بھارت سے ثالثی کا ’’ٹرمپ کارڈ‘‘

بھارت سے ثالثی کا ’’ٹرمپ کارڈ‘‘
بھارت سے ثالثی کا ’’ٹرمپ کارڈ‘‘

  

دنیا پر ’’الیون نائن‘‘کے امریکی صدارتی انتخابات کے غیر متوقع نتیجہ کی شکل میں جو قیامت ٹوٹی یہ’’نائن الیون‘‘کا ہی شاخسانہ ہے نائن الیون کے بعد انتہائی شدت سے عمل اور رد عمل کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہے اسPhenomenonکی بدولت امریکہ ایک ایسی معاشی اور سماجی اور سیاسی ڈھلان پر گامزن ہے جس نے سفید فام لوگوں کے تعصب کو جگا کر انہیں ہمنواء کر دیا ، ’’نائن الیون ‘‘کے بعد کی صورتحال میں سفید فام لوگوں کے جذبات اندر ہی اندر کھول رہے تھے ،سیاہ فام صدر اوبامہ کے 8سال کے طویل عہد نے سفید فام امریکیوں کے صبرکو اس حد تک مات دے دی کہ انہوں نے اپنے آباو اجداد کے اصولوں کی بنیاد یں ہی ہلا دیں ، تاہم اس خطرے کو بھانپتے ہوئے ڈیموکریٹس اپنی بنیادوں کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس کی بنا پر ایک طرف تو سفید فام امریکیوں کے تعصب کا جادو ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں سر چڑھ کر بول اٹھا ہے تو دوسری جانب امریکہ کی جمہوری تاریخ میں پہلی بار ڈیموکریٹس ایک منتخب جمہوری صدر کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں ، مغربی جمہوریت کاسب سے بڑا خاصا عوامی مینڈیٹ پر سر تسلیم خم کرنا ہوتا ہے لیکن امریکیوں کے مابین اتنی بڑی خلیج پیدا ہوگئی ہے کہ اس بار امریکی اس جمہوری اقدار سے بھی منحرف ہوگئے ہیں’’الیون نائن ‘‘نے سرمایہ دارانہ نظام اور جمہوریت کے خلاف ایسے سوالا ت کھڑے کردیئے ہیں جن سے خود امریکہ جمہوریت اور پورے سرمایہ دارانہ نظام کے لئے سنگین مضمرات کے حامل چیلنجز کھڑے کررہے ہیں ، پاک امریکا تعلقات تو الیون نائن سے قبل ہی سرد مہری کا شکار ہیں ڈیموکریٹس جو انسانی حقوق ،جمہوریت اور امن کے داعی سمجھے جاتے ہیں کے دور میں بھی پاکستان کے لئے زیادہ آسانیاں نہیں ہیں حال ہی میں پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی روک دی گئی جبکہ امریکی کانگریس کی جانب سے پاکستان پر پابندیوں کے حوالے سے بازگشت سنائی دیتی رہی ہے ،اس صورتحال میں پاکستان کیلئے ’’ہوم ورک ‘‘باقی دنیا کی نسبت بڑھ گیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح طورپر اسرائیل اور ہندوستان کی جانب سے حمایت حاصل تھی ، ان دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کی اکثریت نے بڑھ چڑھ کر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا ، جبکہ پاکستانیوں نے اپنے انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھے ہوئے تھے ، امریکہ میں مقیم خال خال پاکستانیوں نے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی ، تاہم ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی ساجد تارڑ نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کیلئے مسلمان برائے ٹرمپ نامی ایک بڑا گروپ تشکیل دیا ، درحقیقت ساجد تارڑ کی یہ غیر متوقع پہل پاکستان کو ٹرمپ کیمپ سے عمدہ سفارت کاری کیلئے ممدو معاؤن ثابت ہورہی ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے حوالے سے کلیدی کلیدی بیانات کو سامنے رکھیں تو آگے عشق کے امتحان مزید کڑے ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں مثلاًقارئین کی یاد دہانی کے لئے ڈونلڈٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’پاکستانی غدار اور امریکی ہیرو شکیل آفریدی کو حاصل کرنے کیلئے صرف دو منٹ درکار ہیں ‘‘وہ صدارت کے عہدے پر متمکن ہوکر پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کو ’’سیکیور‘‘کرینگے وغیرہ وغیرہ، تاہم دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق امریکی صدارتی مہم کے دوران پاکستان کا دفتر خارجہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر نہ صرف متفکر رہا بلکہ ان کا باریکی سے جائزہ لے کر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے رہنماؤں سے بھی رابطہ میں رہا ، بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے حوالے سے سنگین نوعیت کے بیانیات پر انکی تشریح و توسیع کیلئے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ٹیم سے جاکر ملتے رہے ، بالخصوص ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے ٹرمپ کے بیان پر ہندوستان نے خوب بغلیں بجائیں اور اس بیان کی یہ تشریح کی کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار

میں آگئے تو وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار قبضہ میں لے لیں گے ، جس پر پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہ کی ٹیم سے جاکر ملاقات کی اور اس بیان بارے استفسار کیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا مقصد پاکستان کے ساتھ مل کر ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے نظام کو فول پروف بنانا ہے ، ان ہتھیاروں کو ’’سیکیور‘‘بنانے کا مطلب ان پر قبضہ کرنا نہیں ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے اور داخلی و خارجہ امور پر مکمل آگاہی کیلئے تقریباً6سے 8ماہ کا عرصہ درکار ہے ، یہ 6سے8ماہ کا وقت ہمارے لئے غنیمت ہے کہ ہم اس عرصہ میں اپنا ہوم ور ک کرکے امریکہ سے پہلے سے سرد مہر تعلقات کو مزید خرابی سے بچاتے ہوئے انہیں گرمجوش کریں ، کیونکہ امریکا تاحال کرہ ارض پر واحد سپر پاور کے طورپر ایک حقیقت ہے جبکہ چین ابھی ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے ، چین کا ہاتھ پکڑنے کا مطلب ہر گزنہیں کہ ہم امریکہ کا ہاتھ چھوڑ دیں یا امریکہ کو ہمارا ہاتھ چھوڑ نے کا موقع فراہم کریں کیونکہ اگر ہم نے روس کو چھوڑ کر امریکہ کی جھولی میں گرنے والی غلطی دوبارہ دہرائی تو پھر ہم چین کی جھولی میں گر جائیں گے ، کسی کی جھولی میں گرنے سے بہتر ہے کہ چین اور امریکہ دونوں کو ہاتھ تھام کر رکھا جائے ، کوئی سینے سے لگتا ہے تو ضرور لگانا چاہئے لیکن کسی کی بھی جھولی میں گرکر ہم خود مختار انداز میں اپنے قومی مفاد کا تحفظ نہیں کر پائیں گے ، ہمیں اقوام عالم سے تعلقات کیلئے رومانس کرنے سے زیادہ قومی مفادات کو ترجیح دینے کا اصول اپنانا ہوگا ، ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ انتخابی بیانات کی سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جائے گاکہ وہ کن شخصیات پر مبنی حکومتی ٹیم تشکیل دیتے ہیں یہ ان کی جانب سے پہلا ٹھوس سگنل ہوگا کہ وہ اپنے انتخابی ایجنڈے کو کس حد تک پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں سیکرٹری آف سٹیٹ کے کلیدی عہدہ کیلئے پاکستان اور افغانستان میں سابق امریکی سفیر ریان سی کروکر کا نام لیا جارہاہے جبکہ عراق جنگ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ایک جرنیل کا نام سیکرٹری آف ڈیفنس کے طورپر گردش کر رہاہے ریان سی کروکر نے حال ہی میں پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی روکنے میں مرکزی کردار ادا کیا تاہم اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت ثالثی کرانے کے اپنے ایک بیان کو عملی جامہ پہنادیا تو یہ واقعی جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کیلئے انکا ’’ٹرمپ کارڈ‘‘ ہوسکتا ہے ۔

مزید :

کالم -