ہوشیار ،خبردار ۔۔۔۔تکہ کباب اور بار بی کیو کھانے والوں کے لئے امریکی ڈاکٹروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ہوشیار ،خبردار ۔۔۔۔تکہ کباب اور بار بی کیو کھانے والوں کے لئے امریکی ڈاکٹروں ...
ہوشیار ،خبردار ۔۔۔۔تکہ کباب اور بار بی کیو کھانے والوں کے لئے امریکی ڈاکٹروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

  

لندن(ویب ڈیسک)امریکی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ اچھی طرح سے پکا ہوا گوشت گردے کے سرطان کا سبب بن سکتا ہے۔نئی تحقیق کے مطابق کھلے شعلوں اور تیز آنچ پر گوشت پکانے سے، گوشت کینسر کا باعث بننے والے مادوں کو پیدا کرتا ہے۔واضح رہے کہ انسانی جسم میں سرطان کا باعث بننے والے مادوں یا دھاتوں کو 'کارسینو جینک' کہا جاتا ہے۔سائنسی جریدہ ’جرنل کینسر ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا کہ شعلوں پر اعلیٰ درجہ حرارت پر گوشت پکانے یا پھر تیز آنچ پر گوشت پکانے سے گوشت پر مشتمل نقصان دہ کیمیکلز میں اضافہ ہوتا ہے۔تحقیق کاروں کی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ جب گوشت گرل کیا جاتا ہے تو یہ کارسینوجینک مادوں پی ایچ ایل پی (phlp) اور میل کیو ایکس (melQX) کو پیدا کرتا ہے، جو انسانی جسم کی جینیات پر حملہ آور ہونے یا جسم میں خلیوں کے بننے اور ٹوٹنے کے عمل یا میٹا بولزم کو متاثر کرتے ہیں جس کا نتیجہ سرطان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔یونیورسٹی آف ٹیکساس سے منسلک ڈاکٹر زیفینگ وو نے کہا کہ جب گوشت شعلے پر گرل کیا جاتا ہے یا تیز آنچ پر فرائی کرتے ہوئے سرخ کیا جاتا ہے تو یہ گردے کے کینسر کی ایک عام قسم رینل سیل کارسنوما کا سبب بن سکتا ہے۔تحقیق کے نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ گردے کے کینسر میں مبتلا مریضوں کی خوراک میں سرخ گوشت اور سفید گوشت کی مقدار صحت مند افراد کے مقابلے میں زیادہ تھی۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ کیمیکل پی ایچ ایل پی کی اعلیٰ سطح نے گردے کے کینسر کے خطرے کو 54 فیصد بڑھایا تھا جبکہ کیمیکل میل کیو ایکس کی زیادہ مقدار نے کینسر کے خطرے کو دوگنا کیا۔تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر اسٹیفنی میل کونین نے کہا کہ جین کے تجزیہ سے یہ پتا چلا کہ خاص طور آئی ٹی پی آر (ITPR2) نامی جین کی مختلف حالتوں کے ساتھ افراد پی ایچ ایل پی کیمیکل کے مضر اثرات کے لیے زیادہ حساس تھے۔ تاہم ڈاکٹر زیفنگ وو نے غذا میں سے مکمل طور پر گوشت کو خارج کرنے کے لیے نہیں کہا ہے بلکہ اعتدال کے ساتھ کھانے کی ہدایت کی ہے اور پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل ایک متوازن غذا کھانے کا مشورہ دیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -