امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ عہدہ سنبھالتے ہی اسرائیل کیلئے کیا کام کرنے والے ہیں؟ ایسی خبر آگئی کہ پوری مسلم دنیا میں شدید بے چینی پھیل گئی

امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ عہدہ سنبھالتے ہی اسرائیل کیلئے کیا کام کرنے ...
امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ عہدہ سنبھالتے ہی اسرائیل کیلئے کیا کام کرنے والے ہیں؟ ایسی خبر آگئی کہ پوری مسلم دنیا میں شدید بے چینی پھیل گئی

  

یروشلم(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ بات تو دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل، امریکہ کابغل بچہ ہے اور ہر امریکی صدر کی اس پر نظرکرم ہوتی ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسرائیل کے لیے ایسا کام کرنے جا رہے ہیں کہ پوری مسلم دنیا میں بے چینی پھیل گئی ہے۔برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے جا رہے ہیں، جو اسرائیلی حکومت کی دیرینہ خواہش ہے۔ اسرائیلی حکومت کے وزاراءاور سیاسی شخصیات نومنتخب امریکی صدر پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ وہ انتخابی مہم میں کئی عشروں پر محیط امریکی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنے کا وعدہ پورا کریں اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کریں۔

خاتون ٹی وی اینکر کا مائیک کھلا رہ گیا، ٹرمپ اور اُن کی اہلیہ کے بارے میں ایسی شرمناک ترین بات کہہ دی کہ جان کر آپ بھی کہیں گے اب خیر نہیں

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ ڈیوڈ فرائیڈ مین نے یروشلم پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ روز کہا ہے کہ ”ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے بعد اپنے وہ تمام وعدے پورے کریں گے جو انہوں نے انتخابی مہم کے دوران کیے تھے۔ یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وعدہ انتخابی مہم کا وعدہ تھا اور ٹرمپ اسے بہرصورت ایفاءکرنا چاہتے ہیں۔ ہم مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک یکسر مختلف تعلق دیکھنے جا رہے ہیں۔“ اسرائیلی حکومت موقع غنیمت جانتے ہوئے امریکہ سے رہی سہی فلسطینی ریاست کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -