ہیلری کی شکست پر ڈیمو کریٹک پارٹی قیادت کے بحران سے دو چار

ہیلری کی شکست پر ڈیمو کریٹک پارٹی قیادت کے بحران سے دو چار

  

واشنگٹن تجزیاتی رپورٹ(اظہر زمان) امریکی آئینی محاورے کے مطابق ری پبلیکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد صدر بنتے ہی صدر بارک اوباما ’’لنگڑی بطخ‘‘ بن گئے ہیں۔ ٹرمپ جمعرات کو ایک مرتبہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اوباما سے مل بھی چکے ہیں جہاں وہ 20جنوری کو سہ پہر اس دفتر کا مکمل قبضہ لے لیں گے اور آئندہ چار سال کیلئے واحد سپر پاور کے انتظامی سربراہ اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے طور پر کنٹرول سنبھال لیں گے۔ اس دوران سخت مقابلے کے باوجود جامنی ریاستوں کی ’’ بے وفائی‘‘ کے سبب ڈیمو کریٹک پارٹی اپنی امیدوار ہیلری کلنٹن کی شکست کے صدمے اور قیادت کے بحران سے دو چار ہے۔ قیادت کے اہم ستون بوڑھے ہو چکے ہیں اور دیکھنا ہے کہ اس مشکل وقت میں پارٹی کوسنبھالنے کیلئے کون یہ بھاری پتھر اُٹھاتا ہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی صرف صدارتی الیکشن ہی نہیں ہاری بلکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ری پبلیکن پارٹی کی اکثریت بھی ختم نہ کرسکی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ری پبلیکن پارٹی کے صدر کو انتظامی طاقت کیساتھ ساتھ امریکی خزانے کو کنٹرول کرنے والی کانگرس کی بھی تائید حاصل رہے گی۔امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان کی تمام 435سیٹوں کیلئے بھی 8نومبر کو براہ راست انتخاب ہوا۔ دو سال قبل 2014ء میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات کے مقابلے پر ڈیمو کریٹک پارٹی کی اس مرتبہ پوزیشن بہتر ضرور ہوئی لیکن وہ ری پبلیکن کے مقابلے پر اکثریت حاصل نہ کر سکی، ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹک ارکان کی تعداد 186سے بڑھ کر 194 ہو گئی اور ری پبلیکن ارکان کی تعداد246سے کم ہو کر 241ہو گئی۔ سینیٹ کی 34سیٹوں پر موجودہ سال مقابلے کے بعد 100 ارکان کے ایوان میں ڈیمو کریٹک ارکان44سے بڑھ کر 46ہو گئے اور ری پبلیکن ارکان54سے کم ہو کر 52ہو گئے۔اس طرح کچھ کمی آنے کے باوجود ری پبلیکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریتی پارٹی بنی رہی۔اب شکست کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کیا صورت حال اختیار کرتی ہے، یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔ پارٹی کے اندر موثرحلقے زور دے رہے ہیں کہ پارٹی کو سینیٹر برنی سینڈرس اور سینیٹر الزبتھ وارن کے نظریات کے مطابق اپنے تصورات کو مزید ’’لبرل‘‘ بنانا چاہیے، برنی سینڈرس سخت مقابلے کے بعد پرائمری انتخابات میں ہیلری کلنٹن سے ہار گئے تھے لیکن انہوں نے اپنے انقلابی فلاحی،معاشی پروگرام کے ذریعے اپنے حامیوں کا وسیع حلقہ پیدا کرلیا تھا۔ موثر حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ معیشت کی خراب صورت کو سنبھالا دینے کیلئے اسے لبرل فلاحی پروگرام کے ذریعے ایسے طبقے کو ٹارگٹ کرنا چاہیے جس نے تبدیلی کی امیدمیں ٹرمپ کو ووٹ دیا ۔وہ سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ پارٹی قیادت ایک شعوری فیصلہ لے کر ’’ کارپوریٹ ولن‘‘ طبقے سے اپنے آپ کو الگ کرے جو ہیلری کلنٹن کی مہم کیلئے فنڈ فراہم کر رہے تھے لیکن ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ پارٹی قیادت کون سنبھالے اور ایسے مقبول پروگرام پیش کرنے میں کون رہنمائی کرے۔اس پارٹی کو چار سال بعد نئے صدارتی امیدوار کو پیش کرنے سے پہلے دو سال بعد تقریباً دو درجن سینیٹ سیٹوں کا دفاع کرنا ہے۔پارٹی کی اہم قیادت بوڑھی اور عمر رسیدہ ہو چکی ہے، سینیٹر برنی سینڈرس 75سال، سینیٹر الزبتھ وارن 67سال، سینیٹ کے نامزد اقلیتی لیڈر چک شمر 66سال اور کیلیفورنیا کی کانگریس ویمن نینسی پلوسی 76سال کی ہیں۔ پارٹی کی سپریم کمان یعنی ڈیمو کریٹک نیشنل کمیٹی کی چیئر پرسن ڈیبی شلز نے موسم گرما میں پرائمری انتخابات کے ہنگاموں میں ہیلری کلنٹن کے حق میں فضاء بنانے کی ای میل کے افشاء پر استعفیٰ دے دیا تھا اور عبوری طور پر ایک خاتون ڈونا برازیل نے عارضی طور پر یہ عہدہ سنبھالا تھا تاہم اب جنوری میں پارٹی اپنا مستقل سربراہ منتخب کرے گی جو پارٹی لیڈر چیئر پرسن منتخب ہو سکتے ہیں ان میں نیو یارک کے سینیٹر کرسٹن، نیو جرسی کے سینیٹر کورسی بوکر اور منی سوٹا کے کانگریس مین کیتھ انلی سن شامل ہیں۔ جہاں تک ری پبلیکن پارٹی کے مستقبل کا معاملہ ہے اس کا بڑا انحصار اس بات پر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں بیٹھ کر کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ بلاشبہ پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش کے برعکس ٹرمپ کو صدارتی ٹکٹ ملا تھا اور بعض اہم لیڈروں نے ان کو ٹکٹ ملنے کے باوجود ان کی توثیق سے انکار کردیا تھا۔ تاہم اندرونی خبر یہ ہے کہ ٹرمپ کو اسٹیبلشمنٹ نے قبول کرلیا ہے۔وائٹ ہاؤس پہنچ کر جس مفاہمتی اور لچک دار انداز میں بطور نامزد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عنقریب سبکدوش ہونے والے صدر بارک اوباما سے بات چیت کی ہے اور حساس امور پر بریفنگ لی ،اس سے یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھنے والا ٹرمپ انتخابی مہم چلانے والے ری پبلیکن امیدوار سے خاصہ مختلف اور کہیں بہتر ہو گا۔ ٹرمپ کے بارے میں ہچکچاہٹ رکھنے والے ری پبلیکن سپیکر پال رائن نے ’’کام‘‘ کا لفظ دراصل ’’ سمجھوتے‘‘ کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ ٹرمپ کا صدر بننے کے بعداپنے تمام مخالفوں کے بارے میں رویہ نرم ہو چکا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔

مزید :

صفحہ اول -