’ڈونلڈ ٹرمپ نے اگر یہ کام نہ کیا تو انہیں صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی برطرف کردیا جائے گا‘ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ فتح کے باوجود ٹرمپ کے ہاتھوں کے طوطے اُڑگئے

’ڈونلڈ ٹرمپ نے اگر یہ کام نہ کیا تو انہیں صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی ...
’ڈونلڈ ٹرمپ نے اگر یہ کام نہ کیا تو انہیں صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی برطرف کردیا جائے گا‘ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ فتح کے باوجود ٹرمپ کے ہاتھوں کے طوطے اُڑگئے

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ڈونلڈ ٹرمپ جیسا بدقسمت شخص بھی شاید ہی کوئی ہو کہ ایک جانب وہ امریکہ کا صدارتی الیکشن جیت چکے ہیں تو دوسری جانب ہزاروں لوگ سڑکوں پر ان کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور لاکھوں امریکی یہ سوچ رہے ہیں کہ انہیں صدارتی عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی کس طرح نااہل کیا جاسکتا ہے۔

اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق امریکی سوشل میڈیا پر اس وقت ہزاروں لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ”کیا ڈونلڈ ٹرمپ کا محاسبہ کیا جاسکتا ہے؟“ امریکی قانون کے مطابق سرکاری عہدہ رکھنے والے یا اس کے اہل کسی بھی شخص کے خلاف شواہد موجود ہونے کی صورت میں اس کے محاسبے کی کارروائی کا آغاز کیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ نااہل بھی ہوسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف متعدد جرائم کے الزامات کے تحت مقدمات درج ہیں جبکہ ان کے خلاف فراڈ کا مقدمہ بھی درج ہے۔ امریکیوںکی بہت بڑی تعداد اس بات پر زور دے رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی ان کے خلاف محاسبے کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا جاسکے تاکہ امریکی صدارت کی کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے ہی انہیں نااہل قرار دیا جاسکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف دیگر مقدمات کے علاوہ ٹرمپ یونیورسٹی سے متعلقہ فراڈ کا مقدمہ بھی درج ہے، جس کی سماعت رواں ماہ کے آخر میں شروع کی جائے گی۔

پوری دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب میں مصروف، دوسری جانب دنیا کے مستقبل کیلئے اس سے بھی زیادہ خوفناک خبر آگئی

امریکی قانون کے مطابق صدر کو نکالنے کا طریقہ صرف اس کا محاسبہ ہی ہے، جو کہ دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں صدر کے خلاف حقیقی جرم، طاقت کے غلط استعمال یا عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ ایوان نمائندگان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جو فیصلہ کرتا ہے کہ دستیاب شواہد کے نتیجے میں صدر کا محاسبہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ محاسبے کی عملی کارروائی ایک انکوائری، مباحثے یا ووٹنگ کی صورت میں کی جاتی ہے، جس میں ایوان نمائندگان کے ارکان حصہ لیتے ہیں اگر ارکان کی اکثریت صدر کو مجرم قرار دے تو اس کے محاسبے کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوجاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں مقدمہ سینیٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جس کی جانب سے صدر کی بریت یا برطرفی کا فیصلہ سنایا جاسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یونیورسٹی آف یوتاہ کے نامور قانون دان اور پروفیسر آف لاءکرسٹوفر لیوس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا محاسبہ عین ممکن ہے اور انہوں نے اس ضمن میں 23 صفحات پر مبنی ایک مفصل مضمون بھی تحریر کیا ہے جس میں یہ بتایا ہے کہ کیوں امریکی کانگریس کو چاہیے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا محاسبہ کرے۔

مزید :

بین الاقوامی -