کریں گے تاکہ تیل اور کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر انحصار کم ہو سکے۔ جواب میں ممکنہ طور پر برطانوی حکام نریندر مودی پر گرین ہاؤس کو تباہ کرنے والی گیسوں کا اخراج کم کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر میں ماحولیاتی تبدیلی کے متعلق پیرس میں اقوام متحدہ کے زیرانتظام ایک کانفرنس ہونے جا رہی ہے۔ بھارت نے اس کانفرنس سے قبل اپنی معیشت کی بڑھوتری کے تناسب سے کاربن و دیگر نقصان دہ گیسوں کا اخراج کم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ماہرین نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ نریندر مودی نے معیشت میں سالانہ 8.5فیصد بڑھوتری کا تہیہ کر رکھا ہے۔ اگر معیشت کے ساتھ گرین ہاؤس کو نقصان پہنچانے والی گیسیں بھی اسی شرح سے بڑھتی رہی تھی اگلے دس سال بعد بھارت میں ان گیسوں کا اخراج 9ارب میگا ٹن تک پہنچ جائے گا جو دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔

مزید جانئے: سیکولراورجمہوریت پسند بھارت کا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب،دیوالی کی رات ٹینس کی کھلاڑی اجتماعی زیادتی کا شکار

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت سے خارج ہونے والی ان گیسوں کی یہ مقدار پوری دنیا سے خارج ہونے والی نقصان دہ گیسوں کا پانچواں حصہ ہوں گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دنیا کا درجہ حرارت2ڈگری سینٹی گریڈ مزید بڑھ گیا تو دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔ اس سے سمندر کی سطح 38فٹ تک بلند ہو جائے گی اور دنیا کے کئی ساحلی شہر سمندربرد ہو جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے پاس اب بھی ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کا50فیصد چانس ہے۔ اگر تمام ممالک مل کر ان گیسوں کے اخراج کو روکنے کی جدوجہد کریں تو درجہ حرارت کو بڑھنے سے کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -