پانی کے کنارے بیٹھے جنگلی بندر کی ایسی عقلمندانہ حرکت کہ انسانوں کو بھی پیچھے چھوڑدیا،ا یسی ویڈیو سامنے آگئی کہ دنیا بھر کے سائنسدان ششدر رہ گئے

پانی کے کنارے بیٹھے جنگلی بندر کی ایسی عقلمندانہ حرکت کہ انسانوں کو بھی ...
پانی کے کنارے بیٹھے جنگلی بندر کی ایسی عقلمندانہ حرکت کہ انسانوں کو بھی پیچھے چھوڑدیا،ا یسی ویڈیو سامنے آگئی کہ دنیا بھر کے سائنسدان ششدر رہ گئے

  

کوناکرے(مانیٹرنگ ڈیسک) بندوروں اور بن مانسوں کے بعض کام انسانوں سے اس قدر مشابہہ ہوتے ہیں کہ حیران کر دیتے ہیں۔یہ جانور خوراک کے حصول کے لیے مختلف قسم کے اوزار استعمال کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ گزشتہ دنوں مغربی افریقہ کے ملک گنی میں چمپینزی کو ایک ایسا ہی کام کرتے ہوئے دیکھا گیا جس نے سائنسدانوں کو ششدر کر رکھا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق گنی کے شہر بیکاﺅن کے جنگل میں ایک چیمپینزی درخت کی لمبی شاخ کو تالاب سے کائی نکالنے کے لیے بالکل اسی انداز میں استعمال کر رہا تھا جیسے انسان مچھلیاں پکڑنے کے لیے کانٹے اور ڈور کے ساتھ لکڑی کا استعمال کرتے ہیں۔

سانپ کا پھولا ہوا پیٹ دیکھ کر گاﺅں والوں نے سمجھا کہ بکری کھاگیا ہے، جانور نکالنے کیلئے پیٹ پھاڑا تو ایسی چیز برآمد جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا، سب دم بخود رہ گئے

رپورٹ کے مطابق منظرعام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چمپینزی لمبی شاخ کو کاٹنے کی طرح تالاب میں ڈالتا ہے اور پانی کی تہہ میں کچھ دیر گھمانے کے بعد جب اس پر کائی جمع ہو جاتی ہے تو اسے واپس نکال کر کائی کھا لیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگلی حیات پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے اس جگہ تالاب کے کنارے پراسرار قسم کی لکڑی کی شاخیں پڑی دیکھیں تو انہیں تعجب ہوا۔ انہوں نے اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے وہاں خفیہ کیمرے لگا دیئے۔ اگلے ہی روز وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ چیمپنزی ان لکڑیوں کو کائی اکٹھی کرنے کے لیے اوزار کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

تحقیقاتی ٹیم کی رکن ایمی کیلن کا کہنا تھا کہ ”یہ اپنی طرز کا منفرد نظارہ تھا۔ چیمپنزیوں کا یہ رویہ ہم نے دنیا میں کسی اور جگہ پر نہیں دیکھا۔ بیکاﺅن کے چیمپنزی بالکل انسانوں کی طرح شاخ پانی میں پھینکتے ہیں اور کچھ دیر اسے پانی میں گھمانے کے بعد، جب اس پر کائی جمع ہو جاتی ہے تو بڑی احتیاط کے ساتھ واپس نکال کر کائی کھا لیتے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہاں چمپنزی پانی کی گہرائی کے تناسب سے لمبی یا چھوٹی شاخیں استعمال کرتے ہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -