سیاست میں سب سے پہلے ” لوٹا“ کا لفظ کس نے اور کس کیلئے استعمال کیا؟ جان کر آپ بھی کہیں گے ” بہت پرانی تاریخ ہے“

سیاست میں سب سے پہلے ” لوٹا“ کا لفظ کس نے اور کس کیلئے استعمال کیا؟ جان کر آپ ...
سیاست میں سب سے پہلے ” لوٹا“ کا لفظ کس نے اور کس کیلئے استعمال کیا؟ جان کر آپ بھی کہیں گے ” بہت پرانی تاریخ ہے“

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی سیاست میں ” لوٹا“ کی اصطلاح بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے جبکہ اس اصطلاح کا عروج الیکشن کے دنوں میں ہوتا ہے جب ہر پارٹی میں ہی لوٹوں کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری ہوتا ہے۔ لیکن ہم آج آپ کو بتائیں گے کہ سیاست میں سب سے پہلے یہ اصطلاح کس نے اور کس کیلئے استعمال کی تھی۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے پروگرام خبردار میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن آفتاب اقبال نے بتایا کہ لوٹا لوٹنے سے نکلا ہے جس کا مطلب ایسا برتن ہے جس کا پیندا نہیں ہوتا اور وہ لوٹتارہتا ہے۔ سیاست میں یہ اصطلاح سب سے پہلے 1930 میں بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے ڈاکٹر محمد عالم کے بارے میں استعمال کی جو بہت بڑے مسلم لیگی تھے ۔

’پاکستانیو! تاریخ کی خوفناک ترین بیروزگاری کیلئے تیار ہوجاﺅ‘ ماہرین نے انتہائی خطرناک پیشنگوئی کردی

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر محمد عالم نے ان دنوں مسلم لیگ چھوڑ کر اچانک ہی اتحاد المسلمین جوائن کرلی اور پھر وہاں سے کانگریس میں چلے گئے اور پھر دوبارہ مسلم لیگ میں واپس آگئے۔ تھوڑے سے عرصے میں اتنی پارٹیاں بدلنے پر مولانا ظفر علی خان نے انہیں ”لوٹا“ کا خطاب دیا جو بعد میں اتنا زیادہ مشہور ہوا کہ جو شخص بھی پارٹی تبدیل کرتا ہے اس کیلئے یہی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد ڈاکٹر صاحب کو پاکستان آنے پر گلی محلوں میں لوٹا کے نعرے سننے پڑے جس پر وہ اتنے تنگ آگئے کہ واپس انڈیا بھاگ گئے۔

مزید :

لاہور -